قومی اسمبلی اجلاس میں آج وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائیگی،  27نکات پر مبنی ایجنڈا جاری 

  قومی اسمبلی اجلاس میں آج وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائیگی، ...

  

         اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز غیر معمولی اجلاس2روزہ وقفے کے بعد آج بروزپیر پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا،آج ہونیوالے قومی اسمبلی کے اجلاس کا 27نکات پر مبنی ایجنڈا جاری کردیاگیا،وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد ایجنڈے سمیت جنوبی پنجاب صوبے کا آئینی بل بھی ایجنڈے میں شامل ہے،اس کے علاوہ ایوان میں متعدد آرڈیننس بھی پیش کئے جائینگے، ذرائع کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک پہلے مرحلے میں بحث کیلئے پیش ہوگی، بعض آرڈینینسز کہ مدت میں توسیع کی قراردادیں بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کرینگے۔اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خا ن کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے3دن بعد اور7دن کے اندر اس پرایوان کی تقسیم کے ذریعے رائے شماری ہو گی۔اہم اجلا س سے قبل اپوزیشن اتحاد اور حکومتی جماعت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹیوں کے اہم اجلاس بھی ہو نگے جس میں اجلاس کی حکمت عملی طے کی جائیگی۔قومی اسمبلی کا اجلاس آج پیر کو سہ پہر4بجے سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوگا۔جس میں وزیراعظم عمران خان کیخلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پیش کی جائیگی۔تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن اتحاد کے 152 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔ سپیکر اسد قیصر قومی اسمبلی کے غیر معمولی اجلاس کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 95اور قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط 2007 کے رولز 37کے تحت چلا ئیں گے۔آئین کے آرٹیکل 95کے تحت وزیراعظم کیخلاف ایوان کے کم ازکم20 فیصد ارکان کے دستخطوں سے تحریک عدم اعتماد جمع ہوسکے گی جبکہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے 3دن بعد اور 7 دن سے پہلے اس پر رائے شماری ضروری ہے۔ قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط 2007 کے رولز 37کے تحت وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سیکرٹر ی قومی اسمبلی جلد ازجلد قومی اسمبلی کے ارکان کو اس سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کریں گے،تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی تحریک پر بحث کرواسکیں گے،تحریک پر بحث کروانے یانہ کروانے کا اختیار سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہوگا،تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی تحریک پر ووٹنگ کروائے بغیر قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کرسکتے۔ متحدہ اپوزیشن نے8مارچ کو وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کروا ئی تھی،اپوزیشن کی ریکوزیشن کا ون پوائٹ ایجنڈا تحریک عدم اعتماد تھی۔قانون کے مطابق اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد14روز کے اندر اجلاس طلب کرنا ضروری ہے مگر سپیکر اسد قیصر نے او آئی سی کانفرنس کی وجہ سے قومی اسمبلی اجلاس ریکورزیشن کی مقررہ حد22مارچ کی بجائے25مارچ کو طلب کیا تھا۔سپیکر اسد قیصر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی بڑی وجہ قومی اسمبلی اجلاس کیلئے مناسب جگہ دستیاب نہ ہونا قرار دیا تھا۔25مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس پی ٹی آئی رکن خیال زمان کیلئے تعزیتی ریفرنس کے بعد آج پیر تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی اجلاس

مزید :

صفحہ اول -