تیل بحران……تحقیقات در تحقیقات؟

تیل بحران……تحقیقات در تحقیقات؟

  

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ندیم بابر سے استعفا لے لیا گیا ہے اور سیکرٹری پٹرولیم کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،وفاقی وزیر اسد عمر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ندیم بابر کو جون 2020ء میں پیدا ہونے والے پٹرولیم بحران کا براہِ راست ذمے دار نہیں گردانا گیا، انہیں شفاف تحقیقات کے لئے ہٹایا گیا جو بھی قصور وار نکلا اس کے لئے ہتھکڑی ہو گی، دیکھنا ہے ذخیرہ اندوزی کس نے کی، وزیراعظم کا مافیا کو پیغام ہے بچ نہیں سکو گے ہر مجرم جیل جائے گا، ثبوت اور ذمہ داران کے تعین کے لئے ایف آئی اے کو فرانزک تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے، پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق پٹرولیم بحران میں اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، اس بحران میں مجرمانہ کیسز بھی سامنے آئے۔ تیل کی غیر قانونی فروخت میں ملوث افراد کا تعین بھی کیا جائے گا۔پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، وزارتِ میری ٹائم افیرز اور پورٹ اتھارٹی کے شریک افسران اور ملازمین کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں گی جن سرکاری ملازمین نے معاونت کی اور شراکت دار رہے ان کی بھی تحقیقات ہوں گی۔

پٹرول کا بحران بنیادی طور پر غلط فیصلوں کا نتیجہ تھا ظاہر ہے یہ فیصلے اُنہی لوگوں نے کئے جو یہ اختیار رکھتے تھے، یہ الگ بحث ہے کہ ایسے فیصلے انہوں نے کیونکر کئے، اُن سے سہو ہو گیا یا دانستہ ایسے فیصلے کئے جن سے اُن کا مفاد بھی وابستہ تھا، اب تک کسی ذمہ دار کو تو کچھ نہیں ہوا البتہ تیل کے اس بحران کی قیمت ملک و قوم نے اربوں کے نقصان کی شکل میں ادا کی اور جن دِنوں تیل دُنیا بھر میں ٹکے ٹوکری ہو گیا تھا، برائے نام قیمت پر بھی خریدار موجود نہ تھے،ہمارے پیارے پاکستان میں منظر یہ تھا کہ کم و بیش ایک مہینے تک پٹرول کے خریدار خجل خوار ہو رہے تھے، جہاں  تھوڑا بہت پٹرول دستیاب تھا وہاں لمبی لمبی قطاریں تھیں،محدود تعداد میں ضرورت مندوں کو پٹرول ملتا اور پھر جلد ہی ختم ہو جاتا۔وجہ اس کی یہ تھی کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتیں کم کیں تو کمپنیاں اس نرخ پر پٹرول فروخت کرنے کے لئے تیار نہ ہوئیں،پھر جونہی قیمت بڑھائی گئی آناً فاناً پٹرول دستیاب ہونا شروع ہو گیا۔ گویا یہ ثابت ہو گیا کہ سارا چکر قیمتوں میں کمی کا تھا، غلط فیصلوں کا ایک کرشمہ اس شکل میں بھی نظر آیا کہ جب پوری دُنیا میں سستا پٹرول دستیاب تھا اور ضرورت تھی کہ زیادہ سے زیادہ خرید لیا جاتا، حیران کن طور پر پٹرول کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی، آج تک اس کی منطق سمجھ نہیں آئی، بظاہر تو یہ کہا گیا کہ کورونا کے باعث بہت کم ٹرانسپورٹ سڑکوں پر ہے،اِس لئے پٹرول کی ضرورت ہی نہیں ہے،لیکن کسی نے یہ نہ سوچا یا جان بوجھ کر ایسی صورتِ حال پیدا کی کہ آخر ٹریفک نے معمول پر آنا ہے اور جب ایسا ہو گا تو پٹرول کیسے دستیاب ہو گا؟

پٹرول بحران کی تحقیقات کے لئے جو کمیشن بنایا گیا تھا اس نے گزشتہ دسمبر میں رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وزارتِ پٹرولیم  اور ڈائریکٹر جنرل تیل اس بات کو یقینی بنانے میں ناکام ہوئے کہ تیل کمپنیاں فروری سے لے کر اپریل (2020ء) کے مہینوں میں تیل خریدتیں اور ذخیرہ کرتیں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تیل صاف کرنے کے مقامی کارخانوں سے باقاعدہ کوٹہ لینے سے انکار کر دیا،لیکن اس معاملے پر نہ تو وزارتِ پٹرولیم نے توجہ دی اور نہ ہی ریگولیٹری ادارے اوگرا نے۔پٹرولیم کمیشن کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ25 مارچ2020ء کو وزارتِ پٹرولیم نے ایک حکم کے ذریعے تمام تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے امپورٹ آرڈر منسوخ کر دیں یہ حکم اپنی جگہ حیران کن بھی تھا اور متنازع بھی، کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب تیل آسانی سے اور سستا دستیاب تھا اور اگر ان دِنوں خریداری کی جاتی تو آنے والے دِنوں میں اس سے فائدہ ہوتا نہ صرف حکومت کو زرمبادلہ کی بچت ہوتی، بلکہ تیل کے صارفین کو بھی سستا تیل کچھ عرصے ہی کے لئے سہی، میسر آ جاتا،لیکن پراسرار طور پر درآمدی آرڈر منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ وزارتِ پٹرولیم مقامی آئل ریفائنریوں سے سٹاک کی منتقلی کو یقینی بناتی تو ایسی پابندی کی ضرورت ہی نہ پڑتی،لیکن ہوا یہ کہ درآمد پر پابندی اور بعد میں اسے بحال کرنے سے سپلائی میں تعطل آ گیا،آئل کمپنیوں کی غفلت کا سارا بوجھ وزارتِ پٹرولیم نے پاکستان سٹیٹ آئل(پی ایس او) پر ڈال دیا، پھر لطیفہ یہ ہوا کہ جون کے مہینے میں اس سرکاری کمپنی سے کہا گیا کہ وہ تیل درآمد کرے جو اس وقت تک مہنگا ہو چکا تھا، کمپنی گراں نرخوں پر منگوایا گیا یہی تیل نسبتاً سستے داموں صارفین کو فروخت کرنے پر مجبور ہوئی،اس طرح اسے سات سے آٹھ ارب تک کا نقصان برداشت کرنا پڑا،گویا سرکاری کمپنی کے مقابلے میں پرائیویٹ کمپنیوں کو اس طرح فائدہ پہنچایا گیا کہ انہوں نے تیل درآمد کر کے ذخیرہ کرنا شروع کر دیا اور جب حکومت نے قیمتیں بڑھا دیں تو سستا درآمد کیا گیا یہی تیل مہنگے داموں فروخت کیا گیا۔

رپورٹ میں اِس ضمن میں بھارت کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے جس نے سٹرٹیجک سٹوریج کو اہمیت دی اور سستے داموں تیل خرید کر رکھ لیا جو بعد میں معمول کے مطابق فروخت ہوتا رہا اور وہاں کسی قسم کی قلت محسوس نہیں کی گئی۔اپریل کے مہینے میں جب پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی آئی تو وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ندیم بابر نے کہا تھا کہ وزارت بحری امور سے کہا گیا ہے کہ ایک فلوٹنگ سٹوریج بنائیں اور اپنے ٹینکرز میں ذخیرہ کر لیں،لیکن اس پر کوئی عمل نہ ہوا اور تمام سودے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ہی کئے گئے اور سستا تیل ذخیرہ نہیں کیا گیا۔ اسد عمر کہتے ہیں کہ ندیم بابر کو اس لئے ہٹایا گیا ہے کہ وہ تحقیقات پر اثر انداز نہ ہوں،لیکن اُنہیں یاد ہو گا کہ ندیم بابر نے کچھ عرصہ پہلے خود ہی استعفا دے دیا تھا جو منظور نہیں کیا گیا اگر اس وقت حکومت کے پاس استعفا نامنظور کرنے کا جواز موجود تھا تو اب یکایک ان سے استعفا طلب کیوں کیا گیا ہے،اس کی وضاحت بھی لگے ہاتھوں ہونی چاہئے،ویسے اسد عمر تو ذمے داروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑی دیکھنا چاہتے ہیں،دیکھیں وہ وقت کب آتا ہے؟فی الحال تو تحقیقات در تحقیقات کا عمل ہی جاری ہے، ایک تحقیق ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہو جاتی ہے، ان سے نکلیں گے تو کسی جزا سزا کی نوبت آئے گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -