باہر سے حکومت گزارنے کی کوشش جاری، عمران خان نے دھمکی پر مبنی خط لہرا دیا

    باہر سے حکومت گزارنے کی کوشش جاری، عمران خان نے دھمکی پر مبنی خط لہرا دیا

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے حکومت جاتی ہے جائے، جان جاتی ہے جائے، انکوکبھی معاف نہیں کرونگا، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ثبوت کے طور پر موجود ہے، فارن پالیسی کو مروڑنے کی باہر سے کوشش کی جا رہی ہے، شاہ محمود قریشی کو پچھلے مہینوں یہ پتا چلا۔عمران خان کا کہنا تھا ہمارے ملک کو پرانے لیڈروں کی کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں، ذوالفقارعلی بھٹو نے جب ملک کو آزاد فارن پالیسی دینے کی کوشش کی تو فضل الرحمن اور بھگوڑے نوازشریف نے بھٹو کیخلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیئے گئے، ان حالات کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی، بھٹو سے اختلاف ہے لیکن اس کی ہمیشہ سے خود داری پسند تھی، آج اسی بھٹو کے داماد آصف زرداری سب سے بڑی بیماری اور اس کا نواسا کی کانپیں ٹانگ رہی ہے، دو نو ں کرسی کے لالچ میں نانا کی قربانی کو بھلا کر بھٹو کے قاتلوں کیساتھ بیٹھ کر وکالت کر رہے ہیں، انہیں شرم نہیں آتی جن لوگوں نے پھانسی دلوائی کرسی کی خاطر ان کیساتھ بیٹھے ہیں، آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہو گئے ہیں، قاتل اور مقتول کو اکٹھا کرنیوالوں کا بھی ہمیں پتا ہے، لیکن آج بھٹو والا وقت نہیں، وقت تبدیل ہوچکا، دریا کا پانی نکل چکا، اب نیا وقت آچکا، یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، ہم سب سے دوستی کریں گے، غلامی نہیں۔اسلام آباد میں امر بالمعرو ف جلسے سے خطاب کر تے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا میں اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پی ٹی آئی ممبر پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میری کال پر پاکستان کے ہر کونے سے آنے پر دل سے شکر گزار ہوں، ممبران کو پیسوں کی لالچ دی گئی، آپ کے ضمیر کو خریدنے کی ہرکوشش کی گئی، مجھے اپنے اراکین اسمبلی پر فخر ہے، آج اپنے دل کی باتیں کرنی ہیں۔عمران خان نے کہا باشعور پاکستانیو! امربالمعروف کیلئے دعوت دی تھی، یاد رکھیں پاکستان ایک نظریئے کے تحت بنا تھا، نظریہ اسلامی فلاحی ریاست تھا، مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں دین کی باتیں سیاست میں کیوں کرتے ہو، آج سے 25 سال پہلے جماعت بنائی تھی، نظریہ پاکستان کیلئے سیاست میں آیا تھا، پاکستان کا نظریہ اسلامی فلاحی ریاست تھا، پاکستان کو مدینہ کے اصولوں پر کھڑا کرنا تھا، اتنا بڑا جلسہ ہو گیا انتظامات ناکافی ہوگئے۔ وزیراعظم نے کہا مجھے کافی عرصے تک نظریہ پاکستان کا نہیں پتہ تھا، جب تک اپنے نظریئے پر کھڑے نہیں ہونگے تب تک قوم نہیں بن سکتے، کتنے لوگوں کو پتا ہے پاکستان کا نظریہ کیا ہے؟ مجھے بھی بڑی دیر تک پاکستان کے نظریئے کا نہیں پتا تھا، تعلیم کیلئے باہر چلا گیاتو مغرب میں دیکھا فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے، چین نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، ہیلتھ انشورنس دینے پر فخر ہے، وزیراعظم نے کہا یقین دلاتا ہوں جیسے جیسے ٹیکس اکٹھا کروں گا سارا پیسہ قوم پر خرچ کروں گا، نچلے طبقے کو پہلی دفعہ اوپر اٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے، ٹیکس ریونیو بڑھا تو سب سے پہلے 250 ارب کی سبسڈی دی، پٹرول کی قیمت 10 روپے بڑھانے کے بجائے فضل الرحمن کی قیمت کم کی، بجلی کی قیمت پانچ روپے فی یونٹ کم کی۔سابقہ حکومتوں کے قرضوں کا بوجھ ہم اٹھا رہے ہیں، یہ تیار ہوجائیں، تھری اسٹوجز 30 سال سے ملک کا خون چوس رہے ہیں، ان کی اربوں روپیوں کا نہیں اربوں ڈالر کی پراپرٹی ہے، یہ سارا ڈرامہ مشرف کی طرح این آراو لینے کیلئے ہو رہا ہے، پہلے دن سے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ خود کو خاص مخلوق سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں ان کوسب کچھ معاف ہوجانا چاہیے، مشرف نے اپنی کرسی بچانے کیلئے چوروں کو این آر او دیا، مشرف کے این آر او کی وجہ سے 10 سال ملک میں لوٹ مار ہوئی، ماشااللہ یہ میری قوم کا جنون ہے، اس جنون کے ذریعے پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنانا ہے، میرا ایمان ہے ملک تب ترقی کریگا جب نبیؐ کی سنت پر چلے گا، جب ہم پانچ سال مکمل کریں گے تو تیزی سے غربت کم ہو گی۔عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا انہوں نے ہماری حکومت کو گرانے کا فیصلہ کیا، دعویٰ کرتا ہوں پاکستان کی تاریخ میں ساڑھے تین سالوں جیسی پرفارمنس کسی حکومت نے نہیں دی، مدینہ کی ریاست میں اللہ نے امربالمعروف کا حکم دیا، جب بدی دیکھیں تو جہاد کریں، اچھائی کیساتھ کھڑا ہونا قوم کو زندہ رکھتا ہے، عراق جنگ کیخلاف لندن میں بیس لاکھ لوگ باہر نکلے اس کو امربالمعروف کہتے ہیں، آج مجھے آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، مغرب میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے مسلمان خواتین کو حقوق نہیں ملتے، اسلام واحد مذہب جس نے خواتین کو وراثت میں حقوق دیئے، افسوس 70 فیصد خواتین کو وراثت میں حقوق نہیں ملتے، ہماری حکومت خواتین کو وراثت سے حق دینے کا قانون لائی، ہم وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس میں کمزور آدمی کو بھی انصاف ملے، مدینہ کی ریاست میں خلیفہ وقت بھی قانون سے اوپر نہیں تھا، سب کیساتھ یکساں سلوک ہوتا تھا، ہماری اقلیتیں برابر کے شہری ہیں، ہم وہ فارن پالیسی لانا چاہتے ہیں کسی جنگ میں نہیں لیکن امن میں سب کا ساتھ دیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کورونا دنیا کا سب سے بڑا بحران تھا،جسمیں پوری دنیا میں غریب کچلے گئے، ساری دنیا بند ہوئی،مگرہم نے ملک کو بند نہیں کیا مجھ پر تنقید ہوئی، سندھ کی حکومت نے میری بات نہیں مانی اور لاک ڈاؤن کر دیا، ساری دنیا نے ہماری کورونا کی پالیسی کو سراہا، ہم نے کورونا کے دوران معیشت اورغریبوں کو بھی بچایا، ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق برصغیر میں سب سے کم بیروزگاری پاکستان میں ہے، کورونا کے باوجود ہماری معیشت نے 6۔5 فیصد ترقی کی ساری اپوزیشن دھنگ رہ گئی، ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھری اسٹوجز والی اپوزیشن میں ایک چیری بلاسم،دوسرا ڈیزل، تیسرا بیماری، چوتھا بھگوڑا ہے، ان ساروں نے کورونا کے دوران مجھ پر تنقید کی۔ جب ٹیکس اکٹھا ہوگا تو قوم کیلئے آسانیاں پیدا کروں گا، پہلی بار تنخواہ دار طبقے کیلئے گھر بنانے کیلئے 30 ارب کی سبسڈی دی، پہلی دفعہ بینک گھر بنانے کیلئے قرضے دے رہے ہیں، روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ کس کا تھا اورمیرے اللہ کا شکر ہے کام کس سے لے رہا ہے، چیلنج کرتا ہوں یہ تیس سال سے حکومت کر رہے ہیں، پانی ملک کا بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کراچی میں ٹینکر مافیا ہے انہوں نے کیا کیا؟ پاکستان میں پچاس سال بعد پہلی دفعہ ڈیم بن رہے ہیں، پشاور کے لوگوں کو خوشخبری دیتا ہوں 2025 ء میں مہمند ڈیم بن جائیگا، مہمند ڈیم سے سب سے سستی بجلی بنے گی، د

اسوڈیم 2027 ء تک بنے گا، بھاشا ڈیم 2028 ء تک بنے گا، ڈیم بننے سے کاشت کیلئے پانی دگنا اور پاکستان کی دولت میں اضافہ ہوگا۔ آج پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے چل رہی ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آج مزدور نہیں مل رہے، پہلے شوگر مل مافیا کسانوں کو پوری قیمت نہیں دیتا تھا، ہماری حکومت نے کسانوں کو حقوق دلوائے، اوورسیز نے سب سے زیادہ ڈالر پاکستان بھیجے، کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے آسانیاں پیدا کیں، کنسٹرکشن انڈسٹری کیساتھ 30 انڈسٹریز چل پڑیں، کسانوں سے پوچھ لیں ملکی تاریخ میں پانچ فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔یہ لوگ کہتے ہیں ہماری حکومت نے کیا کیا؟ مریم بی بی جس نے زندگی میں ایک گھنٹے کا کام نہیں کیا، کانپیں ٹانگنے والے کو 14 سال میں اردو بولنی نہیں آئی، کہتا ہے لیڈر بننا چاہتا ہوں، زرداری کو اپنے بیٹے کو لیڈر بنانے کیلئے تھوڑا بڑا ہونے دینا تھا، بلاول دھمکیاں دیتا ہے نیب نے بلایا تو یہ کروں گا، بلاول کہتا ہے نیب نے بلایا تو رو پڑوں گا، 30 سال حکومتیں کرنیوالوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔عمران خان کا کہنا تھا ہم تمام بڑے شہروں کیلئے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں، آج سے 11 سال پہلے بلوچستان کے اندر کوئلے، تانبے کی کانیں تھیں، مائننگ کمپنی پاکستان کوعدالت لیکر گئی تھی، پاکستا ن کو 2 ہزار ارب کا عالمی عدالت میں جرمانہ ہوا تھا، سونے، تانبے کی کانوں میں جب کام شروع ہوگا تو آپ کو اندازہ نہیں کتنا فائدہ ہوگا؟ میرے پاکستانیو! پاکستان کا مستقبل روشن ہے، پیپلز پارٹی دور میں رینٹل پاور میں بہت بڑی کرپشن ہوئی تھی، ہمارے ملک کو 200 ارب کا جرمانہ ہوا تھا، پاکستان نے ترکی کی کمپنی کو 200 ارب جرمانہ دینا تھا، ترکی کے صدر سے مذاکرات کر کے 200 ارب جرمانہ معاف کرایا۔ پختونخوا کا ڈیولپمنٹ فنڈ 200 ارب ہے، سابقہ دونوں حکومتیں اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکیں، میری ٹیم نے تین سال مذاکرات کیے اورجرمانہ ختم کرایا، وہی کمپنی اب پاکستان میں سب سے بڑی نو ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کر رہی ہے،اس سرمایہ کاری کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔ کر پشن سے پاک حکومت آئے تو قوم کو فائدہ ہوتا ہے، مسلم لیگ (ن) نے گیس کے معاہدے سائن کیے تھے، ہماری حکومت نے گیس کے نئے معاہدے کیے، یہ فرق ہوتا ہے ہمارے معاہدوں سے قوم کو 700 ارب کی بچت ہوگی، نوازشریف نے خود نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی وزارت رکھی ہوئی تھی، نوازشریف دور سے ہماری حکومت نے فی کلومیٹر 23 کروڑ روپیہ سستی سڑکیں بنائیں،2013 میں (ن) لیگ نے سڑکیں بنانے کیلئے ایک ہزار ارب کی چوری کی، ہماری حکومت نے ان سے دگنی سڑکیں بنائی ہیں، ان سے پوچھتا ہوں کبھی ان کی حکومتوں نے آنیوالی نسلوں کا نہیں سوچا، ہماری حکومت نے ایک ارب درخت اگائے، آج ہم 10ارب درخت لگا کر آنیوالی نسلوں کیلئے بہتر پاکستان چھوڑ کر جائیں گے، ان کا سب کچھ لندن میں ہے، ان کو پاکستانیوں کی فکر نہیں ان کو لندن کے محلات کی فکر ہے۔وزیراعظم نے کہا کلمہ انسان کوغیرت دیتا ہے، دنیا اس کی عزت کرتی ہے جو خود اپنی عزت کرتا ہے، بے غیرت آدمی کی کوئی عزت نہیں کرتا، جو انسانوں کے سامنے جھکتا ہے اس کی کوئی عزت نہیں کرتا، اللہ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ہم نے پاکستان کو دنیا کو سیاحت کا ہب بنانا ہے، اسکردو میں آسٹریا کی کمپنی انویسٹ کرے گی، سیاحت کو بڑھائیں گے اور ملک میں پیسہ لاکر دکھاؤں گا، نوجوانوں کیلئے روزگار پیدا کریں گے۔انہوں نے کہا میرے ماں، باپ ایک غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے، انہوں نے تحریک آزادی کی جدوجہد میں شرکت کی، والدین نے کہا تم خوش قسمت ہو ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے، روزی کمانے کیلئے بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں سے پوچھو آزاد ملک بہت بڑی نعمت ہے، سیاست شروع کی تو نصب اولین ’ایاک نعبدو‘ رکھا تھا، اے اللہ تیری عبادت کرتا ہوں تیرے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔وزیراعظم نے کہا نبی ؐکی سنت پرمغرب والے عمل کر کے آگے نکل گئے، رمزی یوسف کا وکیل جج کے سامنے کہتا ہے پاکستانی ڈالروں کے لیے اپنی ماں بیچ دیتے ہیں، یہ بات کبھی نہیں بھول سکتا، میری قوم غیرت مند اور لیڈر بے غیرت ہیں، جو لیڈر قوم کیساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا، جو لیڈر سپر پاور کے سامنے گھٹنے ٹیک دے وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا، میں کبھی جھکا نہ قوم کو کبھی جھکنے دوں گا، ان لوگوں نے فارن فنڈنگ لے کر اپنے ملک میں ڈرون حملے کرائے۔جلسے سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا ہمارے ملک کو پرانے لیڈروں کی کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں، ذوالفقارعلی بھٹو نے جب ملک کو آزاد فارن پالیسی دینے کی کوشش کی تو فضل الرحمن اور بھگوڑوں نوازشریف نے بھٹو کیخلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیئے گئے تھے، ان حالات کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی، بھٹو سے اختلاف ہے لیکن اس کی ہمیشہ سے خود داری پسند تھی، آج اسی بھٹو کے داماد آصف زرداری سب سے بڑی بیماری اور اس کا نواسا کی کانپیں ٹانگ رہی ہے، دونوں کرسی کے لالچ میں نانا کی قربانی کو بھلا کر بھٹو کے قاتلوں کیساتھ بیٹھ کر وکالت کر رہے ہیں، انہیں شرم نہیں آتی جن لوگوں نے پھانسی دلوائی کرسی کی خاطر ان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ثبوت کے طور پر موجود ہے، فارن پالیسی کو مروڑنے کی باہر سے کوشش کی جا رہی ہے، شاہ محمود قریشی کو پچھلے مہینوں یہ پتا چلا، آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہو گئے ہیں، قاتل اور مقتول کو اکٹھا کرنے والوں کا بھی ہمیں پتا ہے، لیکن آج بھٹو والا وقت نہیں، وقت تبدیل ہوچکا ہے، دریا کا پانی نکل چکا، اب نیا وقت آچکا ہے، یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، ہم سب سے دوستی کریں گے، غلامی نہیں۔

عمران خان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزراء نے کہا ہے سسٹم ڈی ریل ہو گیا تو آنیوالی کوئی حکومت مدت پوری نہیں کرسکے گی،عمران خان نے اندرونی وبیرونی سا ز شوں کوبے نقاب کیا،آزادخارجہ پالیسی کی بات کرنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، پاکستان کے عوام کواس جنگ میں عمران خان کا ساتھ دیناہوگا،ملکی خودمختاری پرکبھی سمجھوتہ نہیں ہو گا، عمران خان تمام سازشوں کامقابلہ کریں گے، عوام کوایماندارلیڈرعمران خان کاساتھ دیناہوگا،عمران خان ملک کولٹیروں سے پاک کراناچاہتے ہیں، ہمارے ساتھ بلیک میلرزایم این ایزتھے جو چھوڑکرچلے گئے، جب الیکشن آیا تو ان لوٹوں سے آپ نے بدلہ لینا، ان کا منہ کالا کرکے گدھے پر بٹھانا ہے،ملک میں لوٹا کریسی بند ہونی چاہیے، عوام نے اپنا فیصلہ سنادیاوہ عمران خان کیساتھ ہیں،تاریخی جلسے نے کرپٹ ٹولے اوربیرونی طاقتوں کوپیغام دیدیا ہے،زرداری کابیٹا پرچی لہراکرکہتاہے مجھے وزیراعظم بنادو، 12واں کھلاڑی فضل الرحمن وزیراعظم بننے کاخواب دیکھ رہاہے،3چوہے آپس میں مل گئے ہیں، ایک چوہاسندھ کی ساری گندم کھاگیا،لوگوں کے ضمیروں کی بولیاں لگاناجمہوریت نہیں، پی ٹی آئی عوا می سیاست پر یقین رکھتی ہے، عمران خان اقتدار نہیں اقدار کی سیاست کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراء پرویز خٹک، فہمیدہ مرزا، شفقت محمود، علی زیدی،مراد سعید اور فواد چوہدری،شاہ محمود قریشی اور دیگر رہنماؤں نے اتوار کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا عوام کوایماندارلیڈرعمران خان کاساتھ دیناہوگا،عمران خان ملک کولٹیروں سے پاک کراناچاہتے ہیں، ہمارے ساتھ بلیک میلرزایم این ایزتھے جو چھوڑکرچلے گئے، ہمیں تحریک انصاف کاکوئی رکن چھوڑ کر نہیں گیا، عوام کو یقین دلاتاہوں عمران خان نہیں جارہے اور نہ کوئی انہیں ہٹا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے اپنے خطاب میں کہا ابھی توپارٹی شروع نہیں ہوئی،فخرہے عمران خان امت مسلمہ کالیڈربن گیا، 3چوہے آپس میں مل گئے ہیں،چوہے تحریک عدم اعتمادلائے ہیں،اپنے مقصدمیں ناکام ہونگے،عمران خان کی قیادت میں ان چوہوں کاشکارکریں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا اگرقوم کاکوئی لیڈرہے تووہ عمران خان ہے،کیامحلاتی سازشیں،خریدوفروخت اوربندربانٹ جمہوریت کانام ہے؟پیسے لگاکراقتدارمیں آنا ان کاپراناطریقہ ہے،لوگوں کے ضمیروں کی بولیاں لگاناجمہوریت نہیں،یہ لوگ آج تک لندن فلیٹس کی منی ٹریل نہیں دے سکے،چھوٹا بھائی بوٹ پالش کرنیوالا ہے،شہبازشریف کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکلے،قوم کھڑی ہوگئی ہے یہ لوگ ناکام ہوں گے۔ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے اپنے خطاب میں کہا عمران خان نے دنیا بھرمیں اسلاموفوبیاکیخلاف آوازبلند کی، اندرونی وبیرونی سازشوں کوبے نقاب کیا،آزادخارجہ پالیسی کی بات کرنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، عوام کواس جنگ میں عمران خان کا ساتھ دیناہوگا،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اسلام آباد کی تمام سڑکیں بلاک ہوچکی ہیں،کامیاب جلسے پرپی ٹی آئی قیادت کو مبارکبادپیش کرتی ہوں،جی ڈی اے نے اصولوں کے مطابق فیصلہ کیا، ان کاکس قسم کاضمیرہے جوان کی مرضی سے جاگتاہے،ضمیرتوبہت بدنام ہوگیاہم اپنے اصولوں پرکھڑے ہیں،سندھ کیساتھ انصاف نہ ہونے پرپیپلزپارٹی چھوڑی،اصولوں پرکھڑے ہونا آسان نہیں مشکل راستہ ہے،ہم نے پارلیمنٹ کومضبوط بناناہے،بینظیراورنوازشریف کی حکومت لوٹاکریسی کی وجہ سے گئی۔دریں اثنا ء فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب نے کہا اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گی اور عمران خان اگلے 5 سال بھی پاکستان کے وزیراعظم ہوں گے۔چوروں کا ٹولہ آج اکٹھا ہو گیا ہے، آصف زرداری پاپڑ والے، فالودہ والے کو اور شہباز شریف مقصود چپڑاسی کو بچانا چاہتے ہیں، چوروں کا ٹولہ آخری سانس لے رہا ہے۔اسلام آباد میں جلسے کیلئے لوگوں کے جذبے سے ظاہر ہوتا ہے وہ کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔عدم اعتماد والوں کو ایسا سرپرائز ملنے والا ہے کہ ہمیشہ کیلئے عدم اعتماد کا سوچنا بھی بھول جائیں گے۔ جس نے پارٹی نہیں چھوڑی وہ واپس آئیگا، کوئی بھی منتخب نمائندہ خیانت کریگا تو عوام اسکا محاسبہ کرینگے۔مریم نواز اور بلاول کی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں عوام کا موڈ بتا رہا ہے ووٹ میں خیانت کرنیوالوں کا احتساب ہو گا۔

وفاقی وزراء

مزید :

صفحہ اول -