میموگیٹ سکینڈل:زیر التوا مقدمات پر رائے زنی نہیں ہونی چاہئے، ایسا نہ ہواس معاملے پر میڈیا میں بات کرنے پر پابندی لگا دوں،چیف جسٹس کے ریمارکس

میموگیٹ سکینڈل:زیر التوا مقدمات پر رائے زنی نہیں ہونی چاہئے، ایسا نہ ہواس ...
میموگیٹ سکینڈل:زیر التوا مقدمات پر رائے زنی نہیں ہونی چاہئے، ایسا نہ ہواس معاملے پر میڈیا میں بات کرنے پر پابندی لگا دوں،چیف جسٹس کے ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے میمو گیٹ سکینڈل کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیر التوا مقدمات پر رائے زنی نہیں ہونی چاہئے، ایسا نہ ہو کہ اس معاملے پر میڈیا میں بات کرنے پر پابندی لگا دوں، فیصلہ آنے کے بعد جو مرضی کہتے رہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ پتا کچھ ہے نہیں،آئین وقانون پرتبصرے کرنے بیٹھ جاتے ہیں،انھیں بلا لیتے ہیں جنہیں کمنٹس دینے کابہت شوق ہے،

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے میمو گیٹ سکینڈل کی سماعت کی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹی وی چینلزپربیٹھ کر تبصرے کئے جاتے ہیں،ہم گڑھے مردے نہیں اکھاڑرہے،قانون پرعملدرآمد یقینی بنارہے ہیں،کہاجاتاہے میمو گیٹ کیس کودوبارہ سن کرکونسے گڑھے مردے اکھاڑے جارہے ہیں۔ میمو کمیشن میں تین چیف جسٹس صاحبان بیٹھے ہوئے تھے، حسین حقانی کو واپس لانے میں گڑھے مردے اکھاڑنے والی کون سی بات ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پتا کچھ ہے نہیں،آئین وقانون پرتبصرے کرنے بیٹھ جاتے ہیں،انھیں بلا لیتے ہیں جنہیں کمنٹس دینے کابہت شوق ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں تو سوچ رہا ہوں زیر التوامقدمات پر میڈیاکے تبصروں پرپابندی لگا دوں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -