”باپ“ پارٹی سے الحاق، پی پی کی اپوزیشن اتحاد سے راہیں جدا، احسن اقبال 

”باپ“ پارٹی سے الحاق، پی پی کی اپوزیشن اتحاد سے راہیں جدا، احسن اقبال 

  

ملتان (سٹی رپو رٹر)مسلم لیگ ن کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے '' باپ '' پارٹی سے الحاق کر کے پی ڈی ایم سے پہلے ہی راہیں جدا کر لی ہیں - پیپلز پارٹی نے عملی طور پر ایک علیحدہ اتحاد بنا لیا - پیپلز پارٹی کے اس قدم سے جہاں پی ڈی ایم کو شدید دکھ ہوا اور دھچکا لگا وہیں پیپلز پارٹی کو بھی شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہیں - ''باپ'' پارٹی کے ساتھ الحاق سے لگتا ہے یہ بھی سلیکٹڈ کی لسٹ (بقیہ نمبر22صفحہ6پر)

میں شامل ہو گئے ہیں - بہتر ہوتا کہ آپ نواز شریف  سے اپوزیشن لیڈر سینیٹ کے لئے بولتے وہ آپ کی حمایت کا اعلان کر دیتے - گیلانی صاحب اچھے انسان ہیں لیکن انہیں اخلاقی طور پر اس حوالے سے پی ڈی ایم کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا - علیحدہ صوبے کے قیام کے لئے حکومت کو ''بلینک چیک '' کے طور پر ووٹ دینے کے لئے تیار ہیں لیکن حکومت علیحدہ صوبہ بنانے کے لئے تیار ہی نہیں - موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تمام اداروں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں - اسٹیٹ بینک ائی ایم ایف کو جوابدہ ہو گیا ہے جس سے پاکستان مالیاتی خود مختاری کھو چکا ہے - ایچ ای سی کو فنڈز نہیں دیئے جا رہے ہے - موجودہ حکومت کشمیر کا بھی سودہ کر چکی ہے - اسٹیٹ بینک اور ایچ ای سی کے حوالے سے ہم عدالت جائیں گے - تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف سے قسط وصول کرنے کے لئے 900 ارب روپے کے ٹیکس عوام پر لگانے کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کردیا گیا  - ہمیں خدشہ ہے کہ یہ کہیں ایٹمی پروگرام کا سودا نبھی ہ کر دیں - پاکستان کی بقا کے لئے اب صرف پی ڈی ایم نہیں بلکہ ہر پاکستانی کو اٹھنا ہوگا ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے جاوید ہاشمی کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ پورا پاکستان اس وقت حکومت کی ناقص پالیسیوں کی سزا کاٹ رہا ہے - عمران خان نے کہا تھا جنوبی پنجاب کو 90 دنوں میں بنائیں گے لیکن  تین سال گزرنے جانے کے باوجود کچھ نہ ہوا، علیدہ صوبہ کا دور دور تک کوئی امکان نہیں، ہم  جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبہ بنانے کے لیے ووٹ دینے کو تیار ہیں، حکومت سے تنگ عوام کو نواز شریف اور شہباز شریف کا دور حکومت یاد آ رہا ہے، آج ہر پاکستانی کو اپنے لیے کھڑا ہونا اور اس حکومت کے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے - انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی خود مختاری کا سودا کردیا گیا، 500 ملین ڈالر حاصل کرنے کے لیے حکومت نے مالیاتی ادارے کا سودا کردیا گیا، پاکستان کے جو اندرونی حالات چل رہے ہیں جو بھی قرضہ دینے والے ہونگے وہی اس کے ملک کے مالک ہونگے، ہمارا اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کا غلام بن چکا ہے - 900 ارب کے مالیاتی آرڈیننس آئی ایم ایف کو راضی کرنے لیے جاری کر دیئے گئے ہیں اپنے ملک کو بچانے کے لیے ہر پاکستانی کو کھڑا ہونا پڑے گا، انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت نے معشیت کو برباد کر دیا ہے، حکومت اس ملک میں ہر چیز کی سودے بازی کر رہی ہے، پاکستان کی معیشت کو چلانے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لیا جس کے لیے ملکی خود مختاری قربان کردی، ایوان صدر کو پاکستان آرڈیننس فیکٹری بنا دیا گیا جہاں سے روز آرڈیننس جاری کیے جاتے ہیں، پارلیمنٹ سے 900 ارب روپے کے ٹیکسز پاس کروا کر عوام پر لاگو کر دیئے گئے ہیں، حکومت کی جانب سے ایچ آئی سی کے دستے پر حملہ کردیا گیا، پاکستان مسلم لیگ ن ایچ ای سی کا ٹوٹل بجٹ  13 ارب سے اٹھا 46 ارب کیا، لیکن اب مسلسل ایچ ای سی کے فنڈز کاٹے جارہے ہیں, ہم ہائیر ایجوکیشن اور اسٹیٹ بنک پر کئے گئے حملے کو عدالت میں چیلنج کریں گے، کشمیر ایشو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو بھارت کے حوالے کردیا گیا کشمیر کے معاملے پر حکومت فاتحہ پڑھ چکی ہے دس سال عمران خان نے عوام کو گمراہ کیا اب پاکستان کے ہر ادارے کو تباہ کیا جا رہا ہے - جب پاکستان کے ادارے تباہ ہو جائیں گے تو ریاست اندر سے ٹوٹ جاتی ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا، لگتا ہے وزیر اعظم ایٹمی پروگرام کا بھی سودا نہ کردے کیونکہ ہر ادارے پر تو حملہ کیا گیا ہے - عمران خان اور شہزاد اکبر نے اپنے خلاف ثبوت مٹانے کے لیے براڈ شیٹ کی فائلیں ہی گم کروا دیں - مسلم لیگ ن کی حکومت کو دھاندلی کے زریعے نکالا گیا کوئی پوچھنے والا نہیں - نواز شریف کے دور حکومت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے ابھی تک ایک ڈالر کا بھی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا - انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے چین اور سعودیہ سمیت دیگر ممالک کو ناراض کردیا، امریکی صدر نے بھوٹان سمیت 40 ممالک کو بلایا جس میں پاکستان شامل نہیں تھا - پاکستان اپنی اخلاقی حیثیت گم کرتا جا رہے ہیں - ہمیں اپنے ملک کو بچانے کے لئے یکجا ہونا ضروری ہے -

احسن اقبال

مزید :

ملتان صفحہ آخر -