ہم کہ ٹھہرے اجنبی…………

ہم کہ ٹھہرے اجنبی…………
ہم کہ ٹھہرے اجنبی…………

  

وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ حالات بھی بدلتے رہتے ہیں،ہمیں پہلے ہی کچھ شبہ ہو رہا تھا، اور ہم نے یہ ذکر بھی کیا کہ روایت کے خلاف اس بار ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر جلسہ لیاقت باغ راولپنڈی میں ہو رہا ہے اور یہ جلسہ اب منسوخ کر دیا گیا۔بتایا گیا کہ یہ منسوخی کورونا کے پھیلاؤ کے باعث ہے۔ہمیں تو یاد ہے اور قارئین بھی جانتے ہیں کہ گزشتہ برس(2020ء) 4اپریل کو جب گڑھی خدا بخش میں اجتماع ہوا تو کورونا کی صورتِ حال کیا تھی، اب تو یہ تیسری لہر ہے، اس کے بارے میں طبی ماہرین کی آرا میں اختلاف ہے۔ ایک بڑا طبقہ یہ بتا رہا ہے کہ کورونا کی یہ قسم زیادہ خطرناک نہیں ہے،یہاں تو ہر تیسرا فرد متاثر ہے اور اپنے مدافعتی نظام اور لاعلمی کے باعث چلتے پھرتے ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔دوسرے طبقے کے مطابق تیسری لہر خطرناک ہے اور اس سے بچنا لازم ہے، جبکہ این سی او سی اور حکومتی سطح پر صورتِ حال کو تشویشناک بتایا جاتا ہے۔اسی کے نتیجے میں پنجاب میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔کورونا ویکسین اب 50سے زیادہ عمر والوں کو بھی لگانے کا اہتمام کر لیا گیا ہے۔ ان کی رجسٹریشن 30 مارچ سے شروع ہو گی،اس سب کے باوجود ابھی تک ماہرین کا پہلا طبقہ اپنی بات پر قائم ہے اور عام آدمی کو یہ بات زیادہ اچھی لگتی ہے کہ پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتا ہے،بہرحال یہ بحث الگ ہے،بات تو پیپلزپارٹی کے جلسہ کی ہو رہی تھی،جو ملتوی کر دیا گیا، متبادل طور پر بھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ یہ شاید گڑھی خدا بخش مزار کمیٹی کرے گی،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیالوں کو جھٹکا لگا ہے اور ہم جیسے صحافی حیران ہیں۔ ہمیں تو یاد ہے کہ جبر کے دِنوں میں بھی برسی کی تقریبات اور جلسہ ہوتا رہا،حتیٰ کہ2001ء میں بھی بڑا جلسہ ہوا،محترمہ بے نظیر بھٹو نے خطاب کیا تھا، وہ اس کے بعد برسی کے جلسے سے خطاب نہ کر سکی تھیں کہ لاڑکانہ سے کراچی اور وہاں سے دبئی روانہ ہو گئی تھیں،ان کی واپسی اکتوبر2007ء میں ہوئی اور اسی سال 27دسمبر کو وہ خالق حقیقی سے جا ملی تھیں۔ اب یہ پہلی بار ایسا التوا ہوا،اب تو شاید نواسہ ذوالفقار علی بھٹو 3،4 اپریل کو گڑھی خدا بخش بھی نہ جا سکے کہ 4اپریل کو اسلام آباد میں سنٹرل کونسل کا اجلاس ہے۔یہ سنٹرل کونسل آصف علی زرداری والی ہے، محترمہ والی تو ان کے ساتھ ہی اپنا دور پورا کر گئی، جبکہ محترمہ نے سینئر پارٹی رہنماؤں پر مشتمل جو فیڈرل کونسل بنائی تھی وہ بھی تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو چکی ہے،اِس لئے جو کہتے ہیں کہ یہ نئی پیپلزپارٹی ہے، ان کی بات میں وزن ہے۔

یہ تو یاد داشت کے لئے تھا، اصل بات تو یہ کرنا تھی کہ جو توقعات پی ڈی ایم اور اس حوالے سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)  کے کردار سے تھیں وہ نقش بر آب ثابت ہوئی ہیں، اور ان جماعتوں کے درمیان پھر سے فاصلے بڑھ گئے کہ پی ڈی ایم کے اندر فیصلہ کرنے کی بجائے ہر دو جماعتوں نے اپنا اپنا فیصلہ کیا، پیپلز پارٹی نے اپنی جماعت کے لئے لیڈر آف اپوزیشن (سینیٹ پاکستان) کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے درخواست کی تو مسلم لیگ (ن) بھی یہ کر چکی تھی مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اعظم تارڑ کی درخواست 21 اراکین کی حمایت سے داخل کی گئی  تو پیپلز پارٹی نے بھی یوسف رضا گیلانی کی درخواست 31 اراکین کے دستخطوں سے پیش کر دی، جمہوریت میں بندوں کو گِنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ یوسف رضا گیلانی نے اکثریت ثابت کر دی اور ان کے حق میں جھٹ پٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا اور وہ کہتے ہیں، سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔مسلم لیگ (ن) حیران و پریشان ہے، اور وہ اس عمل کو دھوکا قرار دے کر مولانا فضل الرحمن سے شکایت لگانے کی بات کر رہی ہے،ان حالات میں حزبِ اقتدار خوش، شیخ رشید پھولے نہیں سما رہے، کہ وہ یہی کہتے تھے اور یہی ہوا،جبکہ حکومتی وزرا اور ترجمان پی ڈی ایم کی تدفین کا نعرہ لگا رہے ہیں، حالات کے مطابق تو اب صورتِ حال فیض احمد فیض کی غزل کے مطلع والی ہو گئی ”ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مدارتوں کے بعد“ اب شاید مولانا پیپلزپارٹی کو ہی الگ کرنے والے فیصلہ کر لیں،یوں بھی آپس کی نوک جھونک اس وقت تک جاری رہے گی،جب تک پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس نہیں ہوتا، جو4 اپریل کو پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے بعد ہی ہو گا کہ پیپلز پارٹی نے اس اجلاس میں استعفوں کے حوالے سے فیصلہ کر  کے مولانا کو آگاہ کرنا ہے اور متوقع طور پر یہ ڈپلومیٹک ہو گا،”ہر چند کہ ہیں اور نہیں ہیں“ والا عمل ہی ہو گا کہ پیپلز پارٹی کا اب تک کا موقف یہی ہے کہ استعفے بالکل آخری آپشن ہو، اب تو شاید اس پر بھی کوئی بات نہ بن سکے کہ مسلم لیگ(ن) اصرار کرے گی۔ مولانا خود بھی استعفوں کو لانگ مارچ کے ساتھ منسلک کرنے کے حق میں ہیں۔سرکاری ذرائع تو اب لانگ مارچ مزید ملتوی  ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

قارئین کرام! یہ حالات حاضرہ ہیں، ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ عوام کسی شمار میں نہیں ہیں، اور عوام کے نام پر کھیل اقتدار کا ہوتا ہے، دونوں جماعتوں (مسلم لیگ(ن)+ پیپلزپارٹی) نے اپنا اپنا مفاد دیکھا، اب پیپلزپارٹی کے خلاف ”طاقتوروں“ کی شہ اور حمایت کا الزام ہے، تو مسلم لیگ(ن) پر نواز شریف بیانیہ کی بات ہو گی، اس سلسلے میں رانا ثناء اللہ ریکارڈ پر ہیں،جنہوں نے کہا ”آصف علی زرداری نے تو کہہ دیا تھا،مَیں کمزور آدمی ہوں، اسٹیبلشمنٹ سے نہیں لڑ سکتا“ اس کا الٹ مقصد یہ بھی ہے کہ ہم لڑ رہے ہیں۔بہرحال یہ تو شطرنج کا کھیل ہے، ہم نے گزشتہ روز یہ عرض کیا تھا کہ لیاقت باغ کا جلسہ پیپلز پارٹی کے لئے امتحان ہو گا، لیکن یہ نوبت ہی نہیں آئی اور ”کورونا“ نے عزت بچا لی ہے، ہمارے بہت سے دوست اس تحریر کے بعد ناراضی کا اظہار کریں گے، لیکن اکثریت کو یہ حقیقت ہی نظر آئے گی کہ وہ خود بھی یہی کہہ رہے ہیں،اب تو برملا کہا جا رہا ہے کہ محترم سابق صدر آصف علی زرداری نے بلاول کی سیاست کو بھی سپیڈ بریکروں کے سپرد کر دیا ہے۔نہ یہ ختم ہوں گے اور نہ گاڑی رفتار پکڑ سکے گی۔اس سے سب بیانیئے دھرنے کے دھرے رہ گئے اور ہم غریب عوام مسلسل مہنگائی، بیماری اور بے روزگاری کی چکی میں پستے چلے جائیں گے، اچھے وقت کی امید دم توڑ رہی ہے اور خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔داخلی انتشار بڑھے گا تو خارجی محاذ پر بھی تبدیلیوں کے اشارے مل رہے ہیں۔یہ جو بھی ہو ہا ہے، تعجب کا باعث نہیں کہ چودہ سو سال سے بھی پہلے نبی اکرمؐ نے سب واضح کر دیا تھا اس وبا کا بھی ذکر موجود ہے، مقصود اہل ِ اسلام کو آگاہ کرنا تھا کہ توبہ کرو اور سیدھا راستہ اختیار کرو گے تو بچو گے ورنہ؟

مزید :

رائے -کالم -