جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی تلواریں ایم ایم اے مگر دل حکومتوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں

جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی تلواریں ایم ایم اے مگر دل حکومتوں کے ساتھ ...

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل کے باقاعدہ صدر اور جماعت اسلامی کے قائد لیاقت بلوچ ایم ایم اے کے مرکزی سیکرٹری جنرل بن گئے باقی مذہبی جماعتوں کے قائدین کو حسب روایت دیگر چھوٹے موٹے برائے نام عہدے دے کر مجلس عمل کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل کر لیا گیا مذہبی جماعتوں کا یہ اتحاد تخت اسلام آباد تک رسائی کیلئے بنایا گیا تاہم حسب سابق انتخابی نعروں میں اسلام اور اسلامی نظام کے نفاز کا نعرہ سیاست کا محور رہے گا ایم ایم اے کے منشور کے مطابق تنظیمی ڈھانچے کے اعلان کے ساتھ ہی جے یو آئی اور جماعت اسلامی کو بالترتیب وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے علیحدگی کا اعلان کرنا چاہئے پہلے تو ایم ایم اے کے تنظیمی ڈھانچے کے قیام میں تاخیر کی جاتی رہی جس کی وجہ سے دونوں جماعتیں اپنی اپنی مخلوط حکومتوں سے چمٹی رہیں اور اب تنظیمی ڈھانچے کے اعلان کے بعد یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ دونوں مذہبی سیاسی جماعتیں اپریل میں حکومتوں سے علیحدگی کا اعلان کرینگی سو یہ بات وہی ہوئی کہ مذکورہ دونوں جماعتوں کی تلواریں مخلوط حکومتوں کے ساتھ مگر دل ایم ایم اے کیلئے دھڑک رہا ہے اسی مجبوری کی بناء پر دونوں جماعتیں حکومتوں کے اختتام سے صرف ایک ماہ قبل علیحدگی اختیار کریں گی جب عام انتخابات کیلئے انفرادی سیاست ان کی مجبوری بن چکی ہو گی جے یو آئی س کے قائد مولانا سمیع الحق کو جے یو آئی ف سے شدید تحفظات ہیں تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کو ترجیح دی مگر سینیٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف کی واضح حمایت کے باوجود بری طرح شکست نے جے یو آئی س کیلئے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے مولانا سمیع الحق نے تحریک انصاف کیلئے ایم ایم اے کو چھوڑا مگر تحریک انصاف بھی مولانا موصوف کے کسی کام نہ آئی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم و بیش 60 کروڑ روپے کی امداد دینے کے باوجود کیا جے یو آئی س کے کارکن عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حق میں اپنا ووٹ بنک استعمال کرینگے؟ یقیناًیہ ایک ایسا اہم سوال ہے جس پر جے یو آئی س اور تحریک انصاف دونوں کے رہنما سنجیدگی کے ساتھ غور کر رہے ہیں تحریک انصاف کے کارکن جے یو آئی س کے کسی امیدوار کو ووٹ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے اسی طرح جے یو آئی س کے کارکن کی اکثریت میں تحریک انصاف کے مقابلے میں ایم ایم اے کی طرف واضح جھکاؤ رکھتے نظر آ رہے ہیں مگر اب شاید بہت دیر ہو چکی ہے بہرحال پاکستان کی سیاست میں کچھ ناممکن نہیں اور نہ ہی کوئی مستقل دوست اور کوئی مستقل دشمن ہے پاکستان کی سیاست میں دوست اور دشمن (حلیف اور حریف) موسم کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں آنے والے دنوں میں تحریک انصاف اور جے یو آئی س کا اتحاد قائم بھی رہ سکتا ہے اور اس پر نظرثانی کی گنجائش بھی موجود ہے۔بلاول بھٹو نے بنوں کی آزاد فضاؤں میں آزادانہ خطاب کیا اس جلسے میں میں ان کے والد بزرگوار آصف علی زرداری موجود نہ تھے بلاول بھٹو کی آمد کے پیش نظر جلسے میں نہ صرف کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی بلکہ صوبائی رہنماؤں میں سے بھی کئی ایسے چہرے سٹیج پر خطاب کرتے نظر آئے جو آصف علی زرداری کے جلسوں میں غائب پائے گئے تھے بنوں کے جلسے میں کارکنوں اور عہدیداروں اور رہنماؤں کا جوش و خروش دیدنی تھا کارکن جذباتی انداز میں کھل کر نعرے لگا رہے تھے جبکہ بلاول بھٹو تحریک انصاف کو للکارتے رہے بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں عمران خان اور ان کی صوبائی حکومت پر زبردست تنقید کی بلاول بھٹو نے عمران خان کو انٹر نیشنل جھوٹے کا خطاب دیتے ہوئے کہا کہ اگر جھوٹوں کا عالمی میلہ منعقد کیا جائے تو اس میلے کا تاج عمران خان کے سرسجے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پاکتان کی سیاست میں جھوٹ ، جوتا اور گالی کی سیاست کو فروغ دیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں صاحب دوسروں کو چابی والا کھلونا کہتے تھے مگر اب اپنی چاپی ڈھونڈتے پھر رہے ہیں خیبر پختونخوا میں کرپشن پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گئی سرکاری اداروں کو غلط تجربوں کی بناء پر تباہ کر کے رکھ دیا گیا سی پیک اور ترقی صوبے میں کہیں نظر نہیں آتی تمام سیاست فیس بک پر کی جا رہی ہے اور فیس بک پر ہی خیبر پختونخوا ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کیں اب بھی پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرے گی اس موقع پر انہوں نے جے یو آئی (ف) پر دوستانہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن فاٹا کے انضمام کی بھر پور مخالفت کررہے ہیں میں پوچھتا ہوں کہ آخر مولانا صاحب آپ کو فاٹا کے ساتھ کیا دشمنی ہے ؟ بلاول بھٹو نے جے یو آئی (ف) کے خلاف ایک جملہ کہنے کے بعد زباں بندی کر لی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے اتحادیوں میں جے یو آئی بھی شامل ہو گی بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) پر کڑی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ 2018کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا بھی صفایا ہو جائے گا۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے خیبر پختونخوا کا رکن کر لیا وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہلے مانسہرہ تشریف لائے جہاں انہوں نے پارٹی کی رکنیت ساری مہم کا آغاز کیا اس کے بعد ایبٹ آباد میں جلوہ افروز ہوئے جہاں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنی کابینہ کے ہمراہ سٹیج پر موجود رہے دومقامات پر عمران خان نے صرف حسب روایت مسلم لیگ (ن) پر کڑی تنقید کی اس موقع پر انہوں نے بلاول بھٹوکا قرضہ اتارتے ہوئے آصف علی زرداری کو بھی خوب اپنے نشانے پر رکھا انہوں نے کہا کہ زرداری ڈاکو ہے اور شکل سے بھی ڈاکو لگتا ہے مسلم لیگ کے متعلق تنقید کرتے ہوئے عمران خان کی داستانیں سنسنی خیر انداز میں سناتے رہے عمران خان ہزارے ڈویژن میں اپنا ووٹ بنک بنانے کیلئے غیر معمولی محنت کر رہے ہیں عمران خان یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ایبٹ آباد موٹروے کے افتتاح اور سی پیک کے تحت شاہراہوں کی تعمیر کے بعد لاھور کے بعد ہزارہ ڈویژن مسلم لیگ (ن) کا دوسرا بڑا گڑھ بن چکا ہے ہزارہ کے لوگوں کی بھاری اکثریت تمام تر تحفظات کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کی تعریف کر کے اسے ووٹ دینے کی بات کرتی ہے۔عمران خان ہزارہ ڈویژن میں مسلم لیگ کی کرپشن کی کہانیاں مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں ہزارہ کے عوام سب کچھ سن کر ایک جملے پر بات ختم کر دیتے ہیں مسلم لیگ نے اگر کرپشن کی ہے تو کام بھی کیا ہے اس کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت میں کوئی قابل ذکر اور قابل تعریف کام بھی نہیں ہوا اور کرپشن کے سیکنڈل آئے اور سامنے کہ رہے ہیں 2018کے انتخابات میں دونوں پارٹیوں کیلئے یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ وہاں کے لوگ کسی کو ووٹ دیتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1