نظریاتی نوازشریف،حیرتوں کا سفر 

نظریاتی نوازشریف،حیرتوں کا سفر 
نظریاتی نوازشریف،حیرتوں کا سفر 

  

میاں نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں فرمایا ہے کے وہ اب مکمّل نظریاتی ہوگئے ہیں اور انہوں نے میمو گیٹ میں عدالت جانے کے اپنے عمل پر افسوس کا اظہار بھی کیاہے۔

میاں صاحب کے نظریا تی بننے کی خبر سنتے ہی یادوں کے صفحہ قرطاس پر انکے سیاسی سفرنامے کے 35 سال بکھر گئے ۔ یہ بات تو اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کے آمریت کی نرسری میں کاشت ہونے والے میاں نواز شریف کی سیاسی آبیاری جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق نے فرمائی اورانہیں پنجاب میں صوبائی وزیرِ خزانہ مقرر کر دیا ۔ پھر غیر جماعتی انتخابات کے بعد موجودہ جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ۔یہ بھی نظریاتی بلندی کی جانب اہم قدم تھا ۔پھر یہ سلسلہ تھمنے میں نہ آیا۔ اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی جبری معزولی کے بعد مسلم لیگ کی صدارت پر قابض ہوگئے ۔ 1988 کے انتخاب میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیراعظم منتخب ہونے کے ساتھ ہی محلاتی سازشوں کا آغاز ہوگیا اور پھر اسمبلیوں کا ٹوٹنا ،IJI کا قیام، چھانگا مانگا کی کہانیوں نے بھی میاں نواز شریف کے جمہوری نظریات کو عروج پر پہنچا دیا ۔ سیاست میں سرمایہ کو متعارف کروا کر اس سوچ کو پروان چڑھایا کہ سب بکتا ہے ،سب خرید لو ،خرید و فروخت کی اس خوبی نے میاں صاحب کو مقتدرہ کا لاڈلا بنا دیا۔ پھر میاں صاحب کو خیال آیا کہ مرکزِ اقتدار صرف انکی ذات ھوگی۔ یہ نظریاتی تبدیلی انہیں سپریم کورٹ پر حملے تک لے گئے اور پھر اس خوبی سے نہ صدرِ مملکت غلام اسحاق خان بچے نہ جنرل آصف نواز جنجوعہ نہ جنرل وحید کاکڑ نہ جنرل جہانگیر کرامت مگر یہ فارمولا جنرل پرویز مشرف کی برطرفی کو لے کر ناکام ہوگیا۔ 

محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیئے جانے والے میثاق جمہوریت کا جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔سیف الرحمٰن کے احتساب بیورو کے ذریعے آصف زرداری اور انکے ساتھیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ نظریاتی بننے کا سفر رکا کبھی نہیں، بس ترجیحات بدلتی رہیں مگر مقصد ایک ہی رہا کہ اقتدار انکے گھر کی لونڈی رہے،جیل کی صعوبتوں سے گھبرا کر آمر سے معاہدہ کر کے عازمِ جدہ ہوئے اور کارکنان یا دھکے کھاتے رہے یا مسلم لیگ ق میں جاتے رہے ۔2013 کے انتخابات کے بعد نئی پالیسی سامنے لائے کہ جو بکتا نہیں ہے اسے ریاستی طاقت کے بل بوتے پر رستے سے ہٹا دو۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں درندگی کے ذریعے معصوم لوگوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی گئی جو کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا۔

مگر اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں کے مصداق پاناما کے شکنجے میں کسے گئے اور اقامہ کے نام پر نا اہلی کا داغ لگوا کر بھری بزم سے نکالے گئے۔ 35 سالہ مسلسل نظریاتی تبدیلیاں کرنے کے بعد اور نا اہل ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ میاں صاحب 70 سالہ محرومی کا حساب بھی لیں گے، انقلاب بھی لائیں گے ، اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیرو بھی بنیں گے مگر رہیں گے مستقل مقتدر، اقتدارصرف شریف خاندان کا ہوگا، چاہے شہبازشریف کی شکل میں ہو یا مریم نواز اور حمزہ نواز کیصورت میں کیونکہ وزیر کی اولاد وزیر بنے گی اور ووٹر کی اولاد ووٹر رہے گی۔ ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ کرنے والے کی تاریخ گواہ ہے کے ووٹر کو کبھی عزت نہیں دینی۔آنے والے دو مہینے فیصلہ کریں گے کے اس عظیم نظریاتی تبدیلی کا سفر اڈیالہ جیل پر ختم ہوگا کہ جدہ کے محلات پر۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -