شکریہ کرونا وائرس

شکریہ کرونا وائرس
شکریہ کرونا وائرس

  

 علی الصبح جب چڑیوں کی چہچہاہٹ سے آنکھ کھلی تو ایک عجب ہی احساس ہوا،یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ پروردگار کی تسبیح کررہے ہوں۔ ان  کی آواز سے ایک سکون سا مل رہاتھا،خیرکرونا وائرس کے لاک ڈاﺅن کے باعث دفتر سے چھٹیاں ہیں تو کافی دیر بستر پر پڑی کھڑکی سے ان پرندوں کے گیت سنتی رہی،رات سے جاری بارش اب تھم چکی تھی،بستر سے نکل کر کھڑکی سے باہر جھانکا تو موسم بہت دلفریب ہو رہا تھا،جلدی سے دوپٹہ سنبھالا اور چھت کی جانب دوڑ لگادی۔ آسمان کی طرف سر اٹھاتے ہی میں ہکا بکا رہ گئی۔اس قدر صاف اورنیلا آسمان میں نے اپنی زندگی میں نہیں تھا دیکھا،آسمان سے میری محبت بچپن سے والہانہ ہے،آسمان میں بادلوں کا بننا،اس کا رنگ اوربادلوں کا ہوا میں حرکت کرنا نا جانے کیوں مجھے اپنا دِلدادہ کرتا ہے۔

یہ ایک فطری عمل ہے، کچھ لوگ پہاڑوں کے شوقین ہوتے ہیں،کچھ سمندروں کے اورکچھ جنگلات کے،مگر میں آسمان کی شوقین ہوں۔اتنے خوبصورت بادل  اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے مجھ پر ایسا سحر طاری کیا کہ دوپٹہ ہوامیں لہراتے ہوئے میں بادلوں کی طرف چہرہ کر کے جھومنے لگی۔میری زندگی کی  یہ ایک خوبصورت صبح اور دن کی تازہ ترین شروعات تھی۔ کچھ دیر ایسے ہی قدرت میں مگن رہنے کے بعد جب ہوش آیا تو سب سے پہلاسوال جو دماغ مین چل رہا تھا وہ یہ تھا کہ ایسا کیا ہوا جو مجھے آج یہ نطارہ دیکھنے کو ملا،مگر اس کا جواب ملنے میں مجھے زیادہ دیر بھی نہیں لگی ۔

آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں لاک ڈاﺅن جاری ہے جس کی وجہ سے ٹریفک،فیکٹریاں،کارخانے کئی ہفتوں سے بندپڑے ہیں۔ساحل سمندر پر اٹھکیلیاں کرتے اور گند پھیلاتے انسان اب اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ کہیں کوئی خانہ جنگی نہیں ہو رہی،کہیں کوئی شورکی آلودگی نہیں۔ ہوا میں کوئی ہوائی جہاز پرواز نہیں کر رہا۔ جنگلات اوردرختوں کی کٹائی رک گئی ہے، صنعتیں بند ہونے کے باعث کوئی صنعتی فضلہ سمندروں اور دریاﺅں میں نہیں بہایا جا رہا۔کہتے ہیں انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے،انسان ہونے کے ناطے مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج ہمیں جن چیلنجز اور مشکلات کا سامناہے،یہ مسائل ہمارے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں۔ یہ ہمارے وہ کرم ہیں جو ہم نےاپنے ماحول اور قدرت کے ساتھ کر چھوڑے ہیں۔صنعت کاری،شہروں کی غیر معمولی آبادی،جنگلات کی کٹائی اور دیگر امور  کے باعث ماحول کی خرابی اور انسانی زندگی میں سنگین عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔

کرونا وائرس کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اورنج ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر سال ایک لاکھ 28 ہزار افراد کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہ اموات زلزلہ،سیلاب اور دوسری قدرتی آفات کے باعث ہر سال پیش آتی ہیں مگر ہم ابھی تک ان مسائل کی روک تھام کے لیئے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ اب ہرناکامی کا ذمہ دار حکومتوں اور سیاستدانوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ہمیں انفرادی طور پر بھی اپنے مستقبل کے لیے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہوگا۔میں بھی اکثر سوچتی ہوں کہ میری اکیلی کی کوششوں سے کون سا کوئی فرق پڑجانا ہے،مگر میں اپنی اس سوچ کی مخالفت کرتی ہوں،ایک فرد بھی ماحول کومحفوظ بنانے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سب سے اہم جنگ پلاسٹک کے خلاف ہے، پلاسٹک کا استعمال تو ہم سب ہی کرتے ہیں اور پھر پلاسٹک کو بہت لاپرواہی کے ساتھ سمندروں کی نظر بھی کر دیتے ہیں جو سمندری حیات کے لیے وبال جان ثابت ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک ذمہ دار شہری اور ذمہ دار انسان ہونے کا مظاہرہ کریں توپلاسٹک کے استعمال پر مکمل نہ سہی مگر کچھ حدتک کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے آسان طریقہ پلاسٹک سے بنی اشیاکا بائیکاٹ ہے۔ مجھے تو پلاسٹک سٹرا کے استعمال کی سمجھ نہیں آتی،جب ہم کو لڈڈرنک کی کین یا گلاس سے گھونٹ بھر سکتے ہیں تو پھر پلاسٹک سٹرا کی کیا ضرورت ؟ اگر تمام ہوٹلز اور ریسٹورنٹس پر ہم ان سٹراز کا بائکاٹ کریں تو سٹرا بنانے والی فیکٹریاں خود ہی بند ہو جائیں گی اور اگر بند نہیں بھی ہوتیں تو ان کا کوئی ماحول دوست نعم البدل ضرور لائیں گی۔

دوسراطریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے استعمال کردہ پلاسٹک کو محفوظ طریقے سے ری سائیکل کریں۔ اگر ساحل سمندر پر کوئی ایسی چیز جو سمندر کو آلودہ یاسمندری حیات کو نقصان پہنچا سکتی ہو نظر آجائے تو اسے اٹھا کر کہیں کچرادان میں پھینک دیں۔ اپنے ماحول کو مستقبل کے لیے محفوظ بنانے کا سب سے آسان طریقہ شجرکاری ہے۔زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ اگر آپ نے درخت نہیں لگایا مگر آپ کے باغیچہ میں کسی بیج نے خود ہی زندگی پالی ہے تو اسے اکھاڑ کر نا پھینکیں، اس کا خیال رکھیں،پانی دیں،اپنے بچوں کی طرح اس کی پرورش کریں یہ آپ کے بچوں کے محافظ ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹےاور بہت معمولی اور آسان طریقے ہیں جس سے آپ اپنی ذمہ داری اور اپناکردار ادا کر سکتے ہیں۔

کہتے ہیں جو بھی ہوتا ہے اس میں خدا کی مصلحت ہوتی ہے اور جو ہوتا ہے،اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے قدرت نے ہمیں ایک موقع دیا ہے۔ ہماری زمین آلودگی کی وجہ سے ختم ہو رہی تھی۔ اس کروناوائرس اور لاک ڈاﺅن کے باعث ہماری زمین کو دوبارہ سانس لینے کا موقع مل رہا ہے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نوول کورونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر کی معیشت متاثر ہے اور لاکھوں چھوٹے بڑے کارخانے بند ہیں لیکن اسی وجہ سے عالمی فضائی آلودگی میں بھی ڈرامائی طور پرکمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ آبادی اور صنعتی لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین کی فضاوں میں مضر نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کورونا وائرس سے صنعتی سرگرمیوں، کاروں، ٹرکوں اور پاور پلانٹس کی بندش کے نتیجے میں ماحول پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈگیس کی مقدار بھی واضح طور پر کم ہوگئی ہے۔

جہاں کرونا وائرس انسانوں کے لیے آزمائش بنا ہے وہیں بے زبان جانوروں کے لیے ایک حسین حقیقت ثابت ہو رہا ہے۔ اٹلی کے شہر وینس کی نہروں کاپانی صدیوں بعد صاف شفاف ہوا ہے،جہاں اب ہزاروں کی تعداد میں انواع و اقسام کی مچھلیاں اور ڈولفنز کھل کے مستیاں کر رہی ہیں اور جہاں پر کئی سالوں بعدموسمی پرندوں نے آکر ڈیرے ڈالے ہیں،یورپ کے دیگر شہروں میں انسانوں سے خالی سڑکوں پر قریبی جنگلات کے خوبصورت ہرن اور انواع و اقسام کے خوبصورت جانور پہلی بار آزادی سے بنا کسی خوف و خطر ٹہل رہے ہیں۔قدرت اپنے خوبصورت رنگ پھر سے بکھیر رہی ہے۔قوس قزح کے پھیکےپڑتے رنگ پھر سے گہرے ہو رہے ہیں۔

میں جانتی ہوں یہ سب زیادہ طویل عرصے کے لیئے نہیں ہے مگر میں کرونا وائرس کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ جس کی وجہ سے تھوڑے عرصہ کے لیے ہی سہی مگر میری زمین سے اس آلودگی کا کچھ بوجھ تو کم ہوا اور دعا کرتی ہوں کہ اس سانحہ سے انسان سبق سیکھے کہ ترقی کی دوڑ میں ہم اپنے علاوہ باقی مخلوقات سے ان کی زندگی جینے کا حق نا چھینیں۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -