لہجوں کی تلخی کم کر لیں 

لہجوں کی تلخی کم کر لیں 
لہجوں کی تلخی کم کر لیں 

  

پاکستان پیپلز پارٹی نے اس سسٹم کا حصہ بننے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے خلاف نون لیگ سینہ سپر ہے۔ پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ اس خلا کو پر کرنے کے لئے کیا ہے جو پی ٹی آئی کی ناقص کارکردگی سے جنم لے چکا ہے اور عوامی بے چینی کا سبب بن رہا ہے۔ تاہم اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی نام نہاد مقبولیت کے نام پر آئی ایم ایف نے سبسڈیوں کے خاتمے کے جو اہداف حاصل کئے ہیں اور پی ٹی آئی کے عوامی دعووں اور وعدوں کا جنازہ جس طرح نکلا ہے اس کے بعد صرف کھلاڑی تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ ایک پرانے گراؤنڈ میں ایک پرانا کھیل جاری و ساری رہے گا۔ بس فرق یہ پڑے گا کہ ایک کرکٹر کی جگہ ایک خطروں کا کھلاڑی لے لے گا۔ یہ سب کچھ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی کے نام پر کیا جا رہا ہے جبکہ نون لیگ سسٹم بدلنے کا نعرہ لگا کر سارے کھیل سے باہر کھڑی ہے اور عوام کو باور کرارہی ہے کہ آئین میں مداخلت سے ملک نہیں چل سکتا ۔

پیپلزپارٹی نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ 2018میں اقتدار میں آنے کی باری اس کی تھی مگر چند سابق جرنیلوں کی خواہش پر عمران خان کو وزارت عظمیٰ پر بٹھادیا گیا۔ اب جبکہ عمران خان عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہو گئے ہیں اس لئے باقی کی پارلیمانی مدت کے دوران اقتدار اس کا حق بنتا ہے اور وہ یہ حق لینے میں کسی تامل کا اظہار نہیں کرے گی۔ تبھی تو مریم نواز نے ٹویٹ کیا تھا کہ فکر تو عمران خان کو ہونی چاہئے کہ ان کا متبادل تیار کیا جا رہا ہے۔ 

یار لوگ اس قضیئے میں سے پی ڈی ایم کے ٹوٹ جانے کی پخ نکال رہے ہیں اور حکومت سمیت پیپلز پارٹی کے حمائتی حلقے چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ نون لیگ گھاٹے میں رہ گئی اور مولانا بھی بے توقیر ہو گئے ہیں جبکہ سب سے بڑی منفعت پیپلز پارٹی کے حصے میں آگئی ہے۔ اگر وقتی تبدیلیوں پر جایا جائے تو اس بات میں وزن دکھائی دیتا ہے مگر کیا آج سے اڑھائی برس بعد جب عام انتخابات کا ڈول ڈالا جائے گا تو بھی پیپلز پارٹی ایسی ریشہ دوانیوں سے عوام کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب اڑھائی برس بعد ہی حاصل ہو سکے گا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی مل کر نون لیگ کے مد مقابل پنجاب میں الیکشن لڑیں گے اور یوں پنجاب میں اس کی بڑھی ہوئی مقبولیت میں ایک بڑا کھپہ ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس بات کا ایک سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ تب بھی اسٹیبلشمنٹ ہی چار چاند دکھلائے گی تو ایسا ممکن ہوگا وگرنہ تو 2008سے 2013کے دوران پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور 2018سے 2021تک پی ٹی آئی کی کارکردگی کسی بھی طرح اس قابل دکھائی نہیں دیتی کہ عوام سے ووٹوں کی توقع کرسکیں۔ تاہم چونکہ یہ پاکستان ہے جہاں سب کچھ ہر وقت ممکن ہوتا ہے اور جہاں 2013سے 2018کے دوران شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ملک کو بجلی کے اندھیروں سے نکالنے کے باوجود نون لیگ کو پچھاڑ دیا جاتا ہے، اس لئے اگر کہنے والے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی مل کر نون لیگ کی مقبولیت میں کھپہ ڈال لیں گے تو مانے لیتے ہیں۔ 

تاہم یہ بات درست ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان پر دائرہ در دائرہ اسٹیبلشمنٹ کے گہرے سائے جوں کے توں موجود رہیں گے اور نون لیگ کی جانب سے سسٹم تبدیل کرنے کے نعرے کے باوجود کچھ خاص نہیں بدلے گا،  زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ آج جو قوتیں پارلیمنٹ سے باہر بیٹھ کر پارلیمنٹ چلاتی ہیں، سسٹم تبدیل ہونے کے بعد وہ پارلیمنٹ کے اندر بھی آن دھمکیں اور سیاستدانوں کے شانہ بشانہ بیٹھ کر فیصلہ سازی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہوں جبکہ جس انداز سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خودمختار بنانے کا کھیل رچایا گیا ہے اور جس طرح ایف بی آر عوام کے گرد شکنجہ کستا جا رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ نون لیگ سیاسی خودمختاری تو کچھ حد تک سیاستدانوں کو دلوادے گی مگر معاشی خودمختاری تب بھی ایک خواب ہی رہے گی۔ 

فی زمانہ معیشت ہی سیاست ہے اور جس کے پاس معاشی فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے وہی سیاست کا رخ متعین کرتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ہماری ملکی خودمختاری عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی پڑی ہے اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم ان کے اشاروں پر اپنے ہاں حکومتیں بنائیں اور گرائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم معاشی طور پر اس قدر مضبوط ہوسکتے ہیں کہ اپنی سیاسی خودمختاری کو یقینی بنا سکیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمارے سیاستدانوں، قوت نافذہ کے حامل اداروں اور عوا م کو مل کر ڈھونڈنا ہے کیونکہ اب تو سیاست میں چہرے بھی تبدیل نہیں ہورہے ہیں بس ایک ہی کٹھ پتلی کے منہ پر نیا رنگ کرکے پیش کردیا جاتا ہے جبکہ پیچھے سے ڈوریاں ہلانے والے من مرضیاں کرتے پھرتے ہیں۔ تاریخ میں جب بھی کوئی طاقتور کسی دوسرے علاقے پر قبضہ کرتا تھا تو اس کا سب سے پہلا کام وہاں کے باسیوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہوا کرتا تھا۔ آج پاکستان کی بھی وہی حالت ہو چکی ہے کہ ہمارے حکمران ہمارے اندر سے ہونے کے باوجود باہر کی قوتوں کے قابو میں ہیں جن کا کام اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کو ہم پر نافذ کرنا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ نواز شریف ذرا کم نافذ کرتے ہیں، آصف زرداری ذرا زیادہ نافذ کرجاتے ہیں اور ان دونوں کے بیچ میں کہیں عمران خان ابھرتے ہیں جو بالکل ہی بھٹہ بٹھا دیتے ہیں۔ اور پھر مریم کون سا اسٹیبلشمنٹ سے بڑھ کر ہیں، اس لئے بہتر ہے وہ اپنے لہجے کی تلخی کو کم کرلیں تاکہ عوام ذہنی طور پر تیار رہیں!

مزید :

رائے -کالم -