جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے

جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے
جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے

  

تحریر: حمنہ افضل

دنیا کے تمام بڑے بڑے ممالک اس وقت کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے. کرونا جیسا موذی مرض اب تک 198ممالک کو متاثر کر چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 558,357کرونا کیسیز ریکارڈ کیے گیے ہیں اور 25,262 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔مزید ہلاکتوں کے خوف سے دنیا کےبیشتر شہروں میں کرفیو یا لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے اور کہیں ممالک میں بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر کمپلیٹ لوک ڈاؤن کی منصوبہ بندی اور تیاری کی جارہی ہے۔

کرونا وائرس بیک وقت عالمی سطح پر ہر انسانی جان کے لئے وبال جان کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس قد رتی آفت کے سامنے بڑی بڑی طاقتیں جو ہمیشہ معیشت ،اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لبریز رہی ہیں بے یارومددگار نظر آرہی ہیں۔

امریکہ جیسی سپر پاور ہو، سلطنتِ برطانیہ ہو یا ٹیکنالوجی کا ثانی چائنا کرونا کے خوف نے ہر کسی کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔مسلمان، ہندو، یہودی، عیسائی، سکھ، بریلوی خواہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص اس وبا سے چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہے۔

تعجب ہوتا ہے اور دل سوچنے پر مجبور ہےکہ ان بڑے بڑے ممالک اور ان کی قابل و فہم مخلوقات جن کی طاقت کا ڈنکا ہر جگہ بجتا ہے کیسے ایک ذرہ بھر وائرس سے دب کر رہ گئے ہیں۔اٹلی کے صدر کا آنسوؤں کے ساتھ رونا اور مدد کی فریاد کرنا بحیثیت مسلمان دل کو جھنجوڑ تا ہے اور واضح کرتا ہے کہ بڑے سے بڑا انسان اللہ کی ذات کے سامنے کتنا کمزور اور بے بس ہے اور ہم سب اس کے کن کے محتاج ہیں۔

قرآن کی آیت کا ترجمہ ہے

"تم تو اس قابل بھی نہیں کہ مٹی کی مٹھی بنا پاؤ"

مگر اس ناقص العقل انسان کو سمجھ ہی نہیں آرہا کہ دنیا کے شکنجے میں پھنستا ہوا وہ کس قدر خدا سے دور اور شیطان سے قریب ہوتا جا رہا ہے۔

وہ جس شیطان کا دعویٰ تھا کہ انسان کو خدا کی حکمرانی کی ضرورت نہیں ہے۔

آج دنیا کے ماہرین اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ تلاش کر نے میں مصروف ہیں۔ذرا غور کیجئے تو واضح ہوگا کہ جب ہر طرف پھیلتا ظلم و ستم ، بربریت، قتل و غارت، نفسانفسی، ناانصافی، مکروفریب، رشوت خوری ،جھوٹ، لالچ، حسد اور بغض جیسی دیگر بیماریاں انسان کی عکاسی کرنے لگے تو اللہ کا قہر اور عذاب واجب ہو جاتا ہے۔

"اگر انسان اللہ کو بھول جاتا ہے تو اللہ انہیں بھول جاتا ہے".

جب کشمیر میں کرفیو کے نام پر نہتے بے گناہ لوگوں کو بیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہو، بے جا فلسطینی سر زمین پر قبضہ کیا جارہا ہو، شام میں انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہو، ظلم و جبر برما کا مقدر بن گیا ہو،عراق، افغانستان میں زندگی تنگ کی جارہی ہو،اسلاموفوبیا کے نتیجے میں پچیدگیاں پیدا کی جارہی ہو اور اس سب پر انسانی حقوق کی علمبردار عالمی تنظیمیں طاقت رکھتے ہوئے ظلم کے پیروکار ہو تو میرا اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

"جب تم ظالموں کو ظالم کہنے سے ڈرنے لگو تو ا ایسے لوگوں کو زمین میں رہنے کا کوئی حق نہیں "۔

دوسری طرف جہاں اللہ کی واحدانیت کا دعوی کرنے والے مسلمان فرقے اور نسل پرستی میں بٹنے لگے، مذہب کے نام پر مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے خون کا پیاسا ہو، ملک کے حکمران ملک کو بنانے کی بجائے لوٹنے لگے ،جنسی تشدد کے واقعات عام ہونے لگیں ،حرام کمائی کی نحوست ہرجگہ پھیلنے لگے، نماز، حج، روزہ، زکوٰۃ جیسے دینی فرائض دکھاوے کی بھینٹ چڑھنے لگے تو جان رکھو کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔

اس تحریر کا مقصد ہرگز خوف و ہراس پیدا کرنا یا انسانی وجود کو شرمندہ کرنا نہیں ہے بلکہ اس سبق اور درس کو فروغ دینا ہے کہ اکیس ویں صدی کا انسان خسارے میں ہے۔ دنیا کے جانے مانے سائنسدان، ڈاکٹرز، انجینئرز،ریسرچرز، انڈسٹریلسٹ،حکمران اور دیگر جدید ٹیکنالوجی سے لیس وجود بھی رب کے سامنے نا کام کھڑا ہے۔

ایک نکتہ برابر وائرس نے انسان کے وجود کو جھنجھوڑ دیا ہے اور بڑی بڑی طاقتیں جو دنیاوی خدائی کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتی تھی آج رب الہی کی طرف سے بھیجے گئے ایک معمولی وائرس سے تھک چکی ہیں ۔

ایسا لگتا ہے کہ اللہ نے انسان کو گھیرے میں بند کر دیا ہے اور وہ پوچھ رہا ہے اب میری ذات کے سوا کون ہے جو تجھے یہاں سے نکالے؟؟؟

کچھ روز قبل امریکہ نے پورا ایک دن دعا کے لیے مختص کیا۔ اٹلی کی حکومت نے بھی غیبی مدد کی درخواست کی۔نیوزی لینڈ نے مذہبی ترانہ بنایا جو گرجاگھروں میں پڑھا جا رہا ہے۔ یہ ان عالمی طاقتوں کی بات ہورہی ہے جو جھکانا تو جانتی تھی جھکنا نہیں ،رولانا تو جانتی تھی رونا نہیں، حکم دینا تو جانتی تھی مانگنا نہیں۔۔ دیکھو رب کائنات( جس کا ایک نام اگر رحمن ھے تو دوسرا القوی بھی ہے) کی تکلیف کے سامنے مجبور ہو کر رہ گیی ہیں ۔۔

آج پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں لاک ڈاؤن ہے کیوں نہ اس کا اصل مطلب جانے اور اپنے گریبانوں میں جھانکے اور سمجھیں کہ قصور تو ہمارا ہے۔ قصور تو ہر اس انفرادی شخص کا ہے جو جھوٹ، ملاوٹ، حرام خوری،ذخیرہ اندوزی، منافقت جیسے گناہوں میں دھنستا چلا جارہا ہے۔ ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا کر مظلوموں کی بد دعائیں لے رہا ہے ہے۔ اس ظلم و ستم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے۔

خدا کرے اس مشکل وقت میں ہم اپنی مجرمانہ افعال اور کوتاہیوں پر نظر ڈالے۔ اور اس رب کے سامنے جھکے جو الملک (دنیا اور آخرت کا مالک) ہے۔

کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ گناہوں کی زیادتی اور اللہ کی ناراضگی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ کرونا وائرس کا دنیا میں اس انوکھے اور ہنگامی طرز سے پھیل جانا اور دنیا کا رک جانا ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اس دنیا کا نظام کل کائنات کے تابع ہیں اور وہ سب دیکھ رہا ہے۔۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -