نیشنل ایجوکیشن کونسل کا احتجاجی مظاہرے کی حمایت کا اعلان

نیشنل ایجوکیشن کونسل کا احتجاجی مظاہرے کی حمایت کا اعلان

  

پشاور(سٹی رپورٹر)نیشنل ایجوکیشن کونسل پاکستان (نیک)نے تعلیمی اداروں کی بندش کو مسترد کرتے ہوئے 5 اپریل کو صوبائی اسمبلی کے سامنے ہونیوالے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کر دی جبکہ سکولز کھولنے کا  بھی اعلان کرد یا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کورونا کے باعث  اٹھ ماہ سے بند تعلیمی اداروں کے ہونیوالے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور چھوٹے سکولوں کو کرایہ میں ریلیف سمیت اساتذہ کی تنخواہیں ادا کی جائے تاہم واضح کیا ہے کہ 31مارچ کو اسلام آباد میں تعلیم بچاو ریلی میں بھی بھر پور شرکت کرینگے پشاور پریس کلب میں نیشنل ایجوکیشن کونسل کے چیئرمین نذر حسین،ایپسا کے صدر ظفر اقبال،پیما کے نائب صدر معراج النبی،اقراء سکول تحفظ تعلیم کے صدر گل نبی اور دیگر نجی سکولوں کے نمائندہ تنظیموں نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ منڈیاں،بازار اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں کو بغیر ایس او پیز کے کھولا رکھا گیا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کو بند رکھا گیا ہے جو ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے اور تعلیمی اداروں ارو طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور ائین پاکستان کے ارٹیکل 25 کی توہین ہے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے صحت اور صحت کے ماہرین کے مطابق بچے باہر ماحول کے نسبت تعلیمی اداروں میں زیادہ محفوظ ہے انہوں نے کہا کہ مارچ 2019سے اب تک تعلیمی اداروں کو بلا جواز بند رکھنے سے نا قابل تلاافی نقصان ہوا ہے جبکہ چھوٹے تعلیمی اداروں کو اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی اور سکول عمارات کی کرایہ میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے  جبکہ زیادہ تر مالکان نے زیورات اور گھر فروخت کر کے ادائیگیاں کی ہے انہوں نے کہا کہ بڑے تعلیمی اداروں نے فیسوں کی اصولی مکمل کی ہے لیکن چھوٹے تعلیمی اداروں کے اب بھی فیسوں کی  عدم اصولی کی مد میں لاکھوں روپے خسارہ کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کا تعلیم سے محبت ختم ہو رہی ہے جبکہ پسماندہ علاقوں کے چھوٹے سکولوں کے طلبہ چائلڈ لیبر کی جانب راغب ہونے لگے جو افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل درامد کروانے پر توجہ دی جائے  انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر تعلیم کے فیصلہ کے مطابق امتحانات کو جاری رکھا جائے گا لیکن پختونخوا میں امتحانات کو بھی بند کیا گیا جبکہ سکولوں کو جرمانہ کیا گیا انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چھوٹے سکولوں کے اساتذہ کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے،سکولوں کو ایس او پیز کیساتھ کھولا جائے،اساتذۃ کو تنخواہوں کی ادائیگی اور سکولوں کے عمارات کے کرایہ کیلئے ریلیف پیکج دینے سمیت حکومت بلا جواز تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے گریز کریں اور واضح کیا ہے کہ مزید تعلیمی اداروں کی بندش کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -