شہر قائد میں جشن، فائنل اسلام آباد یونائیٹڈ نے جیت لیا

شہر قائد میں جشن، فائنل اسلام آباد یونائیٹڈ نے جیت لیا

  

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی یوم پاکستان روایتی جوش و خروش سے منایا گیا۔ شہریوں نے بڑی تعداد میں مزار قائداعظمؒ پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی،اس کے علاوہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ نو سال کی مدت کے بعد کراچی کے شہریوں نے شہر قائد میں کرکٹ کا شاندار میچ دیکھا اور بھرپور انداز میں دلچسپی اور مزہ لیا۔شہریوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ اتوار کو نیشنل سٹیڈیم میں ہونے والے پی ایس ایل کے فائنل میں ’’اسلام آباد یونائیٹڈ‘‘ فاتح رہی جسے خوبصورت ٹرافی کے علاوہ 6لاکھ ڈالر بھی ملے۔ اس پر مسرت ایونٹ کو دیکھنے کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کراچی آئے۔ وہی اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وزیراعظم کے ہمراہ گورنر سندھ محمد زبیر عمر، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تھے۔ میچ دیکھنے والوں میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری بھی تھے اور مسلح افواج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سمیت اعلیٰ سول اور عسکری شخصیات بھی آئی تھیں۔ بلاشبہ پی ایس ایل فائنل میچ کے کامیاب انعقاد میں پاک فوج پاکستان رینجرز سمیت پولیس اور وفاقی اور صوبائی حکومت کے تمام ذمہ داروں کا یک جان دو قالب کے مصداق کردار رہا۔ اللہ کرے اسی اسپرٹ کے ساتھ تمام ریاستی مشینری فرض شناسی کا ایسا ہی مظاہرہ چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات کو آزادانہ غیر جانبدارانہ صاف شفاف انداز میں کرانے کے لئے کر پائے۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ وطن عزیز میں بھی دنیا کے مہذب جمہوری معاشروں کی طرح آزادانہ غیر جانبدارانہ صاف شفاف انداز میں پرامن ماحول میں انتخابات کی روایات مستحکم ہو سکے گی۔ ورنہ بدقسمتی سے وطن عزیز میں 1970ء کے پہلے عام انتخابات سے لے کر 2013ء تک ہونے والا کوئی عام انتخاب ایسا نہیں ہے جو شکایات اور الزامات سے پاک رہا ہو۔

عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کے اس ارشاد پر کہ وہ 1970ء کی طرح کے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے۔ خوف آ رہا ہے، کیونکہ یہ 1970ء کے انتخابات ہی تھے جس میں غاصب حکمران جنرل یحییٰ خان کے ’’فیصلہ سازوں‘‘ نے اپنی ضرورتوں کے تحت دل کھول کر پری پول رگنگ کے ذریعہ ملک کے دونوں بازوؤں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں جو حکمت عملی اپنائی تھی۔اس نے ’’بیلٹ‘‘ کے تقدس کو پامال کرانے میں نہ صرف ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال ہونے دیا ،بلکہ یحییٰ خان رجیم کے اہم منصب دار الیکشن کو ’’مینی پولیٹ‘‘ کرنے اور کرانے میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ سرگرم عمل رہے۔ مشرقی پاکستان میں ڈے آف پولنگ سات دسمبر 1970ء کیا منظر تھا۔ اس کی منظرکشی ڈاکٹر سجاد حسین نے کی ہے، جو انہوں نے اپنی تصنیف دی ویسٹ آف ٹائم میں جو سقوط ڈھاکہ کے بعد انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کے دور حکومت میں جیل میں اپنی قید کے دوران لکھی تھی۔

وہ لکھتے ہیں کہ پورے مشرقی پاکستان میں بشمول ڈھاکہ ڈے آف پولنگ صبح نو اور دس بجے کے درمیان عوامی لیگ کے مسلح جتھوں نے بندوق کی نوک پر عوامی لیگ کے مخالف امیدواروں کے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر انتخابی کیمپ اکھاڑ دیئے تھے یا جلا دیئے تھے یا انتخابی کیمپوں میں بیٹھے کارکنوں کو جان بچا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ڈاکٹر سید سجاد حسین کسی سیاسی جماعت کے کارکن یا ایکٹوسٹ نہیں تھے، بلکہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے اس وقت وائس چانسلر تھے۔ ڈاکٹر سجاد حسین تحریک پاکستان میں قائداعظمؒ کی قیادت میں حصول پاکستان کی جدوجہد میں فعال اور سرگرم رہے تھے۔ انہوں نے ڈھاکہ میں 1935ء کے مسلم لیگ کے اس اجلاس میں طالب علم کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ جس میں شرکت کے لئے پہلی بار قائداعظمؒ ڈھاکہ آئے تھے۔ ڈاکٹر سجاد حسین خالص بنگالی نژاد بنگالی تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ البتہ زندگی کے آخری سانس تک سچے محب وطن اور قائداعظمؒ کے شیدائی رہے اور اسی جرم میں مکتی باہنی کے مسلح گروہ نے 16دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ کے بعد انہیں اسی یونیورسٹی میں ’’ٹارچر‘‘ کیا جس کے وہ وائس چانسلر تھے اور اس حد تک تشدد کا نشانہ بنایا کہ ان کے خیال میں وہ موت کی نیند سو چکے تھے انہیں مردہ سمجھ کر سڑک پر پھینک کر چلے گئے تھے وہ تو اللہ بھلا کرے ایک رکشا والے کا اس نے دیکھا کہ یہ شخص تو ابھی زندہ ہے۔ وہ خدا ترسی کرکے ہسپتال لے گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد دے کر پولیس کے حوالے کر دیا کیونکہ عوامی لیگ ان کو ’’بنگلہ دیش‘‘ کے غداروں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلامیہ جاری کر چکی تھی۔ ڈاکٹر سجاد حسین کو دو سال بعد عام معافی کے موقع پر رہائی نصیب ہوئی تھی۔ ان کا انتقال ڈھاکہ میں ہی ہوا تھا۔ڈاکٹر سجاد حسین ان دانشوروں میں شامل تھے جن کو محض پاکستان کا وفادار شہری ہونے کی وجہ سے اذیت ناک طریقوں سے ٹارچر کیا گیا تھا، مگر انہوں نے معافی مانگنے کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا قبول کیا۔ آزاد دنیا نے انہیں عوامی لیگ کی حکومت میں ’’ضمیر‘‘ کا قیدی قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر سجاد حسین کا تفصیل سے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ 1970ء کی طرح کے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا عہد کرنے والے تاریخ کے آئینہ میں ان انتخابات کی ’’شفافیت‘‘ کی ’’حقیقت‘‘ جان پائیں۔ یہاں یہ ذکر نامناسب نہ ہوگا۔ اگر اس انٹرویو کا بھی ذکر کر دیا جائے جو عوامی لیگ کے صدر شیخ مجیب الرحمن نے ایک عالمی نشریاتی ادارے کو ڈے آف پولنگ 7دسمبر 1971ء کو دن گیارہ بجے سے ذرا دیر پہلے دیا اور ان کا یہ انٹرویو گیارہ بجے کے بلیٹن میں نشر ہوا، جسے 8دسمبر کے ’’مارننگ نیوز‘‘ نے شائع کیا تھا، جس میں شیخ مجیب الرحمن نے اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو اپنے کتنے امیدواروں کی کامیابی کا یقین ہے۔ شیخ مجیب الرحمن نے کہا تھا کہ چھوکرا لوگ ابھی آیا تھا۔ ہم نے پوچھا کیا پوزیشن ہے چھوکرا لوگ نے جواب دیا۔ سو فیصد ہم بولا نہیں، نہیں، نہیں۔ بڈھا نورلا امین اور راجہ تری دیو رائے کو چھوڑ دینا رات کو بیلٹ بکس سے یہی نتائج برآمد ہوئے تھے یہاں اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنا بالکل غلط اور صحافت کے پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق سے انحراف ہو گا کہ اگر مشرقی پاکستان میں انتخابات صاف شفاف انداز میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہونے دیئے جاتے، تب بھی اکثریتی جماعت تو عوامی لیگ ہی ہوتی، مگر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی صورت میں ان جماعتوں کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو جاتی جن کو اس کے باوجود کم و بیش 20 لاکھ سے زائد ووٹ ملے تھے ۔واضح رہے کہ مشرقی پاکستان میں صرف جماعت اسلامی کے امیدواروں کو ووٹ تو دس لاکھ ملے تھے، مگر اسے نشست صرف مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی میں ایک مل پائی تھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کو مغربی پاکستان میں ووٹ پندرہ لاکھ پڑے اور مشرقی پاکستان میں دس لاکھ پڑے تھے، مگر غلط حکمت عملی کی وجہ سے مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی میں صرف چار نشستیں اور پنجاب، سرحد اور سندھ اسمبلی میں صرف ایک ایک نشست ملی تھی، جبکہ ان کے مقابلے میں مولانا مفتی محمود (مرحوم) کی جماعت نے اس سے کہیں کم ووٹوں کے ساتھ بہتر حکمت عملی کی وجہ سے صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) اور صوبہ بلوچستان سے قابل ذکر نشستیں حاصل کی تھیں۔

آپ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمن کے انداز سیاست سے لاکھ اختلاف کریں مگر مولانا فضل الرحمن اور ان کے والد محترم مفتی محمود (مرحوم) کی اس خداداد صلاحیت کا اعتراف وہ بھی کرتے ہیں جن کو لفظ ملّا، مولانا، اور مولوی کے نام سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ مولانا فضل الرحمن ہر طرح کے سیاسی منظر نامہ میں اپنی اور اپنی جماعت کی سیاسی کامیابی کو یقینی بنانے کی ’’ہنرکاری‘‘ کے فن میں اپنا کوئی دوسرا ثانی نہیں رکھتے۔ ان کے ’’سیاسی علم الکلام‘‘ کا ان کے کسی مخالف کے پاس کوئی توڑ نہیں ہے۔ اس میں کیا شک کہ ان کا گھرانہ سو سال سے دینی جماعتوں کی سیاست سے وابستہ ہے۔ ان کی خوبی اور اچھی بات یہ ہے کہ وہ کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا مافی الضمیر شائستہ انداز میں بیان کرنے پر جو قدرت رکھتے ہیں اس کا کوئی دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ عملیت پسند بڑے قد کاٹھ کے سیاست دان ہیں۔ آج کل وہ سندھ کے دورہ پر ہیں۔ ایم ایم اے کے صدر منتخب ہونے کے بعد اگلے ہی روز اپنی جماعت کے تحت مزار قائد کے سامنے گراؤنڈ میں ایک بڑا شو آف پاور کیا جس میں ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے قائدین نے بھی خطاب کیا۔ اس کے بعد وہ اندرون سندھ، نواب شاہ ، لاڑکانہ، سکھر اور گھوٹکی میں دینی مدارس کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں خطاب کرنے کے بعد پنجاب کا رخ کر چکے ہیں ۔ ان کا پہلا پڑاؤ جنوبی پنجاب کا ضلع رحیم یار خان ہے جہاں وہ بلال بھٹو کی بلٹ پروف گاڑی میں پہنچے۔

قبل ازیں وہ اندرون سندھ لاڑکانہ سمیت کئی دیگر مقامات پر بڑے بڑے شو آف پاور کرکے دکھا چکے ہیں۔ کراچی میں ہونے والا شو آف پاور اگرچہ دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں تو بڑا شو تھا، مگر یہ اس پائے کا بالکل نہیں تھا جو اسی جگہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کرکے دکھا چکی ہے اندرون سندھ اس دورہ میں صرف سکھر میں منزل گاہ گراؤنڈ میں جلسہ عام کیا ہے جس میں حاضری کے حوالہ سے ان کی جماعت کے ایک ذمہ دار عہدے دار اسلم غوری کا اصرار ہے کہ یہ حاضری کسی طور بھی دو پونے دو لاکھ سے کم نہیں ہے، مگر ان کا کیا کیا جائے۔ کوئی جماعت بھی اپنے ان جلسوں کی حاضری جو اگر دس پندرہ ہزار سے بڑھ جائے تو اسے لاکھ دو لاکھ سے کم ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔

جمعرات کے روز کراچی میں مقامی ہوٹل میں کراچی کے صدر قاری محمد عثمان نے شام چار بجے چائے پر چند ایڈیٹرز سے ملاقات کا اہتمام کیا تھا جس میں مولانا نے مختلف سوالوں کے جواب میں جو کچھ کہا اس کا لب لباب یہ تھا کہ دینی جماعتوں کی قیادت کو ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آنے کا راستہ اسٹیبلشمنٹ روک رہی ہے۔ حالانکہ ہم مذہبی اور سیکولر انتہا پسندی کے خلاف سب سے مضبوط حصار ہیں۔ ہم آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں مگر ہماری ملک سے وفاداری پر نت نئے انداز میں سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ میڈیا بھی ہمارے ساتھ انصاف نہیں کر رہا، ہمارے دس سے پندرہ پندرہ لاکھ کے اجتماعات کو الیکٹرانک میڈیا چند سیکنڈ سے زیادہ کوریج نہیں دیتا، جبکہ دین مخالف قوتوں کے چند سو کے اجتماعات کو بھی گھنٹوں کوریج دی جاتی ہے۔ یہ مولانا کا اپنا موقف ہے جس سے سو فیصد اتفاق مشکل ہے البتہ پرنٹ میڈیا سے ان کو زیادہ شکایت نہیں ہے۔ سینئر اخبار نویسوں سے بات چیت میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے 2018ء کے انتخاب میں کراچی اور اندرون سندھ سے 2002ء کے عام انتخاب سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے بحران کا حل نسلی اور لسانی سیاست کے بجائے قومی سیاست میں ہے۔ ایم ایم اے جی ڈی اے سمیت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے پورے سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے گی۔ عمران خان کے بعد ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے سندھ بھر میں سیاسی سرگرمیوں سے نسلی اور لسانی سیاست کی جگہ قومی ایشوز کی سیاست کو فروغ ضرور ملے گا۔

الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم کی کنونیئر شپ سے ہٹا دیا ہے اس کے سیاست پر اثرات کے حوالے سے آئندہ بات ہوگی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -