انگریزکے طنزیہ سوال پر عالم اسلام کی معتبر شخصیت کا ایسا دندان شکن جواب کہ جس نے سنا عش عش کراٹھا

انگریزکے طنزیہ سوال پر عالم اسلام کی معتبر شخصیت کا ایسا دندان شکن جواب کہ جس ...
انگریزکے طنزیہ سوال پر عالم اسلام کی معتبر شخصیت کا ایسا دندان شکن جواب کہ جس نے سنا عش عش کراٹھا

  


سراج الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے بڑے صاحبزادے تھے،جوانی میں ہی علیل ہوئے لیکن علمی کمالات میں آپ ؒ نے اپنے والد بزرگوار کا نصب العین جاری و ساری رکھا ۔آپؒ نے متعدد کتب تحریرکیں۔شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کی علمی بصیرت ، بذلہ سنجی اور حاضر جوابی نے کئی یادگار واقعات کو جنم دیا ۔ایک دفعہ ایک انگریز نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ سے طنزاًسوال کیا ”مولانا ہماری قوم کے پچاس آدمی کسی ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو سب کے سب ایک ہی رنگ وروپ کے نظر آتے ہیں بخلاف آپ مسلمانوں کے کہ ہر ایک نئی طرح کا،کوئی گورا ،کوئی کالا ،کوئی سانولہ ،اس کا کیا سبب ہے ؟“

سراج الہند ؒ مسکرائے اور کہا”میاں ایک طرح پر ہونا کوئی فخر ومباہات کی بات نہیں کیونکہ سو گدھوں کو ایک جگہ جمع کرلیاجائے تو سب ایک ہی طرح کے لگیں گے ،جبکہ گھوڑوں کے کہ کوئی سرخ کوئی سفید ،کوئی کمیت ، کوئی چتکبرہ ،کوئی سمند ہوتا ہے اور ان کے اوصاف بھی ویسے ہی ہوتے ہیں ،طاقت وجوانمردی ،دلیری ،وغیرہ، یہ کمالات گدھوں میں کہاں ہوتے ہیں“

ایسا منطقی جواب سن کر انگریز دم بخود رہ گیا اور شرمندہ ہو کر چلا گیا۔

مزید : روشن کرنیں