یونیورسٹیز کی خود مختاری کو وڈیروں کی جاگیر نہیں بننے دیں گے :حافظ نعیم الرحمٰن

یونیورسٹیز کی خود مختاری کو وڈیروں کی جاگیر نہیں بننے دیں گے :حافظ نعیم ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ یونیورسٹیز ترمیمی بل شہریوں کے مستقبل پر حملہ ہے ، سندھ حکومت مراعات کے حصول کے لیے گھناؤنے اقدامات کررہی ہے ، ہم یونیورسٹیز کو کسی وڈیرے کی اوطاق اور جاگیر نہیں بننے دیں گے اور اس بل کے خلاف ہر فورم پر آئینی و جمہوری طریقے سے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ 8اپریل کو یونیورسٹیز ترمیمی بل کے خلاف عظیم الشان کنونشن ہوگا ۔جس میں تعلیم دوست ،باشعور طبقہ ،اساتذہ ،وکلا، ڈاکٹرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں افراد شریک ہوں گے ۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ خود این ای ڈی کے طالب علم رہے ہیں ان کو چاہیئے کہ وڈیرہ شاہی سوچ کو ترک کریں اور ہماری اس تحریک کا حصہ بنیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب پر جماعت اسلامی کے تحت چلائی جانے والی ’’تعلیم بچاؤ، یونیورسٹی بچاؤ‘‘ یونیورسٹیز ترمیمی بل کے خلاف مہم کے سلسلے میں لگائے گئے احتجاجی کیمپ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کیمپ سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، جے آئی یوتھ کراچی کے صدر حافظ بلال رمضان ، جنرل سکریٹری عارف غزنوی اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ صوبہ سندھ میں تعلیم کی بد ترین صورتحال ہے ، سرکاری اسکول تباہ وبرباد ہوچکے ہیں ، میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے پوچھنا چاہتاہوں کہ وہ سندھ کے اب تک ایک بھی سرکاری اسکول کو ایسا کیوں نہیں بنا سکے جس میں ان کے بچے تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ 1972ء کے ایکٹ میں پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے جامعات کو خود مختاری دی آج یہ لوگ جامعات سے ان کی خود مختاری غصب کررہے ہیں اور سند ھ کی جامعات کو بھی اسکولوں اور کالجوں کی طرح تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شکار پور جو علم کا شہر کے نام سے جانا جاتاہے کہ لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے آج تک ایک بھی یونیورسٹی وہاں نہیں بنائی ، ٹھٹھہ میں کوئی سرکاری اسکول ایسا نہیں ہے جس میں بچے تعلیم حاصل کرسکیں ، تعلیم کے حوالے سے پورے سندھ کا برا حا ل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت تمام اداروں پر قبضہ کر کے وڈیرہ شاہی کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے ، واٹر بورڈ ، کے ایم سی اور دیگر اداروں پر قبضہ کر کے ان اداروں کو تباہ و برباد کردیا ہے اور اب یونیورسٹیز اور جامعات کو اصطبل اور اوطاق میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز ترمیمی بل لسانی مسئلہ نہیں اسے لسانی مسئلہ بنا کر پیش کی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ہم اس تحریک کے ذریعے سندھ کے شہری اور دیہی دونوں جگہوں کے مظلوم عوام کی بات کررہے ہیں۔حکمران طبقہ وائس چانسلر کو کمیشن ایجنٹ کے طور پر بھرتی کرنا چاہتا ہے جس سے جامعات اور یونیورسٹیز کا نظام تباہ و بربا د ہوجائے گا۔ سندھ حکومت داخلہ پالیسی کو اپنے قبضے میں لے کر گھوسٹ اور کرپشن کے نظام کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ کراچی شہر مختلف کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کا شہر ہے اگر داخلہ پالیسی تبدیل کی گئی تو اس سے سندھ سمیت کراچی کے عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ہم ترمیمی ایکٹ کے مسئلے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے باشعور طبقے سے رابطے میں ہیں اور اس بل کے خلاف ہر آئینی و جمہوری طریقے سے جدوجہد کریں گے ۔ترمیمی ایکٹ کالا قانون ہے ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور سندھ حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ اس بل کو واپس لے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گورنر سندھ سے بھی بات کی ہے کہ اس بل کو منظور نہ کریں اگر اس بل کو واپس نہ لیا گیا تو ہم عدالت کا راستہ بھی اختیار کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی بات کرتی ہے یہ کیسی جمہوری حکومت ہے 1984ء سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کروائے گئے تاکہ جامعات سے لیڈر شپ تیار نہ ہو اور ان کی وڈیرہ شاہی ختم نہ ہو ۔ انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم جو شہریوں کے حقوق کی بات کرتی ہے جن کے 50صوبائی اسمبلی کے ممبر ہے اور 20سے زائد قومی اسمبلی کے ممبر ہے اس کے باوجود تعلیم کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرتے ۔ شہر میں کے الیکٹرک اور نادرا کے مسئلے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور کراچی کے انفراانسٹریکچر پر کوئی احتجاج نہیں کرتے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سینٹ الیکشن میں خرید و فروخت کا دھندا اس مسئلہ میں بھی کرلیا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اب کراچی کے شہری مزید دھوکے میں نہ آئیں اور تما م طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ تعلیم کی بقاء کے لیے جماعت اسلامی کی اس تحریک کا حصہ بنیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -