مہنگائی کا ایک اور طوفان متوقع؟

مہنگائی کا ایک اور طوفان متوقع؟

  

پاکستان کے عوام کورونا اور مہنگائی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں کہ اب مزید بوجھ کے آثار پیدا ہو گئے ہیں،آئندہ یکم سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا کہ نہر سویز بند ہونے سے ایشیا کی طرف پٹرولیم کے آنے والے آئل ٹینکر پھنس گئے اور ان کی طرف سے فریٹ (کرایہ) بڑھا دیا گیا ہے۔ یوں اس بندش کے باعث قیمتوں پر جو اثر پڑے گا اس سے پاکستان کا متاثر ہونا بھی لازم ہے۔ خبر ہے کہ ریت کے طوفان کے باعث چند روز قبل 1300 فٹ طویل بحری جہاز نہر سویز میں پھنس گیا،اس سے یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری جہازوں کی آمدورفت رُک گئی۔30 سے زیادہ آئل ٹینکر بھی دوسری طرف رُک گئے،راستہ صاف کرنے کی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی،تاہم اب بھی دو تین ہفتے لگ جائیں گے،اس سے یورپ سے خریدے گئے تیل کی سپلائی یقینا متاثر ہو گی۔البتہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے تیل ملتا رہے گا۔ یہ صورتِ حال خاصی گمبھیر ہے اور پہلے سے مشکل حالات کو اور پیچیدہ بنا سکتی ہے کہ ہمارے ملک میں یورپی کمپنیاں بھی ہیں۔حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پٹرول کے نرخوں میں اضافہ روکا تھا، جو شاید اس بار مشکل ہو گا۔اگر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھے تو مہنگائی اور بڑھے گی،جس کی شرح15.35 فیصد ہو گئی ہے اور یہ شرح خود محکمہ شماریات کی ہے۔جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو رمضان سے پہلے ہی شتر بے مہار کی طرح بڑھ گئی، مرغی (برائلر) کا گوشت370 کو چھو چکا، جبکہ موسمی سبزیاں بھی پہنچ سے دور ہیں۔ ٹینڈے270 سے 280 روپے فی کلو، بھنڈی270 روپے فی کلو اور کریلے180 روپے فی کلو بک رہے ہیں۔ بیکری کے نرخ اور بڑھ گئے، ڈبل روٹی کے نرخ مزید10روپے اضافے کے ساتھ120روپے ہو گئے ہیں، انڈے (برائلر)165 روپے درجن بکتے ہیں، کھانا پکانے کا تیل اور گھی بھی 10سے 20 روپے فی کلو/لیٹر مہنگا ہو گیا۔

مزید :

رائے -اداریہ -