چھوٹے تاجروں پر ٹیکس کی تجویز مسترد کرتے ہیں، اشرف بھٹی

  چھوٹے تاجروں پر ٹیکس کی تجویز مسترد کرتے ہیں، اشرف بھٹی

  

لاہور(این این آئی)آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی کاروباری اور تنخواہ دار طبقے کیلئے نظرثانی شدہ ٹیکس سلیبز کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ماہانہ 50ہزار سے62500روپے کمانے والوں پر 5فیصد اور اس سے اوپر سلیبز کیلئے مزید اضافے سے ٹیکس وصول کرنے کی مجوزہ تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ ملک میں جس طرح کے حالات ہیں ایسے میں چھوٹے تاجر اور تنخواہ دار طبقہ اب مزید کسی طرح کا بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے ماہانہ 50ہزار سے62500روپے کمانے والوں پر 5فیصد،79ہزار سے زیادہ ماہانہ کمانے والے مڈل انکم گروپ کیلئے 10فیصد،ماہانہ104000روپے سے کم کمانے والوں پر 20فیصد اورماہانہ 104000سے10لاکھ روپے تک آمدن حاصل کرنے والوں سے30فیصد ٹیکس لینے کی تجویز دی ہے جو سراسرظلم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تنخواہیں لینے والوں سے بیشک ٹیکس کی وصولی کی جائے لیکن ہزاروں میں ماہانہ تنخواہ لینے والے اور چھوٹے تاجروں پر کسی طرح کا ٹیکس قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں جب تک اپنے اخراجات کم اور نیک نیتی سے بیرونی قرض اتارنے کیلئے جستجو نہیں کریں گی عالمی مالیاتی ادارے اسی طرح ہم پر اپنے فیصلے مسلط کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ وہ بیرونی قرضے اتارنے کے لئے متفقہ قومی پالیسی بنائیں اور چاہے کسی کی بھی حکومت آئے تو وہ اس پر بغیر کسی تبدیلی کے عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ 

مزید :

کامرس -