کورونا کی تیسری لہر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے:تیمور جھگڑا

کورونا کی تیسری لہر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے:تیمور جھگڑا

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)کورونا کی تیسری لہر میں تیزی سے اضافہ ہورہارہے، عوام اور تاجر برادری سے کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کی اپیل ہے،خیبر پختونخوا میں مثبت کیسوں کی تعداد 11.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو پہلی لہر کے بعد سب سے زیادہ ہے،پشاور میں آج مثبت کیسوں کی تعداد 28 فیصد تک پہنچی گئی ہے جبکہ اوسطاً 24 فیصد ہے اسی طرح مردان 12 فیصد، چارسدہ 11 فیصد، سوات 26 فیصد، نوشہرہ19 فیصد، صوابی 11 فیصد، ملاکنڈ12 فیصد، بونیر 16 فیصد،اور باجوڑ11 فیصد ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کے حوالے سے این سی او سی اجلاس میں شرکت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت وخزانہ تیمورسلیم جھگڑا اور معاون خصوصی اطلاعات واعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں یومیہ کوروناٹسٹوں کی تعداد تقریبا 7 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو صوبہ پنجاب اور سندھ سے زیادہ ہے، وزیر صحت نے کہا کہ کچھ مخصوص اضلاع میں ہسپتالوں پر آہستہ آہستہ دباؤ بڑھ رہا ہے،ہسپتالوں میں مختص بیڈز کے حوالے سے تفصیلات بتا تے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہسپتالوں میں 259 لو فلو بیڈز، 523 ایچ ڈی یوبیڈز، 105 آئی سی یو بیڈز اور 44 وینٹی لیٹرز زیراستعمال ہیں، انہوں نے کہا کہ پشاور، مردان اور سوات میں اگلے ہفتے سے مزید 150 بیڈز کا اضافہ کیا جائیگا،معاون خصوصی اطلاعات واعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عوام اور تاجربرادری کے تعاون سے کورونا کی پہلی اور دوسری لہر سے کامیابی سے نمٹے تھے، اب عوام اور تاجر برداری سے کوروناکی تیسری لہر میں بھی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی اپیل ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے معیشت کا پہیہ بھی چلانا ہے اور کورونا سے بھی محفوظ رہنا ہے،اس لئے ایس او پیز پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہماری معیشت ہمیں اجازت نہیں دیتی کہ ہم مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جائیں،احتیاطی تدابیر سے روگردانی ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کی طرف لے جاسکتی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -