واٹر کمیشن ،ڈی جی سیہون ڈیویلپمنٹ اتھارٹی منیر سومرو کو ہٹانے کی ہدایت

واٹر کمیشن ،ڈی جی سیہون ڈیویلپمنٹ اتھارٹی منیر سومرو کو ہٹانے کی ہدایت

کراچی (اسٹاف رپورٹر)واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے نالوں کی صفائی ستھرائی اور قبضوں سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کو اجلاس کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ کمیشن نے ڈی جی سہیون ڈیویلپمنٹ اتھارٹی منیر سومرو کو ہٹانے کی ہدایت اور ڈی سی ملیر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیئے رپورٹ سپریم کورٹ کو ارسال کرنے او سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے فور کے خلاف 22 مرتبہ روٹس بدل کر سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا معاملہ نیب کو بھیجنے کی ہدایت کردی۔کمیشن نے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق ایم ڈی سائیٹ کو نوٹس جاری کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق واٹر کمیشن کا اجلاس جسٹس ر امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ہوا۔ مئیر کراچی وسیم اختر ، میئر حیدرآباد سید طیب حسین سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا سیکرٹری بلدیات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے میٹنگ ہو گئی۔ نالوں کی صفائی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ کمیشن نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے استفسار کیا کہ نالوں سے تجاوزات کیسے ختم کریں گے۔ وسیم اختر نے کا کہ کچھ نالوں پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں, کہیں معمولی تجاوزات قائم ہیں۔نالوں کے کچھ حصوں پر کے الیکٹرک کا سامان رکھا ہے۔ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے آپ جگہوں کی نشاندہی کریں, کے الیکٹرک حکام کو طلب کرلیتے ہیں۔ موسی لین میں واقع نالے کے تجاوزات سے کارروائی ہوئی۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ موسی لین نالے پر بلند عمارتیں بن چکیں, گرانا بہت مشکل ہے۔ نالوں پر قبضوں سے متعلق جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے آغا مقصود سے مکالمہ میں کہا کہ کیا چاہتے ہیں کہ میں ہر جگہ جا کر خود معائنہ کروں۔ کمیشن نے وسیم اختر سے بھی مکالمہ میں کہا کہ بتایا جائے کراچی کے نالے کتنے عرصے میں صاف ہوں گے۔ میئر کراچی نے کہا کہ صفائی شروع کردی مگر تجاوزات کا مسلہ رکاوٹ ہے۔ سندھ حکومت سے فنڈز درکار ہیں, فنڈر ملنے پر کام شروع ہوجائے گا۔ کمیشن نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں پورے شہر میں گھومتا رہتا ہوں۔ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ وسیم اختر نے کہا کہ نالوں پر قائم نرسریاں ختم ہوچکیں۔ 3,4 دن سے پی ایس ایل میں مصروف تھے۔ کمیشن نے کہا کہ موسی لین کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کا پی ایس ایل سے کیا تعلق ہے۔ میئر کراچی نے بتایا گلاس ٹاور نالے کی صفائی شروع کردی ہے۔ سیکرٹری بلدیات محمد رمضان نے مئیر کراچی سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں پیسے نہیں ملے جو ملے ان کا کیا ہوا۔ پہلے جو پیسے دیے گئے ان کا کیا ہوا۔ وسیم اختر نے سیکرٹری بلدیات کو جواب میں کہا کہ آپ پرانی بحث شروع نہ کریں۔ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے ہمارا سب سے بڑا مسلہ ہے کہ غلطیوں سے سیکھتے ہی نہیں۔ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے آغا مقصود سے مکالمہ میں کہا ساری زندگی ایس بی سی اے میں گزاری۔ یہاں ہاتھ بھی گندے ہیں اور نا اہلیت کا معاملہ بھی ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے نارتھ ناظم آباد کسی فرشتے نہیں بنایا۔ کراچی میں تباہی کا سبب کچھ لوگوں اور اداروں کا مسلہ ہے۔ کراچی کو کوئی اون کرنے کو تیار نہیں۔ آغا مقصود نے اعتراف کیا کہ جی بات درست ہے, اداروں میں کوئی رابطہ کار نہیں۔ کمیشن نے وسیم اختر سے استفسار کیا کہ آپ پہلے چار نالے تجویز کریں, جن کی صفائی پہلے کی جائے؟ مئیر کراچی نے منظور کالونی, کورنگی, محمود آباد اور چکور نالوں کے نام تجویز کردیے۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے گلاس ٹاور, نہر خیام, پیچر نالہ بھی صاف کریں۔ واٹر کمیشن کے روبرو کراچی میں کچرا اٹھانے کے معاملے پر بھی کارروائی ہوئی۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں کچرے کے انبار لگ چکے۔ دینا بھر میں کچرا اٹھانے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کی ہے۔ سندھ حکومت نے کچرا اٹھانے کا کام ٹھیکے پر دے دیا۔ آج تک کچرا اٹھانے کی رقوم کا آڈٹ نہیں ہوا۔ سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ اب تک غیر فعال ہے۔کراچی میں ہر جگہ کچرا ہی کچرا پڑا ہے۔ کمیشن نے ریمارکس میں کہا کہ آپ حل بتائیں, میں تجاویز سپریم کورٹ کو ارسال کر دیتا ہوں۔ وسیم اختر نے کہا کء میں ڈاکڑ فروغ اے نسیم سے مشاورت کے بعد کل تک جواب داخل کر دوں گا۔ نہر خیام اور گلاس ٹاور نالے کو چوڑا کرنے کا شروع کردیا گیا ہے۔ واٹر کمیشن کے سربراہ نے نالوں کی صفائی اور تجاوزات پر کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی۔ کمیشن نے کمیٹی تشکیل دیدی جس میں سیکرٹری بلدیات, مئیر کراچی, ڈی جی ایس بی سی اے ودیگر اسٹیک ہولڈرز شامل کو شامل کیا گیاہے۔ کمیشن نے ہدایت کی کمیٹی جمعہ کو سیکرٹری بلدیات کے دفتر میں اجلاس کرے۔نالوں پر قائم تجاوزات کا خاتمہ اور صفائی کیسے کی جائے, فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ اگر ہاسنگ اسکیمز کی اجازات نہ دی جاتی تو وادھو واہ کا علاقہ گٹر نہ بنتا۔ کسی غریب آدمی نے ہاسنگ سوسائٹی میں عمر بھر جمع پونجی لگائی اس کیا ہوگا۔ ان سوسائٹیز کا سیوریج کا پانی کہاں جائے گا۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے کیا ڈیزائین کررہے ہیں سارا گند لاکر جمع کردیا ہے۔ کتنے لے آوٹ پلان اب پینڈنگ میں ہیں۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ جس ڈسٹرکٹ کا ماسٹر پلان نہیں ہے وہاں ہاوسنگ اسکیمز کیسے بن رہی ہیں۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے پانی کی فراہمی شہریوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔ کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے و دیگر کو حکم دیا کہ جب تک سندھ میں ڈسٹرکٹ کے ماسٹر پلان بنائے جائیں اس وقت تک کوئی ہاوسنگ اسکیمز نہ بنے لکھ کر دیں۔ ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ 310 ہاسنگ اسکیمیں این او سی نہ ہونے کی وجہ سے پورے سندھ میں منسوخ کی ہیں۔ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے کہا کہ ندی کنارے دریا کنارے بنائی گئی اسکیمز غیر قانونی ہیں۔ جھوٹی لیز دی جارہی ہیں ریکٹ بنے ہوئے ہیں جو جھوٹی لیز کرواتے ہیں۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے بیٹر منٹ چارجز کے نام پر بندر بانٹ بند کی جائے۔ بیٹرمنٹ چارجز سے ایس بی سی اے کا کیا تعلق۔ حیدرآباد کے شہری نے بتایا کہ جس روڈ سے کمیشن گزرتا ہے وہاں کی صفائی کی جاتی ہے۔ مئیر حیدر آباد بولے کہ زیر زمین پانی کا معاملہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ ٹائفائیڈ کا ایشو سامنے آگیا ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے جن کی ذمہ داری ہے وہ کچھ کرہی نہیں رہے۔ سیکریٹری بلدیات نے بتایا کہ حیدر آباد کے لیے 26 کروڑ کی اسکیم منظور کیں۔ اس سال حیدر آباد میں 2 ارب روپے کی اسکیمز بنا کہ دی گئیں۔ کمیشن نے مئیر حیدر آباد کو ہدایت کی سیکریٹری بلدیات کے ساتھ بیٹھ کر مسائل پر تبادلہ خیال کریں۔ سیکریٹری بلدیات نے کہا کہ واٹر میٹرز کی تنصیب کے لیئے سمری وزیر اعلی سندھ کو ارسال کردی ہے۔ واٹر کمیشن کے روبرو شہر میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس سے متعلق کارروائی ہوئی۔ شہری نے کہا کہ سائیٹ میں آج بھی غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں۔ ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ نے کہا کہ میں نے دورہ کیا ہے، یہ بات درست ہے، شہری نے کہا کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس میں سائیٹ ایسوسی ایشن کا ہاتھ ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے زیر زمین پانی استعمال کرنے کا اختیار سائیٹ ایسوسی ایشن کو ہے نہ ہی کسی فیکڑی کو۔ کمیشن نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ایم ڈی سائیٹ خود پیش ہوں۔ زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق کمیشن نے ایم سائیڈ کو نوٹس جاری کردیئے۔محکمہ صحت کے معاملات پر کارروائی کمیشن نے چیف سیکریٹری کی عدم موجودگی پر آئندہ تک ملتوی کردی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر