ملتان، سیاسی سرگرمیوں کا مصروف شہر بن گیا،گروہ بندی!

ملتان، سیاسی سرگرمیوں کا مصروف شہر بن گیا،گروہ بندی!

ملکی سیاست میں کئی اتار چڑھاؤ کے باجود با لا خر موجودہ حکمران پانچ سال مکمل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جو جو وقت قریب آ رہاہے اس کے ساتھ ساتھ ان سیاسی رہنماؤں کے دعوے غلط ثابت ہو نا شروع ہوگئے ہیں جو اپنے سیاسی جلسوں جلوسوں اور دھرنوں میں اس وقت سے اعلان اور دعوے کرتے ہوئے نظر آرہے تھے جب سے موجود ہ حکمران ابھی حلف لے کر پارلیمنٹ سے باہر بھی نہیں آئے تھے ان تمام سیاسی چالوں اور مشکلات کے باوجود مسلم لیگ نے نے چار سال دس مہینے مکمل کر لئے اب آئندہ انتخابات میں چند ماہ باقی رہ گئے ہیں جبکہ ملک کے اہم ادارے الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریاں شروع کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں ووٹر فہرستوں کی درستگی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے جو 26 مارچ سے شروع ہو کر 24اپریل تک جاری رہے گا اس کے بعد دوسرے مرحلے میں ووٹر فہرستوں کو مکمل کرنے کا عمل شرو ع ہو گا الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کی تیاریاں دیکھ کر ان رہنماؤں کے چہروں کے رنگ بھی اڑنا شرو ع ہو گئے ہیں جو بار بار یہ کہتے تھے کہ انتخابات نہیں ہوں گے۔

گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے دو اہم سیاسی رہنماء سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کے درمیان سیاسی نوک جھونک جاری ہے ملتان سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاست دان مخدوم اور جاوید ہاشمی نے گزشتہ روز ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودھری نثار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چودھری نثار ملک کو آئین کے مطابق چلنے دیں اور مجھے خاموش رہنے دیں وہ آج تک اپنے گھر کے علاقہ چکری سے الیکشن نہیں جیت سکے میاں نواز شریف نے مجھے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ آپ جہاں سے بھی الیکشن لڑیں گے آپ کے مقابلے میں امیدوار نامزد نہیں کریں گے میرے پاس تو ٹکٹ ہے چودھری نثار کے پاس ٹکٹ نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ چودھری نثار کے اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات ہیں میں تو ابھی کسی جماعت میں نہیں ہوں لیکن میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف اور ان کی فیملی سے اچھے تعلقات ہیں اور میری دونوں بھائیوں سے بے تکلفی ہے میں صوبائی اسمبلی کا امیدوار نہیں ہوں البتہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑوں گا چودھری نثار اور مخدوم جاوید ہاشمی ایک کمان کے دو تیر ہیں اگر ان دونوں تیروں کے رخ دیگر مخالفین کے بجائے آمنے سامنے ہو گئے تو ان دونوں کو تو نقصان کا سامنا کرنا ہی پڑے گا اس کے ساتھ ساتھ ان کی کمان کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا بظاہر تو مخدوم جاوید ہاشمی کا مسلم لیگ(ن)سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی چودھری نثار مسلم لیگ (ن) سے لا تعلق ہو ئے ہیں لیکن حالات بتاتے ہیں کہ مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کی طرف اڑان بھر رہے ہیں جبکہ چودھری نثار مسلم لیگ (ن) سے اڑان لے رہے ہیں قومی سیاست میں ان دونوں رہنماؤں کی اپنی اپنی حیثیت ہے اگر مسلم لیگ (ن)کی قیاد ت ان دونوں رہنماؤں کے مابین شروع ہونے والے اختلافات ختم کرا دیتی ہے تو یہ تنظیم کے لئے بہتر ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چےئر مین مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے بھی اپنے انتخابی حلقوں میں دورے شرو ع کر کے روٹھوں کو منانا شرو ع کر دیا ہے اب مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کی کوشش ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت ملتان اپنے حلقے میں گزاریں کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر خان ترین کے اپنے آبائی حلقے میں علی ترین کی شکست کے بعد پی ٹی آئی کے کئی رہنماء محتاط ہو گئے ہیں مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے گزشتہ دنوں اپنے حلقے میں طوفانی دورے کئے اور ا س دوران اپنے خطابات میں مسلم لیگ (ن) اور پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

مذہبی جماعتوں کے اتحا د متحدہ مجلس عمل کا معرض وجود میں آنے کے بعد اس کے عہدیداروں کا اعلان کر دیا گیا ہے ماضی میں جب متحدہ مجلس عمل کا وجود ممکن ہوا تھا اس کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومت بن گئی تھی لیکن جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے مابین ہونے والے اختلافات کے باعث یہ اتحاد جلد ہی اختلافات کا شکا ر ہو گیا تھا لیکن اب ان تمام اختلافات کو پہلے ہی طے کر لیا گیا ہے جس کے باعث ماضی میںیہ اتحاد ٹوٹا تھا۔ جمعیت علماء اسلام کے قائد اور متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کے چار روزہ دورے پر ملتان آئے جہاں انہوں نے قاری حنیف جالندھری سمیت دیگر علماء کرام سے ملاقاتیں کیں اور متحد ہ مجلس عمل کو بھر پور انداز میں سپورٹ کرنے کی درخواست کی ۔

ملتان میں الیکشن کمیشن کی طرف سے نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے مقامی سطح پر بھی گروپ بندیاں شروع ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے مےئر گروپ آئندہ آنے والے دنوں میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے ایک طرف رانا محمود الحسن کے سنیٹر بننے اور ملک رفیق رجوانہ کے گورنر بننے کے بعد سیاسی حالات تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ ہر مہینے کئی دنوں پر مشتمل دورے پر ملتان آ رہے ہیں اپنے دورہ ملتان کے دوران گورنر صاحب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے ملک آصف رجوانہ جو کہ متوقع طور پر ایم این اے کے امیدوار ہیں، کے حلقے میں وقت گزاریں اور لو گوں سے ملاقاتیں کریں تاکہ ان کے بیٹے کی سیاسی پوزیشن بہتر ہو سکے جبکہ دوسری طرف سنیٹر رانا محمود الحسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مےئر ملتان کے خلاف چےئر مینوں کے بننے والے اتحاد ملتان ڈویلپمنٹ گروپ کی سرپرستی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سابق صوبائی وزیر عبدالوحید ارائیں اور مےئر ملتان نوید ارائیں کو آنے والے دنوں میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزارت مذہبی امور نے ڈیڑھ مہینے کی تاخیر کے بعد سرکاری کوٹہ پر حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے جانے والے 50فیصد عازمین کرام کی قرعہ اندازی کرکے ان کی تربیت کا آغاز کر دیا ہے لیکن تاحال 17فیصد کی قرعہ اندازی نہ ہو سکی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں عازمین کرا م شدید مشکلات کا شکا رہیں وہ قرعہ اندازی کے انتظار میں بنکوں سے اپنی رقم بھی واپس نہیں نکلوا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص مذہبی فریضے حج کی ادائیگی سے پرائیویٹ سیکٹر کو بے دخل کیا جائے کیونکہ لوگوں کو پیسے کمانے کے لئے اور بے شمار کاروبار موجود ہیں حج کی ادائیگی کے تمام تر انتظامات سرکار خود کرے کیونکہ سرکاری حج دو لاکھ 80ہزار جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں حج کے اخراجات پانچ لاکھ روپے سے دس لاکھ روپے تک آ رہے ہیں اس خاص مذہبی فریضے میں بھی بڑے اور چھوٹے کی تقسیم کر دی گئی ہے جوکہ افسوسناک ہے۔

مزید : ایڈیشن 1