خیبرپختونخوا میں بچے اور خواتین غذائی کمی کا شکار ہیں:ڈاکٹر جہانگیر خلیل

خیبرپختونخوا میں بچے اور خواتین غذائی کمی کا شکار ہیں:ڈاکٹر جہانگیر خلیل

پشاور( سٹاف رپورٹر) لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی میں) World Nutrition Month ( منانے کے سلسلے میں تقریب کا اہتمام کیاگیا ہسپتال ترجمان ذوالفقارعلی باباخیل کے مطابق پاکستان اور خاص طور پر خیبر پختونخواہ میں بچے اور خواتین غذائی کمی کا شکار ہیں تقریب کی خاص بات خصوصا بچوں میں غذائی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اس کے نتائج پر روشنی ڈالی گئی تقریب کے مہمان خصوصی ہیلتھ کیئر کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر جہانگیر خلیل نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہ میں غذائی کمی کو پورا کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں انھوں نے کہاکہ صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں Nutritionists کو تعینات کیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر غذا کی کمی کے شکار بچوں کے علاج معالجے اور غذائی ضروریات کے بارے میں والدین کو بھی آگاہ کررہی ہیں یونیسف کی سلمی خاتون نے غذائی کمی کے شکار بچوں کے لئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا ایل آر ایچ کی نیوٹریشنسٹ بشری خلیل نے کہا کہ بچوں میں غذا کی کمی کو دور کرنے کے لئے والدین کے لئے آگاہی نہایت ضروری ہے کیونکہ بچے والدین کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اس لئے والدین کو چاہیے کہ بچوں کی غذا کا خیال رکھے انھوں نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں غذا کی کمی کی وجہ سے بچوں کے وزن اور قد پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں جن کا وقت پر تدارک کرنا ضروری ہے تقریب کے دیگر شرکا میں پروفیسر ڈاکٹر عامر غفور ٗ ڈاکٹر شہریار ٗ پروفیسر ڈاکٹر سلیم خان ٗ ڈاکٹر فضل مجید اور پروفیسر افضل خٹک نے ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے مفید معلومات فراہم کیں اور کہا کہ ماؤں کو چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کو دوسال کی عمر تک ضرور دودھ پلائے تاکہ وہ غذائی کمی کا شکار نہ ہوں شرکاء نے کہا کہ حکومت آر ایچ سی اور بی ایچ یو لیول پر نیوٹریشن کو تعینات کررہی ہے جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے خصوصی طور پر بچے اور خواتین مستفید ہوسکیں گے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول