سرکاری گوداموں میں 3سال سے ذخیرہ 20لاکھ ٹن گندم کو پھپھوندی لگنے کا خطرہ

سرکاری گوداموں میں 3سال سے ذخیرہ 20لاکھ ٹن گندم کو پھپھوندی لگنے کا خطرہ

  

لاہور(اسد اقبال)گندم کی سر کاری خریداری کے حوالے سے بنائی گئی ناقص حکمت عملی کے باعث رواں گندم سیزن میں ایک مر تبہ پھر مڈل مین کی'چاندی'ہو جائے گی کیونکہ محکمہ خوراک انتظامیہ کی جانب سے چھوٹے کسانوں کے لیے سخت قوانین سمیت سیاسی وڈیرہ سسٹم کی اجارہ داری کے تحت کاشتکاروں سے گندم خریدنے کی بجائے سیاسی کھاتے میں اپنی گندم بیچنے کے لیے سر گرم عمل ہو چکا ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں محکمہ خوراک اور حکومت کی جانب سے 10لاکھ ٹن گندم کاکم ہدف رکھنے کی قوی اطلاعات کے پیش نظر کاشتکار استحصال سے دوچار رہیں گے ۔دوسری جانب سرکاری گوداموں میں گزشتہ تین سال سے زخیرہ کر دہ 20لاکھ ٹن گندم کو پھپھوندی لگنے کا اندیشہ بھی لاحق ہے جس سے حکومت کو اربوں روپے نقصان کا سامنا اٹھانا پڑے گا ۔ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت بیشتر علاقوں میں حکومت کی جانب سے قائم کر دہ خریداری مراکز تاحال مکمل طور پرفنگشنل نہ ہو سکے ہیں اور نہ ہی باردانہ کی تقسیم چھوٹے کسانوں کو کی گئی ہے ۔کاشتکار تنظیموں نے حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کی پالیسی اناؤنس نہ کر نے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اوروزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ خسارے کی تجارت سے کسانوں کو بچایا جائے اور خریداری مراکز پر چیک اینڈ بیلنس کے لیے مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے۔سربراہ متحدہ کسان محاذ ایو ب خان میؤنے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کسانوں سے گندم خریدنے کے لیے نہ تو کوئی پالیسی کا اعلان کر سکی ہے اور نہ ہی پنجاب بھر میں سرکاری مراکز کو فنگشنل کر سکی ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کو حل کر نے کے لیے کوئی میکنزم تر تیب نہ دیا ہے جس سے پنجاب کے کسان استحصال سے دوچار ہیں۔ زرعی مداخل اور ان پٹ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے باوجو د گزشتہ تین سال سے گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہے جو کاشتکاروں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے دوسری جانب مڈل مافیا ایک بار پھر سر گر م ہو کر کسانوں سے اونے پونے داموں گندم خرید رہا ہے جبکہ سر کاری مراکز پر گندم خریداری کا معاملہ نہایت سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال سر کلر ڈیڈ کم اور حکومت مقرر کر دہ ہدف سے کم گندم خرید کر سب اچھا کا واویلہ کر ے گا تاہم درحقیقت اس ملک کا کسان بیج ، زرعی آلات بجلی ،پانی اور کھاد کی ہوشر با قیمتوں کے باعث نقصان سے دوچار ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -