چیف جسٹس کو انتخابات میں تاخیر کی بات نہیں کرنی چاہئے ،مجھے میمو گیٹ کیس سے دور رہنا چاہیے تھا : نواز شریف’’ہائے اس ذود پشیماں کاپشیماں ہونا‘‘خورشید شاہ

چیف جسٹس کو انتخابات میں تاخیر کی بات نہیں کرنی چاہئے ،مجھے میمو گیٹ کیس سے ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی ) سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے انٹرویو اور ڈاکٹرائن سے متعلق تبصرے دیکھ رہا ہوں اور ان کے خیال میں کوئی چیز مسائل پیدا کر رہی ہے تو اس کا سدباب ہونا چاہیے،سیاستدانوں اور پرویز مشرف جیسے لوگوں میں فرق سمجھنا چاہیے، میمو کیس سے دور رہنا چاہیے تھا، کیس بنانے میں کون سی دیر لگتی ہے؟ جواز ہو یا نہیں، کیس بن جاتے ہیں،توقع کرنی چاہئے کہ کوئی انتخابی عمل میں رخنہ نہ ڈالے، ووٹ امپائر کی انگلی سے نہیں لوگوں کے انگوٹھوں سے ملیں گے،وزیراعظم ایک سفیر نامزد کرتا ہے اور آج اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں،نیب سے بہتر قانون لایا جا سکتا ہے۔ منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے کمرے میں میڈیا نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کی مدت میں 2 ماہ رہ گئے ہیں اور چیف جسٹس کے انٹرویو اور ڈاکٹرائن سے متعلق تبصرے دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو انتخابات میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی بھی بات نہیں کرنی چاہیے، اگر ان کے خیال میں کوئی چیز مسائل پیدا کر رہی ہے تو اس کا سدباب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ توقع کرنی چاہئے کہ کوئی انتخابی عمل میں رخنہ نہ ڈالے، ووٹ امپائر کی انگلی سے نہیں لوگوں کے انگھوٹھوں سے ملیں گے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کے لیے قیمت ادا کی اور ادا کر بھی رہا ہوں، سب جانتے ہیں میں سگنل لینے والا بندہ نہیں، میرے خلاف یلغار کی بڑی وجہ آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تاہم اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔نواز شریف نے کہا کہ جب آصف زرداری پر میمو کیس بنایا گیا تو مجھے اس سے دور رہنا چاہیے تھا اور میرا میمو کیس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ کیس بنانے میں کون سی دیر لگتی ہے؟ جواز ہو یا نہیں، کیس بن جاتے ہیں اور میرے کیس میں پراسیکیوشن اور گواہوں سمیت کسی کو معلوم نہیں کہ کرپشن کب ہوئی، وزیراعظم ایک سفیر نامزد کرتا ہے اور آج اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص نتائج حاصل کرنے کے لیے پرویز مشرف نے نیب بنایا جسے 2002 کے انتخابات سے قبل بری طرح استعمال کیا گیا اور خدشہ ہے کہ نیب کو اسی طرح اب پھر ہمارے خلاف استعمال کیا جائے گا، اس بات کا احساس آج تجربات کے بعد ہو رہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مارشل لا ادوار کے قوانین ایک ہی بار ختم کر دینے چاہئیں، نیب سے بہتر قانون لایا جا سکتا ہے، ہماری ایک آئیڈیالوجی اور سوچ ہے جس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ واجد ضیا گھنٹوں پرویز مشرف کے دروازے کے باہر بیٹھے رہتے تھے، کمرہ عدالت میں موجود واجد ضیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان سے پوچھیں میں نے کیا کرپشن کی ہے؟۔صحافی نے سوال کیا پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کے لئے راحیل شریف نے آپ سے کہا تھا جس پر نواز شریف نے کہا کہ فی الحال ان باتوں کا وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سیاستدانوں اور پرویز مشرف جیسے لوگوں میں فرق سمجھنا چاہیے، پرویز مشرف بیماری کا بہانہ کرکے اسپتال میں چھپ گیا اور میں اپنی بیٹی کے ساتھ عدالت میں موجود ہوں اور الزامات کا سامنا کر رہا ہوں۔نواز شریف نے مزید کہا کہ پرویز مشرف مکے دکھا کر کہتا تھا کہ نواز شریف اور بے نظیر کبھی واپس نہیں آئیں گے اور آج وہ وطن واپسی سے متعلق جھوٹ بولتا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا چوہدری نثار کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ آپ مشرق کی بات کرتے ہوئے مغرب نکل جاتے ہیں ۔ پنجاب ہاؤس میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ شاید پہلے میں نظریاتی نہ ہوا ہوں لیکن اب میں سو فیصد نظریاتی ہوں‘ اگر پاکستان میں ووٹ کو عزت دی گئی ہوتی تو پاکستان دنیا کے صف اول کے دس ملکوں میں شامل ہوتا‘ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ہمیں قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا‘ محمود خان اچکزئی پاکستان اور جمہوریت کی بالادستی کی بات کرتے ہیں ان کے بیان ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ منگل کو نواز شریف نے پنجاب ہاؤس میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ستر سال ہم گنوا بیٹھے ہیں اس کے باوجود ہمیں خیال نہیں آتا کہ ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا ہے یہ سب کچھ ہمیں بدلنا ہوگا۔ شاید پہلے میں نظریاتی نہ ہوں لیکن اب میں سو فیصد نظریاتی ہوں۔ اب عوام کو بھی نظریاتی بننا پڑے گا۔ نظریاتی بنے بغیر ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانا صحیح نہیں ہوگا۔ ووٹ کو عزت دو تو پھر دل سے ہیہ کرلو ستر سال سے اگر ہم نے ووٹ کو عزت دی ہوتی تو اس خطے میں پاکستان صف اول کا ملک ہوتا اور پوری دنیا میں پاکستان پہلے دس ملکوں میں شامل ہوتا۔ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے ہمیں قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا اس معاملے پر میری اچکزئی صاحب کے ساتھ کمٹمنٹ ہے کیونکہ یہ پاکستان اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں محمود خان اچکزئی کے بیان ہم سب کے لئے مشعل راہ ہونے چاہئیں۔

نواز شریف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس کے درمیان ملاقات کوئی غیر معمولی بات نہیں،ہمارے دور میں بھی ایسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔جیو کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ اس وقت حکومت کے خلاف بہت سے کیسز چل رہے ہیں، چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات کا وقت بہت خاص ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اورچیف جسٹس کی ملاقات شکوک اور شبہات میں اضافہ کرے گی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ میاں صاحب نے جو آج بات کی وہ مجھ سے 5 ،6 مہینے پہلے بھی کی تھی ان کے اس غلطی کے اعتراف پر میں یہی کہہ سکتا ہوں ’’ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘‘ ۔خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف نے مجھ سے کہا تھا کہ میمو گیٹ کی غلطی ان سے کرائی گئی، یہ بات میاں صاحب سے کس نے کرائی میں نے نہیں پوچھا۔خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی سے جیسا سلوک رکھا وہ ہم نے بھلا دیا تھا، نواز شریف نے مجھ سے کہا تھا کہ میموگیٹ کی غلطی ان سے کرائی گئی تھی، نواز شریف کے قدم نااہلی کرانے کیلئے عدالت گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے قدم نواز شریف کے گھر جمہوریت کی مضبوطی کیلئے گئے تھے، نظریہ ایک دن میں نہیں آتا، نظریہ انسان کی سوچوں میں ہوتا ہے، حادثاتی طور پر انسان نظریاتی نہیں بنتا، جب پھنس جاتا ہے تو وہ نظریاتی ہوجاتا ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف نظریاتی ہوئے تو کامیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بلاول اور آصف زرداری سے کہا ہے کہ نگراں وزیراعظم کیلئے کور کمیٹی اجلاس بلائیں، نگراں وزیراعظم کیلئے میرے ذہن میں ایک نام ہے۔اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ نگراں وزیراعظم کیلئے پی ٹی آئی سے بھی بات کی ہے، شاہ محمود قریشی سے 8 تاریخ کو ملاقات طے تھی لیکن وہ نہیں آسکے۔انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی 9 مارچ کو آئے اور ملاقات ہوئی، شاہ محمود قریشی کو اکیلے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، شاہ محمود نے کہا وہ ٹیم کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں۔رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ نے کہا کہ میں بیگم کلثوم نواز کی صحت کیلئے دعاگو ہوں، اللہ کلثوم نواز کو صحت عطا فرمائے، وہ اچھی خاتون ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ دہرے معیار نہیں اپنانے چاہئیں، نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دے دینی چاہیے، نواز شریف کو روکنا نہیں چاہیے اس سے ہمدردیاں بڑھیں گی۔مسلم لیگ ن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ میرا کیا کام کہ میں نوازشریف کے ساتھ ہوں یا چوہدری نثار کے ساتھ، میری اپنی پارٹی ہے اور میں اپنی پارٹی کے ساتھ ہوں۔بلوچستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ بلوچستان میں نئی پارٹی کا اضافہ اچھی بات ہے، ہم نے ووٹ دیے ہیں، چیئرمین سینیٹ کو اون کرتے ہیں۔نگراں وزیراعظم کے حوالے سے خورشید شاہ نے کہا کہ ان کی اس سلسلے میں وزیر اعظم سے ایک دفعہ بات ہوئی ہے، ابھی نگراں وزیراعظم کے نام پر بات نہیں ہوئی۔ڈالر کی قدر میں اضافے کے حوالے سے خورشید شاہ نے کہا کہ ڈالر جون تک 120 سے 122 روپے تک جائے گا، وزیراعظم معاشی بحران پر گفتگو کیلئے اپوزیشن کو دعوت دیں، وزیراعظم معاشی بحران پر گفتگو کیلئے بلائیں گے تو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کو قرضے پر بڑھائیں تو ایسی حالت ہوتی ہے، حکومت نے موٹروے اور ایئرپورٹس تک گروی رکھ دیے ہیں۔

خورشید شاہ

لاہور(نمائندہ خصوصی ) پاکستان پیپلزپارٹی نے نواز شریف کے میموگیٹ سے متعلق اعتراف پر ان سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف جتنے بھولے بنتے ہیں اتنے ہے نہیں وہ ایک بار پھر قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں ، نواز شریف کو اب سمجھ آیا کہ میموگیٹ میں عدالت میں نہیں جانا چاہیے تھا، انکا دھورا اعتراف کافی نہیں،ہم کئی بار جمہوریت کی خاطر نواز شریف کے دھوکے میں آئے، اب نواز شریف کی میٹھی میٹھی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ منگل کو نواز شریف کے میموگیٹ سے متعلق اعتراف پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا کہ نواز شریف کو اب سمجھ آیا کہ میموگیٹ میں عدالت میں نہیں جانا چاہیے تھا تاہم وہ آج بھی بددیانتی سے کام لے رہے ہیں ادھورا اعتراف کافی نہیں، نواز شریف جمہوریت کے خلاف جرائم پر قوم سے معافی مانگیں، یہ کیسے لیڈر ہیں جنہیں اتنی سمجھ نہیں کہ کس معاملے میں عدالت میں جانا چاہیے اور کس میں نہیں۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ بدقسمتی سے ایسا شخص مینڈیٹ چرا کر تین بار ملک کا وزیراعظم بنا، نواز شریف جتنے بھولے بنتے ہیں اتنے ہے نہیں، وہ ایک بار پھر قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی 35 سالہ سیاست جمہوریت کے خلاف سازشوں سے بھری ہے، ہم کئی بار جمہوریت کی خاطر نواز شریف کے دھوکے میں آئے تاہم اب نواز شریف کی میٹھی میٹھی باتوں میں نہیں آئیں گے۔قمر زمان کائرہ کاکہناہے کہ نواز شریف کے اپنے پا?ں جلے تو انقلاب کی باتیں یاد آگئیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کاکہنا ہے کہ سی پیک کی کل انویسٹمنٹ بھی ملکی خسارے کا آدھا نہیں،عوام سے مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عوام مہنگائی میں اضافے پرنالاں ہے لیکن حکومت کا دعوی ہے کہ سب اچھا ہے۔ قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ حکومت سب اچھاہے کا راگ الاپ رہی ہے لیکن حالات اس کے مخالف ہے ،پنجاب میں بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہواہے جبکہ گزشتہ روز سے لیڈی ہیلتھ ورکرزبھی سراپااحتجاج ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ سب اچھا ہے تو یہ احتجاج کون کر رہا ہے۔ قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ درآمدات اوربرآمدات کافرق دگناسے بھی زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں آئینی ادارے میثاق جمہوریت کی وجہ سے ہیں، پیپلزپارٹی نے 92 فیصد میثاق جمہوریت پر عمل کیا، 8 فیصد نواز شریف کی وجہ سے عمل نہیں کیا جاسکا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وزیر اعظم ایوان بالا کے چیئرمین پر گرج کرہے ہیں، ایوان بالا بچا ہوا تھا یہ اب اسے بھی گالیاں دینے لگ گئے ہیں، سینیٹ میں ن لیگ کا امیدوار جیت جاتا تو انہیں سب شفاف لگتا، کیا وزیر اعظم صدر مملکت کی وفاداریاں بھی گنوانا چاہتے ہیں۔پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ حلقہ بندیوں پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتراضات ہیں، ہم اپنے اعتراضات الیکشن کمیشن میں لے جارہے ہیں، حلقہ بندیاں درست کی جائیں تاکہ الیکشن کا انعقاد وقت پر ہوسکے۔

مزید :

صفحہ اول -