دوران حمل ایکسرے، سی ٹی سکین ماں اور بچے کیلئے انتہائی خطر ناک 

دوران حمل ایکسرے، سی ٹی سکین ماں اور بچے کیلئے انتہائی خطر ناک 

  

لاہور(جاوید اقبال)سروسز ہسپتال لاہور کے چیف کنسلٹنٹ ریڈیالوجسٹ اور مین ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سید محمد ناصرحسین قادری نے کہا ہے ایکسرے اور سی ٹی  سکین کی شعائیں ماں کے رحم میں موجود بچے اور ماں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہیں، دوران حمل ایکسرے اور سٹی سکین نہیں کرانا چاہیے۔ ان کے منفی اثرات سے بچہ پیدائشی معذور پیدا ہو سکتا ہے، مسلسل موبائل فون کا استعمال بہرا پن پیدا کر سکتا ہے، یاداشت اور سوچنے کی صلاحیت میں پچاس فیصد تک کمی کا باعث بنتا ہے۔ایکسرے اور سٹی سکین کی شعا ئیں بعض لوگوں میں بلڈ کینسر کا باعث بھی بن سکتی ہیں اس امر کا اظہار انھو ں نے گزشتہ روز پاکستان کو اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ڈاکٹر سید محمد ناصر حسین قادری نے کہا  ایکسرے کی مضرصحت شعائیں انسانی صحت کیلئے انتہاء خطرناک ہیں یہ بات اس کی ایجاد کیساتھ ہی ثابت ہو گئی تھی جب ایکسر ے کر نیوالے 90 سے زائد لوگ موت کی وادی میں چلے گئے اس پر جو کمیشن نے روپورٹ دی اس میں انکشاف کیا گیا تھا یہ لوگ ایکسرے کی خطرناک شعاوں کی بھینٹ چڑ ھے، جس کے بعد سخت حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں آج بھی جہاں ایکسرے میں کام کرنیوالا عملہ ایس او پیز کی خلاف وزری کرتاہے ان شعاعوں کا شکار ہوتاہے۔ تحقیق میں یہ بات ثابت ہے زچہ و بچہ کیلئے ایکسرے اور سٹی سکین کی شعائیں سب سے زیادہ خطرناک ہیں،لہٰذا حاملہ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش تک ایکسرے اور سٹی سکین ٹیسٹ ممنوع قرار دیا جائے کیونکہ ان دونوں کی شعائیں ماوں کے رحم میں پلنے والے بچے کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔ شعا ئیں بچوں کی نشو ونما کی دشمن بن کر سامنے آتی ہیں، گروتھ رک جاتی ہے، بچہ نامکمل سر کیساتھ یا مردہ پیدا ہو سکتا ہے بعض صورتوں میں تالو اور کٹے ہونٹوں کیساتھ بچے کی پیدائش ہوسکتی ہے گونگا یا بہرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ موبائل اور کمپیوٹر کے اندر بھی شعائیں ہوتی ہیں لیکن وہ قدرے کم خطرناک ہوتی ہیں۔مگر ان کا مسلسل استعمال نظر اور سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے زیادہ استعمال کرنیوالے ڈپریشن ٹینشن کا شکار ہو جاتے ہیں ان میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں کمی آجاتی ہے یادداشت وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ ذہنی تناو اور بے چینی کا شکار بھی ہوتا ہے،  ایکسرے اور سٹی سکین کا غیر ضرور ی ا ستعمال سے آنکھوں کی بینائی جا سکتی ہے یا متاثر ہو سکتی ہے مرد میں نا مردانگی کے چانسز زیادہ ہو سکتے ہیں،گلے کا گلہڑ ہو سکتے ہیں۔جدید تحقیق سے یہ ثابت ہے چار سو پچاس مرتبہ چیسٹ ایکسرے کروایا جائے تو اس کے مقابلے میں ایک دفعہ سٹی سکین کروا لیاجائے تو یہ دونوں کے مضر اثرات برابر ہوتے ہیں۔بار بار سٹی سکین کروانے سے خون کم بننا شروع ہو جاتا ہے۔ موبائل فون کا استعمال اسوقت سب سے زیادہ انسا نی صحت کیلئے نقصان دہ ہے جب بیٹر ی ختم ہونیوالی ہوتی ہے اس وقت کی شعاعیں عام وقت شعاعوں کے مقابلے میں سو فیصد زیادہ خطرناک ہوتی ہیں یا پھر وہ شعاعیں جب بیٹر ی چارج ہو رہی ہوتی ہے اس دوران فون کالز نہیں سننی چاہیے۔اس وقت بننے والی شعاعیں بہرے پن کا باعث بنتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد ناصر حسین قادری نے جواب میں کہاسروسز ہسپتال کے شعبہ میں ایکسرے کو اپنی مدد آپ کے تحت ایک ماڈل شعبے کے طور پر متعارف کرایا ہے، ساڑھے آٹھ لاکھ روپے اپنی جیب سے عطیہ دیا۔ ملازموں اور مریضوں کیلئے دو ٹھنڈے پانی کے کولر لگائے گئے ہیں خراب مشینوں ٹھیک کرایا گیاپء ڈاکٹر ناصر نے کہا یہاں ریڈیالوجی کے دو شعبے ہیں، ایک میں ایکسرے اور دوسرا ٹیچنگ سائیڈ پورے ہسپتال کو تین دن میں ایکسرے کور دیتا ہے اور تین دن ٹیچنگ والے جن کے پاس سو فیصد وسائل ہم سے زیادہ ہیں۔ الحمداللہ ہم سروسز ہسپتال میں مریضوں کو ایکسرے سٹی سکین الٹرا ساونڈ کی مفت سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹرناصر قادری

مزید :

صفحہ آخر -