ہلاکت کیس، اختر سلطانہ میموریل کلینک کی سرجیکل ، گائنی سروسز بند کرنیکا حکم

ہلاکت کیس، اختر سلطانہ میموریل کلینک کی سرجیکل ، گائنی سروسز بند کرنیکا حکم

  

ملتان (وقائع نگار)ناکافی سرجیکل آلات، ریکارڈ کی عدم موجودگی،نان کوالیفائڈ سٹاف اور مریضہ کو بروقت ریفر نہ کرنیولاپروائی سے عمیرہ حسن کی موت ثابت ہونے پر پنجاب ہیلتھ کئیرکمیش کا اختر سلطانہ میموریئل کلینک ملتان کی سرجیکل وگائینی سروسز فوری طور پر بند کرنے کا حکم اور ایک لاکھ جرمانہ جبکہ متعلقہ ڈاکٹر روبینہ اختر کے پاس گائینی کی ڈگری نہ ہونے پر گائینی پریکٹس پر (بقیہ نمبر43صفحہ12پر )

پابندی اور لاپروائی اور نااہلی ثابت ہونے پر کیس سزا کے لیے پی ایم ڈی سی ریفرکر دیا ہے۔تفصیل کے مطابق2 مئی 2016 کو مریضہ عمیرہ حسن کو ڈائریا میں مبتلا ہونے پر جوکہ حاملہ بھی تھی۔ڈاکٹر روبینہ اختر کے ہسپتال اختر سلطانہ میموریل ہسپتال بلمقابل چیف ایگزیکٹیو آفیسرہیلتھ گھنٹہ گھر روڈ ملتان لایا گیا اور ڈاکٹر نے ڈلیوری کی متوقع تاریخ سے 23 دن پہلے مریضہ کی ڈلیوری کردی۔دوران ڈلیوری مریضہ کو ''72358 کا بڑا کٹ لگ گیا اور کء چھوٹے چھوٹے کٹ بھی آئے جسکی وجہ سے مریضہ کو شدید بلیڈنگ شروع ہو گئی لیکن ڈاکٹر نے پرواہ نہ کی اور نااہل ہونے کی وجہ سے مریضہ کی بگڑتی حالت کو سمجھ نہ سکی۔اور ساتھ ہی ساتھ ہسپتال سے غائب رہی۔اور مریضہ کو 13 گھنٹے تک کہیں ریفر بھی نہ کیا۔جسکی وجہ سے خون بہت زیادہ ضائع ہو گیا۔اور مریضہ کی 3مئی2016 کو موت واقع ہوگئی۔ یاد رہے کہ مرحومہ 23 سالہ ایم فل کیمسٹری تھی۔مریضہ کی موت کے بعد مرحومہ کی بہن ام کلثوم نے ڈاکٹر اور اس کے ہسپتال کے خلاف ڈی سی او ملتان اور پنجاب ہیلتھ کئیرکمیش میں درخواستیں دائر کیں۔ڈی سی او کی انکوائری میں ڈاکٹر کا جرم ثابت ہوا لیکن ڈاکٹر کے با اثر ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی۔ جبکہ ہیلتھ کئیرکمیش پنجاب میں دائر کردہ درخواست پر 094/C/2016 کے تحت کیس رجسٹر ہوا اور کاروائی کی گئی۔ پونے دو سال کی کاروائی کے بعد 19 مارچ 2018 کو مقدمے کا باقاعدہ فیصلہ سنایا گیا۔ فیصلہ کے مطابق اختر سلطانہ میموریل کلینک میں سرجیکل آلات کی کمی، مریضہ کو بروقت بڑے ہسپتال نہ بھیجنا۔مریضہ کا باقاعدہ ریکارڈ نہ رکھنا اور کوالیفائڈ سٹاف نہ ہونا ثابت ہوا۔جس پر ہسپتال میں آپریشن اور گائینی کی پریکٹس پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ایک لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر روبینہ کے پاس گائینی کی ڈگری نہ ہونے پر گائینی کی پریکٹس کرنے سے فوری طور پر روک دیا گیا ہے جبکہ مریضہ کو شدید بلیڈنگ کی حالت میں بھی 13 گھنٹے تک بڑے ہسپتال ریفر نہ کرنے، مریضہ کی پیچیدہ حالت کو سمجھنے میں ناکام رہنے، مریضہ کو دوران ڈلیوری لگنے والے کٹ کو نہ سینے (سٹیچ) اور گائناکالوجسٹ کی ڈگری نہ ہونے کے باوجود مریضوں کو دھوکہ دینے کے لیے اپنے نام کے ساتھ گائناکالوجسٹ لکھنے جیسے جرم ثابت ہونے پر مذید سزا کے لیے اس کا کیس پی ایم ڈی سی کو ریفر کر دیا گیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -