جو نما زنہیں پڑھتے 

جو نما زنہیں پڑھتے 
جو نما زنہیں پڑھتے 

  


ماہ رجب کی ایک بڑی فضلیت یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج میں فرضیت نماز کا حکم دیا گیا۔ صرف نماز ہی دین اسلام کا ایک ایسا عظیم رُکن ہے جسکی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں بلکہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند واعلیٰ مقام پر معراج کی رات ہوا، نیز اس کا حکم حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تک نہیں پہنچا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیتِ نماز کا تحفہ بذاتِ خود اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو عطاء فرمایا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

قرآن مجید فرقان حمید اور احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم میں نماز کی مسلمہ اہمیت وفضیلت کو کثرت سے ذکر کیا گیا ہے جن میں نماز کو قائم کرنے پر بڑے بڑے وعدے اور ضائع کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔نماز، ایمان کے بعد اسلام کا اہم ترین رُکن ہے قرآن وحدیث میں اس اہم اور بنیادی فریضہ کی ادائیگی کی تاکید کو کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔ صرف قرآنِ پاک میں تقریباً سات سو مرتبہ، کہیں اشارۃً اور کہیں صراحۃً مختلف عنوانات سے نماز کا ذکر ملتا ہے۔ 

نماز کی ادائیگی کے بارے میں قرآن کریم کر سورۂ العنکبوت کی آیت نمبر ۴۵ میں اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں ’’ جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت وتاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دیتی ہے مگر ضروری ہے کہ اس پرپابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط وآداب کے ساتھ پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں،جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ فلاں شخص راتوں کو نماز پڑھتا ہے مگر دن میں چوری کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہُ اس کی نماز عنقریب اُس کو اس برے کام سے روک دے گی۔ (مسند احمد) ‘‘ 

سورۂ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۵۳ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ جب بھی کوئی پریشانی یا مصیبت سامنے آئے تو مسلمان کو چاہئے کہ وہ اُس پر صبر کرے اور نماز کا خاص اہتمام کرکے اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بھی ہر پریشانی کے وقت نماز کی طرف متوجہ ہوتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا، آپ فوراً نماز کا اہتمام فرماتے۔ (ابو داود ومسند احمد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پانچ فرض نماز وں کے علاوہ نماز تہجد، نماز اشراق، نماز چاشت، تحےۃ الوضوء اور تحےۃ المسجد کا بھی اہتمام فرماتے، اور پھر خاص خاص مواقع پر اپنے ربّ کے حضور توبہ واستغفار کے لئے نماز ہی کو ذریعہ بناتے، سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا تو مسجد تشریف لے جاتے۔ زلزلہ، آندھی یا طوفان حتیٰ کہ تیز ہوا بھی چلتی تو مسجد تشریف لے جاکر نماز میں مشغول ہوجاتے۔ فاقہ کی نوبت آتی یا کوئی دوسری پریشانی یا تکلیف پہنچتی تو مسجد تشریف لے جاتے۔ سفر سے واپسی ہوتی تو پہلے مسجد تشریف لے جاکر نماز ادا کرتے۔ اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ نماز کا خاص اہتمام کریں۔ اور اگر کوئی پریشانی یا مصیبت آئے تو نماز کی ادائیگی اور صبر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا والدین کی فرمانبرداری۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ ‘‘ (بخاری ، مسلم) حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین مرتبہ یہی کہا، تو ہم نے اپنے ہاتھ بیعت کے لئے بڑھادئے اوربیعت کی، ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم نے کس چیز پر بیعت کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا صرف اللہ کی عبادت کرو،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ،اورنماز کی پابندی کرو۔اس کے بعد آہستہ آواز میں کہا کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو۔ (نسائی، ابن ماجہ، ابوداود، مسند احمد) ‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگی، اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی دلیل ہوگی ، اور قیامت کے دن عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا اس کے لئے قیامت کے دن نہ نور ہوگا، نہ اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی کوئی دلیل ہوگی، نہ عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہوگا۔ اور وہ قیامت کے دن فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (صحیح ابن حبان ، طبرانی، بیہقی، مسند احمد)‘‘ 

علامہ ابن قیم ؒ نے (کتاب الصلوٰۃ) میں ذکر کیا ہے کہ ان کے ساتھ حشر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر ان ہی باتوں کی وجہ سے نماز میں سستی ہوتی ہے جو ان لوگوں میں پائی جاتی تھیں۔ پس اگر اسکی وجہ مال و دولت کی کثرت ہے تو قارون کے ساتھ حشر ہوگا، اور اگر حکومت و سلطنت ہے تو فرعون کے ساتھ، اور وزارت یا ملازمت ہے تو ہامان کے ساتھ، اور تجارت ہے تو ابی بن خلف کے ساتھ حشر ہوگا۔ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہنے کے باوجود بالکل نماز ہی نہیں پڑھتے یا کبھی کبھی پڑھ لیتے ہیں، وہ غور کریں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ اللہ پاک اس برے انجام سے ہماری حفاظت فرمائے ، اور ہمیں خشوع و خضوع کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، آمین۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ