میمو گیٹ کیس: سپریم کورٹ نے حسین حقانی کو واپس لانے کیلئے حکومت کو ایک ماہ کا وقت دے دیا

میمو گیٹ کیس: سپریم کورٹ نے حسین حقانی کو واپس لانے کیلئے حکومت کو ایک ماہ کا ...
میمو گیٹ کیس: سپریم کورٹ نے حسین حقانی کو واپس لانے کیلئے حکومت کو ایک ماہ کا وقت دے دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے میمو گیٹ کیس کی سماعت کے دوران حسین حقانی کوواپس لانے کیلئے حکومت کوایک ماہ کاوقت دے دیا

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے میمو گیٹ سکینڈل کی سماعت کی،عدالتی حکم پر سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے ۔

سیکرٹری خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ دفتر خارجہ اور وزارت خزانہ سے رپورٹس مانگی تھیں،گزشتہ رات مواد موصول ہو چکا ہے،اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ معلوم تھا آپ کو بلاتے ہی مواد مل جائے گا،عدالت کیس ملتوی کرنے کیلئے نہیں بیٹھی ہوئی۔

ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ حسین حقانی کیخلاف کرپشن کا مقدمہ درج ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میموگیٹ کمیشن میں 3 چیف جسٹس صاحبان بیٹھے تھے،مقدمہ کمیشن رپورٹ کے بعد درج ہوجاناچاہئے تھا،حسین حقانی کی واپسی کیلئے مزیدتاخیربرداشت نہیں کریں گے،

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کوشش کریں حسین حقانی آتے ہیں یا نہیں ،الگ بات ہے،وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری متعلق حکام کو ارسال کئے جا چکے ہیں

چیف جسٹس پاکستان نے ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتادیں کتنے دنوں میں نتائج دے سکتے ہیں،ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ حسین حقانی کی واپسی کیلئے تمام وسائل استعمال کریں گے،دائمی وارنٹ جاری ہوتے ہی میں خودامریکاجاکروکیل کی خدمات حاصل کروں گا۔

ایف آئی اے نے پیشرفت کیلئے عدالت سے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا، عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایک ماہ میں لائحہ عمل بناکر آگاہ کریں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -