فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر391

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر391
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر391

  

ظاہر ہے کہ جہاں اتنے بہت سے اعلیٰ معیاری ہنر مند یکجا ہوں گے، اس کی ثقافتی اہمیت سے کون انکار کرسکتاہے۔ یہاں بہت سے نئے اور نوجوان گلوکاروں اور موسیقاروں نے بھی جنم لیا اور کامیابیاں حاصل کیں۔

بھارت سے آنے والوں کے لئے ابتدائی ایام بہت کٹھن تھے کیونکہ پاکستان میں نہ تو فلمی صنعت مستحکم و خوشحال تھی اور نہ ہی ان کے لئے کسی اور جگہ گنجائش تھی۔ لے دے کر صرف ریڈیو پاکستان ہی ایسا ادارہ تھا جہاں سے گزارے کے لئے تھوڑی بہت آمدنی ہوجاتی تھی۔ تقسیم کے ہنگاموں اور انقلاب نے رئیسوں کو بے گھر اور بے آسرا کردیا تھا تو پھر فن اور موسیقی کی سرپرستی کون کرتا لیکن بعد میں جب فلمی صنعت نے نئی زندگی پائی اور فلمسازی کا آغاز ہوا تو ان لوگوں کے لئے بھی روزگار اور مصروفیات کے دروازے کھل گئے۔ ملک میں حالات معمول پر آئے تو ثقافتی سرگرمیاں بھی شروع ہوگئیں لیکن انہیں سب سے زیادہ سہارا اور فروغ فلمی صنعت ہی سے ہوا تھا۔ سازندوں اور موسیقاروں کی حیثیت سے انہوں نے فلمی صنعت کی ترویج میں نمایاں حصہ لیا۔ جب خوشحالی آئی تو بہت سے لوگ کٹری باوا سے رخصت ہوکر زیادہ خوشحال اور جدید علاقوں میں آباد ہوگئے لیکن ان کی جگہ نئے آنے والوں نے لے لی اور کٹری پہلے ہی کی طرح آباد رہی مگر اب کٹری کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پرانی عمارت پر کوئی پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہے حالانکہ اس نے انہیں سر چھپانے کی جگہ فراہم کی ہے۔ بہرحال کٹری باوا اب ویسی نہیں رہی جیسی کہ چالیس پچاس سال پہلے تھی۔ اس وقت یہاں بہت چہل پہل تھی۔ سازوں اور گانوں کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں۔ آپس میں میل ملاپ بھی زیادہ تھا مگر اب وہ سب باتیں قصہ پارینہ ہوگئی ہیں۔ جیسے جیسے لاہور ماڈرن ہورہا ہے۔ پلازے اور بلند عمارات اور شاپنگ سنٹر تعمیر ہورہے ہیں، اس لحاظ سے کٹری باوا جیسی عمارتوں کی افادیت کم بلکہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب ان پرانی عمارتوں کی کہاں گنجائش ہے؟ مگر کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ایسی پرانی اور تاریخی یادگاروں کو حفاظت سے سنوار کر رکھنے کے بجائے انہیں کھنڈرات میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد یہاں نئی عمارتیں بن جائیں گی۔ 

دنیا بھر میں لوگ، معاشرہ اور حکومتیں اپنے قدیم تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کرتی ہیں اور انہیں آنے والی نسلوں کے لئے سنبھال کر یادگاروں کی شکل دیتی ہیں۔ قدیم لاہور بذات خود ایک سنبھال کر رکھنے کی چیز ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں نئی آبادیوں کے شانہ بشانہ پرانے علاقوں کو بھی سنبھال کر رکھا گیا ہے اور وہ لوگ بڑے فخر کے ساتھ باہر سے آنے والوں اور سیاحوں کو یہ مقامات دکھاتے ہیں مگر ہمارے ہاں انہیں بیکار اور فرسودہ سمجھ کر برباد اور مسمار کردیا گیا ہے۔ اس عمارت کو ایک ثقافتی کمپلیکس کی شکل دے کر محفوظ رکھا جاسکتاہے جہاں موسیقی اور ساز بجانے کی کلاسیں شروع کی جاسکتی ہیں مگر لاہو رمیں دوسری یادگاروں کو کہاں سنبھالا گیا ہے جو کٹری باوا کو اہمیت دی جائے گی۔ اس کا انجام ابھی سے نظر آرہا ہے۔ اس تک پہنچنے میں اور کتنا وقت لگے گا؟ اس کا فیصلہ بھی وقت ہی کرے گا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر390 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دنیا بھر میں تاریخی شہروں کو ان کی قدیم روایات اور ثقافت و فن کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور یہ ہر قوم کے لئے سرمایہ افتخار ہوتے ہیں۔

ترقی یافتہ مغربی ملکوں کی تو بات ہی الگ ہے۔ مشرقی ممالک میں بھی شہروں کے قدیم حصے محفوظ ہیں۔ ترکی، ایران، مصر جہاں جائیے نئے شہروں کے شانہ بشانہ پرانے شہر اور یادگاریں ضرور نظر آئیں گی۔ ہم نے ترکی کے شہراناطولیہ کا تذکرہ کیا تھا جہاں ہم نے صرف دو دن قیام کیا تھا۔ ایک انگریزی بولنے اور سمجھنے والے ٹیکسی ڈرائیور سے ملاقات ہوگئی جو ہمیں ائیرپورٹ سے ہوٹل تک لے گئے تھے۔ اس کے بعد وہ ہمارے مستقل گائیڈ اور ٹیکسی ڈرائیور بن گئے۔ ان دنوں ہم اداکار و فلم ساز اعجاز درانی کے ساتھ ایک فلم کی لوکیشنز دیکھنے کے لئے ترکی کے شہروں کا دورہ کررہے تھے۔ ظاہر ہے کہ مستقل گھومنے پھرنے سے فرصت ہی نہیں تھی۔

دوسرے دن موقع پاکر ان صاحب نے ہم سے فرمائش کی کہ آپ پرانا اناطولیہ ضرور دیکھئے۔ میں خود بھی وہاں رہتا ہوں۔ میری کمپنی کا صدر دفتر بھی وہیں ہے۔ وہاں پرانی عمارتوں میں بے حد خوبصورت اور آرام دہ ہوٹل بھی ہیں جہاں سے نہ صرف شہر کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہ ے بلکہ سمندر بھی نظر آتا ہے۔ ہم نے اخلاقاً ہامی بھرلی۔ شام کو جب تھکے ماندے ہم لوگ لمبے سفر کے بعد واپس ہوٹل جانے لگے تو ٹیکسی ڈرائیور نے کہا ’’برادر۔ کیا خیال ہے، ہوٹل جانے سے پہلے پرانے اناطولیہ کا ایک چکر نہ لگایا جائے؟‘‘

مروتاً اقرار کرنا پڑا۔ انہوں نے خوشی خوشی ٹیکسی کا رُخ پرانے شہر کی طرف موڑ لیا۔

شہر کے آغاز ہی میں ایک بورڈ پر لکھا تھا ’’پرانا اناطولیہ آپ کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘‘

شہر کا یہ حصہ ہمارے پرانے شہروں کی طرح ہی تھا۔پرانی عمارتیں گلیاں پیچ دار راستے پرانی وضع کے بازار اور دکانیں۔قہوہ خانے وغیرہ مگر ہر چیز صاف ستھری اور آراستہ۔سڑکیں پختہ اور صفائی کا معیار مغربی طرز کا۔انہوں نے بہت سی پرانی عمارتوں کے بارے میں بتایا۔ایک پرانے بازار میں لے گئے اور آخر میں ایک تین منزلہ ہوٹل پہنچے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر392 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -