وہ طاقتور ترین مسلمان حکمران جو اپنے ملک کا سلطان بھی ہے، وزیر اعظم ، آرمی چیف،وزیر دفاع،وزیر خارجہ، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اور سٹیٹ بینک کا گورنر بھی ،نہ اسکا کوئی بھائی ہے ،نہ ہی کوئی اولاد ،یہ کون ہے ،آپ بھی جانئے

وہ طاقتور ترین مسلمان حکمران جو اپنے ملک کا سلطان بھی ہے، وزیر اعظم ، آرمی ...
 وہ طاقتور ترین مسلمان حکمران جو اپنے ملک کا سلطان بھی ہے، وزیر اعظم ، آرمی چیف،وزیر دفاع،وزیر خارجہ، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اور سٹیٹ بینک کا گورنر بھی ،نہ اسکا کوئی بھائی ہے ،نہ ہی کوئی اولاد ،یہ کون ہے ،آپ بھی جانئے

  


لاہور(ایس چودھری )جمہوریت کے اس دور میں بھی عرب ممالک میں بادشاہت رائج ہے ۔ موجودہ صدی میں جن بادشاہوں نے اپنے ملک اور عوام کی ترقی کے لئے جہاں بہت سے اہم اقتصادی رفاعی منصوبوں کی تکمیل کرکے اپنے ملک کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دیا ہے ان میں عمان کے سلطان قابوس بن سعید بن تیمور سرفہرست ہیں جو گزشتہ اڑتالیس سال سے سلطنت عمان پر حکمرانی کررہے ہیں۔ستر سالہ سلطان قابوس بن سعید بن تیمور کے بارے انکشاف ہوا ہے کہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے۔دو شادیوں کے باوجود وہ بے اولاد ہیں جس کی وجہ سے اب عمان میں چہ میگوئیاں عروج حاصل کررہی ہیں کہ سلطان قابوس بن سعید بن تیمور کے بعد عمان کا سلطان کون ہوگا،کیا بادشاہت قائم رہے گی یا انقلاب بہار نے جب عمان پر اثر دکھایا تو سلطان قابوس بن سعید بن تیمور نے مطلق العنانیت کے باوجود مجبور ہوکر عوام کے مطالبات کو مان کر کئی اصلاحات کی تھیں تو انکے بعد عمان میں بادشاہت کی بجائے جمہوری نظام قائم ہوجائے گا ۔سلطان قابوس بن سعید بن تیمور جو کہ کینسر میں مبتلا ہیں اور انکو زہر دیکر مارنے کا منصوبہ بھی ناکام ہوچکا ہے ، سلطنت عمان کے نویں سلطان ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطان قابوس بن سعید عمان کے تمام اہم اور بڑے عہدوں پر خود براجمان ہیں وہ سلطنت عمان کے سلطان کے ساتھ ساتھ وزیراعظم،آرمی چیف، وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اور سٹیٹ بینک کے گورنر بھی ہیں۔

ایک روایت کے مطابق سلطان قابوس بن سعید بن تیمور نے اپنے والد سعید بن تیمور کے خلاف بغاوت کرکے 1970ئمیں سلطنت عمان کا اقتدار سنبھالا تھا ۔ اس وقت اسلامی ممالک میں سب سے طویل دورِ حکومت قابوس بن سعید کا ہے۔ ان کا کوئی دوسرا بھائی نہیں ،البتہ ایک بہن ہے جبکہ انکی اولاد بھی نہیں ہے۔

سلطان قابوس بن سعید بن تیمور نے 1960ء میں برٹش رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ میں دو سال تربیت کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کا اعزاز حاصل کیااورمزید عسکری تربیت حاصل کرنے کے لئے 6 ماہ جرمنی میں خدمات انجام دیں جس کے بعد انہیں سیاسی و انتظامی تربیت کے لئے 1964ءتک برطانیہ میں رہنا پڑا ۔

23جولائی 1970ء کو قابوس بن سعید سلطنت عمان کے سلطان بنے۔اس بارے کہا جاتا ہے کہ سلطان قابوس بن سعید اپنے والد کی دستبرداری کے بعد سلطان بنے جبکہ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے خلاف بغاوت کی اور انہیں ملک بدر کرکے برطانیہ بھیج دیا جہاں ان کی موت اور تدفین ہوئی۔

سلطان قابوس بن سعید کے تاج برطانیہ س اور ایران کے ساتھ گہرے مراسم ہیں  اور دونوں ممالک عمان کے سلطان پر بہت زیادہ انحصار بھی کرتے ہیں۔ایران کے خلاف عرب ممالک اور امریکہ میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے لیکن سلطان قابوس بن سعید  کا مزاج ایسادوستانہ ہے کہ امریکہ و عرب ممالک نے   ایران  سے  دوستی  رکھںے پر عمان کے سلطان کے خلاف کسی رنجش کا اظہار نہیں کیا۔  

مزید : ڈیلی بائیٹس