رد الفساد مشکل آپریشن تھا جو اب بھی کامیابی سے جاری ، ہماری کامیابی کیلئے خفیہ اداروں کا کلیدی کردار رہا: ڈی جی آئی ایس پی آر

رد الفساد مشکل آپریشن تھا جو اب بھی کامیابی سے جاری ، ہماری کامیابی کیلئے ...
رد الفساد مشکل آپریشن تھا جو اب بھی کامیابی سے جاری ، ہماری کامیابی کیلئے خفیہ اداروں کا کلیدی کردار رہا: ڈی جی آئی ایس پی آر

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفوری نے کہا ہے کہ 22 فروری 2017ءکو آپریشن ردالفساد شروع ہوا جو ایک مشکل آپریشن تھا لیکن یہ اب بھی کامیابی سے جاری ہے اور اس دوران کئی کامیابیاں حاصل کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”یہ ہے ڈاکٹر ایلکس جو پشاور یونیورسٹی میں لیکچرار بھرتی ہوئی ہے اور۔۔۔“ سوشل میڈیا پر یہ خبر آئی تو پاکستانیوں کے منہ حیرت کے مارے کھلے کے کھلے رہ گئے لیکن پھر حقیقت سامنے آنے پر ہر کوئی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا 

پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آپریشن ردالفساد ایک مشکل آپریشن تھا جس دوران 26 بڑے آپریشن ہوئے اور اب بھی یہ کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران 23 ہزار کے قریب اسلحہ بھی ریکور کیا گیا۔ اس دوران 16 خودکش حملہ آور بھی گرفتار ہوئے جن میں سے 9 افغانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔پاکستانی ٹیم میں پہلی بار شامل ہونے والے حسین طلعت اور سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ حیران کن انکشاف منظرعام پر آ گیا 

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 10 برسوں میں انٹیلی جنس کا کلیدی کردار رہا اور 7 بڑے دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کئے کیا گیا جبکہ 573 دہشت گردی کے واقعات کو خفیہ اداروں نے ہی روکا۔ اگر ہم کامیاب ہیں تو اس میں خفیہ ایجنسیوں کا کردار ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -