ٹیکس سلیب کے سبب سگریٹ کی غیر قانونی تجارت میں غیر معمولی کمی

ٹیکس سلیب کے سبب سگریٹ کی غیر قانونی تجارت میں غیر معمولی کمی

  

لاہور (کامرس رپورٹر)ایف بی آر کے تیسرے درجے ٹیکس سلیب کے سبب سگریٹس کی غیر قانونی تجارت میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ماہرین کے مطابق امید کی جارہی ہے کہ اس اقدام سے پاکستان میں قانونی سگریٹ انڈسٹری سے اضافی آمدنی ملے گی۔دستیاب اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سگریٹس کے بڑھتے ہوئے غیر قانونی کاروبار کے باعث ملک میں قانونی سگریٹس سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن سال 2013-14میں کم ہو کر 88.40 بلین تک گر گئی۔2014/15 میں یہی آمدن 102.88 بلین، 2015/16 میں 114.19 بلین اور2016/17 میں 83.69 بلین رہی۔یہی وجہ ہے کہ تمباکو سیکٹر سے آمدنی میں کمی کی وجہ ملک میں غیر قانونی سگریٹس کی ڈیمانڈ میں اضافہ تھا جو کہ قانونی سگریٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی ہیں۔ غیر ٹیکس ادا شدہ سگریٹس کی 20 سگریٹوں کی ایک ڈبی ملک کے کونے کونے میں 30روپے تک کی انتہائی ازراں قیمتوں میں دستیاب ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ قیمت قانونی سگریٹس کی کم از کم فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے بھی کم ہے جو کہ قانونی سگریٹ کی ایک ڈبی پر لاگو ہوتی ہے۔سال 2016کے اختتام تک پاکستان میں غیر قانونی سگریٹس کے کاروبار کا حجم مجموعی کاروبار کے40فیصد کے برابر تھا۔اس ضمن میں ایف بی آر نے قابل عمل تیسرے درجے کا ٹیکس سلیب متعارف کرانے کا فیصلہ کیا جس کی روشنی میں سگریٹ کی کم از کم قیمت فروخت کو نافذ کرکے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت جرمانے بھی متعارف کرائے گئے۔ماہرین کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ رواں مالی سال میں اس مد میں کتنی آمدنی متوقع ہے، تاہم ابتدائی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے، اور اس کے باعث دو بڑی سگریٹس بنانے والی کمپنیوں نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی ادائیگی میں اپنی پہلے والی پوزیشن کی جانب بڑھنا شروع کردیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سگریٹس کے کاروبار پر قابو پانے کے لیے سخت کارروائیوں اور تمباکو پر موجودہ ٹیکس پالیسی پرتسلسل کے ساتھ اس کی روح کے مطابق عمل درآمدکو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -