ملی مسلم لیگ انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی ،محمد اسلم ربانی

ملی مسلم لیگ انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی ،محمد اسلم ربانی

رستم(انٹرویو۔ محمدسہراب خاکسار) ملی مسلم لیگ آئندہ عام انتخابات پورے ملک کے قومی و صوبائی حلقوں سے لڑیگی اور ایسے امیدواران سامنے لائیگی جو نظریہ پاکستان کا حامی ہو، مقبوضہ کشمیر کو عملی طور پاکستان کا حصہ بنائینگے ، جس مسلک سے تعلق ہو مگر نظریہ پاکستان کا حامی ہونے کے ناطے ملی مسلم لیگ کے ٹکٹ پرآئندہ عام انتخابات میں کھڑا ہو سکتا ہے ، ملی مسلم لیگ کا مقصد خدمت انسانیت ہے و وطن عزیز پاکستان کے ہر گلی کوچے میں لوگو ں کو ان کے گھروں میں ہر ممکن اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی ، آئندہ ماہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ورکرز کنونشن کاآغاز کرینگے اور اپریل کے اندر پورے پاکستان میں کنوئرز مکمل کر دینگے اور رکن سازی مہم کا آغاز بھی اپریل ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار ملی مسلم لیگ کے مرکزی رہنماء محمد اسلم ربانی نے تحصیل رستم کے دورے کے دوران روزنامہ پاکستان سے خصوصی انٹرویو میں کیا اس موقع پر ان کے ساتھ حافظ مرصد ، حذیفہ اور ملی مسلم لیگ تحصیل رستم کے صدر حافظ خالد بھی موجود تھے ۔ محمد اسلم ربانی کا کہنا تھا کہ اگر ملی مسلم لیگ کو موقع ملا تو اسمبلی فلور پر دین اسلام عام کرنے ، مسلہ کشمیر کو حل کرنے ، کرپشن ، بے روزگاری ، اقلیت کے حقوق ، دہشتگردی کے خاتمے اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرینگے ۔تعلیمی نصاب میں اسلامی علوم اور قرآن پاک کا ترجمہ نصاب میں میں شامل کرینگے تاکہ سکولوں میں دین اسلام کے متعلق بچوں اور نوجوانوں کو آگاہی حاصل ہو سکے انہوں نے کہا کہ اردو زبان ہمارا قومی زبان ہے کوشش ہو گا کہ اداروں میں اپنا قومی زبان اردوکو نافظ کراینگے جس قوم کی اپنا زبان اداروں میں چلتا ہو وہی قومیں ترقی کی طرف گامزن ہیں ملک پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بھر پور طریقہ سے کام کرینگے کہ پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کی سوچ اور علامہ اقبال کی خواب کی تکمیل والا پاکستان اور 1973آئین کے مطابق پاکستان بنائینگے ملک کی سلامتی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرینگے اور قوم کا دفاع کرینگے ۔ انٹرویو کے دوران منشور کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کو ایسے نوجوان فراہم کرینگے جو ایک وقت پر تیراک ، ریسکیور ، فائر فائٹرز اور وقت کے مطابق ہر شعبہ میں اپنا کردار ادا کریگا ، ملک بھر میں یونین کونسل کی سطح پر ڈسپنسری اور تحصیل سطح پر پر معیاری ہسپتال قائم کئے جائینگے ، محلے کی سطح پر خدمت کمیٹیاں بنائی جائیں گی تاکہ غریب اور پسے ہوئے طبقے کی بے لوث خدمت کی جا سکے ، گلی محلے کی سطح پر نادار ، یتیم ، بیوگان اور مستحقین کی فہرستیں مرتب کرکے ان کی ہر ممکن مدد کرتے ہوئے انہیں معاشی طور پر خود کفیل ہونے میں مدد دی جائیگی اس مقصدکے تحت غرباء و مساکین کو رکشے اور ریڑھیاں وغیرہ جبکہ بیوگان میں سلائی مشینیں تقسیم کی جائیگی ، تمام ضلعی و تحصیلی ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی جائیگی ، اندرون ملک معیاری ادویات بنائی جائیگی نیز جو ادویات درآمد کی جائیگی ان پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا ، حفظان صحت کے بارے میں میڈیا کے زریعے قوم کو شعور دیا جائیگا تاکہ بیماریاں کم سے کم پھیلیں ، صحت کے شعبے میں بجٹ میں اضافہ کیا جائیگا اور تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی مفت سہولیات فراہم کی جائیگی ، منشیات کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے اور وبائی امراض کے خاتمہ کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے ۔ اقلیتوں کے تحفظ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کا حکم دیا ہے پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل حقوق دیئے جائینگے ، اقلیتوں کو ان کے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی جائیگی اور ان کے عباد ت خانوں کا تحفظ کیا جائے گا ساری اداروں میں روزگار کے مکمل حقوق دیئے جائینگے ، اقلیتوں کے علاج معالجے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائینگے ، تھرپار کر سندھ ، بلوچستان ، شمالی علاقہ جات اور دیگر دور دراز علاقوں مں موجود اقلیتوں کے لئے واٹر پروجیکٹس ، ڈسپینسریاں ، ہسپتال اور رہائشی پروجیکٹس قائم کئے جائینگے۔خواتین کے حقوق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا ، غیر اسلامی معاشرتی رسموں ، مثلابھاری جہیز ، قرآن سے شادی ، وٹہ سٹہ ، کاروکاری یا غیرت کے نام قتل کا سد باب کیا جائیگا ، خواتین میں شرح خواندگی بڑھانے اور ان کی تعلیم و تربیت کے لئے زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جائیگی ، طالبات کو ان کے قریب ترین میڈیکل کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں میں داخلہ دیا جائیگا ، خواتین کے لئے وویکشنل ٹینگ سنٹر کھولے جائینگے اور جائیداد میں اسلام کا مقرر کردہ حق خواتین کو دلوایا جائیگا ، تعلیمی اداروں ، دفاتر اور دیگر مقامات پر خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائیگا تاکہ کسی جگہ اٹھیں ہراساں کرنے کے واقعات پیش نہ آئیں اور وہ ملکی تعمیرو ترقی میں بہتر طور پر حصہ لے سکیں ۔مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دین اسلام نے محنت کی عظمت اور مزدوروں کے حقوق بیان فرمائے ہیں اگر ملی مسلم لیگ کو موقع ملا تو ملک میں ایسا نظام ترتیب دیا جائیگا کہ مزدو رکو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری ملے ، رزق حلال اور اپنے ہاتھ سے کمانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی، خون پسینہ ایک کرکے حلال روزی کمانا عین عبادت اور اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے ملک میں محنت کشوں کا استحصال نہیں ہونے دیا جائیگا ، ملک میں ایسا موحول پیدا کیا جائیگا کہ اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کرکے بچوں کا پیٹ پالنے والے محنت کشوں کی سماجی حیثیت ، عزت اور وقار بلند ہو ، ملکی صنعت ، تجارت اور زراعت میں اسلام کے عادلانہ اصولوں کے مطابق آجر اور اجیر کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا ۔ملکی ترقی اور معاشی استحکام کے سوال میں ان کا کہنا تھا کہ منشور کے مطابق وطن عزیز پاکستان کو جلد از جلد غیر ملکی قرضوں سے نجات دلوائی جائیگی اور خود انحصاری کی پالیسی اپنائی جائے گی سی پیک جیسے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور چین سمیت برادر اسلامی اور مغربی ملکوں سے تجارتی تعلقات مزید مستحکم کئے جائینگے رشوت ،ذخیرہ اندوزی ، لاٹری ، جوا، گراں فروشی ، اسمگلنگ اور اس قسم کی دیگر برائیوں کے خاتمے کے لئے جدوجہد کی جائے گی تاجروں و صنعت کاروں کو خصوصی تحفظ دیا جائے گا کاروبار میں سہولتیں پیدا کی جائیگی اور ناجائز ٹیکس ختم کئے جائینگے ، ملک میں زکوۃ و عشر کا شعور دیا جائیگا اور پسماندہ لوگوں ک مدد کی ترغیب دی جائیگی گداگری کا ہر ممکن سد باب کیا جائیگا متوسط طبقہ کو چھوٹی سطح پر کاروبار کرنے یا روز گار کا کوئی اور ذریعہ اختیار کرنے کے لئے بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے گا نوجوانوں کو نوکری کے انتظار میں فارغ رہنے کی بجائے ذاتی کام و کاروبار کا شعور دیا جائیگا کسانوں و زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیگی اور انہیں سودی قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ سے نجات دلائی جائیگی ٹیکسوں کے نظام کی اصلاح کرکے اسلامی نظام معیشت کو لاگو کیا جائے گا ۔خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنے کے لئے قائد اعظم کے دیئے ہوئے اصولوں پر مبنی مضبوط خارجہ پالیسی مرتب کی جائے گی تمام ممالک کے ساتھ برابری ، بقائے باہمی اور عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے جائینگے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائیگا اور مسلم امہ کے اتحاد کے لئے ہر ممکن کوششیں کی جائیگی پاکستان کے تشخص کو بین الاقوامی سطح پر بہتر کی جائیگی اور بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائیگی قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لہٰذا بین الاقوامی دنیا پر زور دیا جائیگا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے مسلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کے لئے مضبوط سفارت کاری کی جائیگی کشمیر ی مہاجرین کی مالی و اخلاقی مدد کی جائیگی تاکہ ان کی محرومیوں کا ازالہ ہو اور بہتر زندگی گزار سکیں ۔ عدل و انصاف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاشرے کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لئے عدل و انصاف کا قیام نہایت ضروری ہے اسلامی شریعت کی روشنی میں لوگوں کو انصاف کی فراہمی ملی مسلم لیگ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے سستا اور فوری انصاف ہر شہری کا حق ہے دیوانی اور فوجداری مقدمات کا فیصلہ مخصوص مدت میں کرنے کے لئے نظام و ضع کیا جائے گا پولیس کلچر اور ماورائے آئین جعلی مقابلوں کی حوصلہ شکنی کی جائیگی اور جو کوئی اس قبیح جرم میں ملوث پایا گیا اسے قانون کے مطابق سزا دی جائیگی ۔ یوتھ کے بارے انہوں نے کہا کہ ملی مسلم لیگ نوجوانوں کو پاکستان کا سرمایہ اور سب سے بڑی قوت سمجھتی ہے لہٰذا اس سلسلے میں درج ذیل امور پر توجہ دی جائیگی جس میں نوجوانوں کی نظریاتی ، فکری اور قومی اقدار پر تربیت اور اصلاح کے پروگرام تشکیل دیئے جائیگی ،نوجوانوں کو سکالر شپس دی جائیگی اور ان کے لئے مفت تعلیم و روزگار کے مواقع فراہم کئے جائینگے نوجوانوں کو ریلیف ، ریسکیو، فائر فائٹنگ اور دیگر کورسز کروائینگے تاکہ انسانیت کی خدمت کی جاسکے سیاسی انتشار اور عدم برداشت کے رویوں کے برعکس برادشت ، تحقیق اور نصیحت کے انداز کو فروغ دیا جائیگا ،صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے ضلع اور تحصیل سطح پر نوجوانوں میں کھیلوں کو فروغ دیا جائیگا ، نوجوانوں میں کھیلوں کے مقابلے کروائے جائینگے اور اس بنیاد پر ان کی حوصلہ افزائی کے لئے وظائف اور تحائف دیئے جائینگے۔دہشت گردی کے خاتمے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اللہ کا بہت بڑی نعمت ہے فتنہ تکفیر اور خارجیت کی بنیاد پر دھماکے و خود کش حملے یا فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے شدید مخالف ہیں اور اس کی بیخ کنی کے لئے اپنا کردار ادا کرینگے مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر خون بہانا کسی طور جائز نہیں نظریاتی بنیادوں پر نوجوان نسل کی رہنمائی کے لئے خصوصی لٹریچر شائع کرکے تقسیم کیا جائیگا تاکہ انہیں ذہنی انتشار و خلفشار سے بچایا جا سکے وطن عزیز پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ، لسانیت اور صوبائیت برستی ختم کرنے کے لئے ملک گیر سطح پر بھر پور جد وجہد کی جائیگی میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمہ اور امن و امان کے قیام کے لئے لوگوں میں شعور بیدار کیا جائیگا کہ اصل معنوں میں پاکستان امن کا گہوارہ بنے ۔ انٹرویو کے آخرمیں انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان کی اساس در حقیت دین اسلام ہی ہے ہمیں اپنی قوم کے ہر فرد کو اسی اساسی نظریہ سے وابستہ کرنا ہے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ملک میں اتحاد و یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے قیام پاکستان والے جذبے پیدا جائینگے اور قوم کے ہر طبقہ میں نظریہ پاکستان کو اجاگر کیا جائیگا نظریہ پاکستان سے روگردانی سے آزادی و خومختاری قائم رکھنا ممکن نہیں ملی مسلم لیگ ’’نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے ‘‘کے تحت پوری قوم کو مجتمع کرینگے اور اس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لئے پاکستانی عوام کی ذہن سازی کی جائیگی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر