شائستگی اور متانت کا فقدان کیوں؟

  شائستگی اور متانت کا فقدان کیوں؟

  

لمحہ ئ  موجود میں سیاسی سطح پر جس بات کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے، وہ شائستگی،متانت اور بردباری کا فقدان ہے۔اس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ سیاست میں گرمی سردی تو معمول کی بات ہے،لیکن درجہ حرارت بڑھانے کے لیے الزامات یا بے جا القابات کا استعمال نہ صرف سیاست کو بے توقیر کرتا ہے،بلکہ تلخیاں بھی بڑھاتا ہے۔وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے تیز تر نظر آتے ہیں،حالانکہ اُن کے منصب کا تقاضا ہے وہ متانت و وقار کے ساتھ جو کہنا چاہتے ہیں کہیں۔ انہوں نے اپنے جلسوں میں مخالف سیاسی رہنماؤں کے نام بگاڑنے یا اُنہیں مختلف خطاب دینے کی جو روایت ڈالی ہے،اُس سے ماحول کی کشیدگی اور ناشائستگی میں اضافہ ہوا ہے۔جواب میں جو کچھ اپوزیشن کے رہنما کہہ رہے ہیں،وہ بھی نامناسب ہے لیکن ماجرا یہی ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،ہماری سیاست نے بہت سے مدو جزر دیکھے ہیں،کئی بحرانوں سے گزری ہے،حالات کے پیچ و خم نے کئی بار اُسے اپنے حصار میں لیا ہے، تاہم اس وقت جو صورتِ حال ہے وہ اس حوالے سے کچھ مختلف نظر آتی ہے کہ خود حکومت اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے تمام تر حکومتی وسائل اور اختیارات موجود ہونے کے باوجود عوامی جلسوں کے ذریعے اپنی سیاسی قوت کا اظہار کرنے کی جو راہ اختیار کی ہے،اُسے بھی قابل ِ اعتراض نہ سمجھا جاتا اگر وہ ان جلسوں میں اپنی حکومت کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی بیان کرتے اور عوام کو یقین دلاتے کہ اُن کی خدمت کا سفر اسی طرح جاری رکھا جائے گا۔اس کے برعکس انہوں نے اپنے جلسوں کو مخالفین کی کردار کشی کا ذریعہ بنا لیا۔آج کل وہ تین چوہوں کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں،جو ملک کے تین بڑے سیاسی رہنماؤں کے لیے ہے،اِس سے پہلے وہ چور،ڈاکو،لٹیرے،بھگوڑے،مجرم اور اسی طرز کے دیگر القابات استعمال کرتے رہے ہیں۔ظاہر ہے جب ایک طرف سے یہ ہو گا تو دوسری طرف سے بھی پھول نہیں برسائے جائیں گے، ایک سیاست دان اور ایک وزیراعظم میں بہت فرق ہوتا ہے۔ریاستی عہدے پر متمکن شخص کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں،کیونکہ ریاستی عہدے کا احترام اور حدود ایسی باتوں کی اجازت نہیں دیتیں اس لیے بھی کہ جواب میں جب مخالفین وزیراعظم کو نشانہ بناتے ہیں تو عہدے اور منصب کی توہین ہوتی ہے۔

اب وزیراعظم عمران خان ریاست کے دیگر اداروں پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔انہوں نے کمالیہ کے جلسے میں کہا ہے کہ نواز شریف نے الیکشن کمیشن کو تو پہلے ہی ساتھ ملا رکھا ہے اب ججوں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ بہت سنگین الزامات ہیں، وزارتِ عظمیٰ جیسے بڑے ریاستی عہدے پر براجمان شخصیت اگر ایسے الزامات لگاتی ہے تو اداروں کی حرمت و توقیر پر سوالیہ نشانات لگ جاتے ہیں،سیاسی جلسوں میں سیاسی باتیں عوام کے ذہنوں میں اپنے قومی اداروں کے حوالے سے منفی خیالات کو جنم دیتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اِن باتوں کا کوئی ثبوت نہیں دیا، صرف الزامات لگا دینے سے ماحول کی پراگندگی میں تو اضافہ ہو سکتا ہے،عملاً کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔الیکشن کمیشن میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس زیر سماعت ہے ایک عام خیال یہ ہے وزیراعظم الیکشن کمیشن کو جانبدار ہونے کا الزام دے کر اس حوالے سے متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر نواز شریف نے الیکشن کمیشن کو پہلے ہی  اپنا بنا رکھا ہے، دراصل یہ تاثر دیا ہے کہ الیکشن کمیشن اُن کے خلاف جو کچھ بھی کر رہا ہے اُس کے پس ِ پردہ نواز شریف کا ہاتھ ہے۔الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کے حالیہ جلسوں کے تناظر میں انہیں کئی نوٹس بھی دیئے ہیں کہ ضابطہ ئ  اخلاق کے مطابق وہ خیبرپختونخوا کے اُن علاقوں میں جلسے نہیں کر سکتے تھے، جہاں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم جاری ہے۔وزیراعظم نے اِن نوٹسوں کی پروا نہیں کی،اس حوالے سے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی،جو کسی بھی ادارے کے خلاف شکایت کا قانونی راستہ ہے۔ریاستی ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور اگر کہیں غلط ہو رہا ہے تو وزیراعظم کو قانونی طور پر اِس سے عہدہ برآ ہونا چاہیے۔یہ الزام لگانا کہ سب کچھ نواز شریف کے ایماء پر ہو رہا ہے قومی اداروں کی ساکھ کو عوام کی نظر میں خراب کرنے کی ایک کوشش ہی سمجھا جائے گا۔پاکستانی عدلیہ اپنی آزادی و خود مختاری کو بہرطور برقرار رکھے ہوئے۔اگر نواز شریف نے عدلیہ کے ججوں کو بقول وزیراعظم ساتھ ملا لیا ہوتا تو آج وہ لندن میں نہ بیٹھے ہوتے۔ سیاست کرنے کے لیے دِل بڑا رکھنا پڑتا ہے،جمہوریت میں اگر ریاستی ادارے مضبوط نہیں ہوں گے اور انہیں متنازعہ بنا دیا جائے گا تو خود جمہوریت کیسے مستحکم ہو سکے گی؟ماضی میں جو بھی شکایات رہی ہوں،ضروری نہیں حال میں  بھی ویسا ہی ہو،جس طرح تجربات سے انسان سبق سیکھتا ہے اُسی طرح ہم سب ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم حکومت اور اپوزیشن سے بارِ  دگر گزارش کریں گے کہ وہ سیاست کو کردار کشی کا ذریعہ نہ بنائیں،شائستگی،متانت اور برد باری کا راستہ اختیار کریں تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک جمہوری، فلاحی اور خوشحال ریاست  کے حصول کا سفر جاری رکھ سکیں۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -اداریہ -