چودھری پرویز الٰہی کی اہمیت اور سیاست 

 چودھری پرویز الٰہی کی اہمیت اور سیاست 
 چودھری پرویز الٰہی کی اہمیت اور سیاست 

  

 سیاست میں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہے، وقت پر کیا گیا فیصلہ ہی کسی لیڈر اور سیاستدان کے مستقبل کا تعین کرتا ہے،پنجابی میں کہتے ہیں،،ویلے دی نماز،کویلے دیاں ٹکراں،،اس وقت پنجاب میں اپوزیشن اور حکومت دونوں فریقین چودھری پرویز الہیٰ کو پنجاب کا لیڈر تسلیم کر چکے ہیں، چاہتے، نہ چاہتے ان کے گھر پر حاضری دے چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے، اب وہ ایک بار پھر وزیر اعلیٰ پنجاب بنیں یا نہ بنیں یہ ان کا اپنا فیصلہ ہو گا مگر انہوں نے اپنی اہمیت کو تسلیم کروا لیا ہے،انہوں نے سیاست کرنی ہے اور سیاست اقتدار کے بغیر نا مکمل رہتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ جلد یا بدیر انہیں عوام کے پاس بھی جانا ہے۔ اس لئے یہ وقت ان کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔

حکومتی وزرا ہفتہ کے دن بھی لاہور میں مسلم لیگ (ق) سے مذاکرات کر آئے ہیں،انہوں نے سیاسی اور دوسرے معاملات پر کھل کر بات کی مگر لگتا ہے ابھی تک وہ وزارت اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکے،اس سے قبل خود وزیر اعظم اور وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار بھی انہیں مل چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں میں اعتماد کی صورتحال یہ ہے کہ آصف زرداری مرکز کے بعد پنجاب میں بھی عدم اعتماد لانے کیلئے سرگرم ہیں،اس مقصد کیلئے وہ ق لیگ سے سیاسی اشتراک چاہتے ہیں،اور اس کے عوض چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کے حامی ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ اسمبلیاں چلتی رہیں،مگر نواز شریف اور شہباز شریف اس حوالے سے چیں بہ چیں ہیں، ان کے بیانات اس حوالے سے روز بدلتے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف اپنے بیٹے حمزہ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے کا ذہن بنا چکے ہیں،اس کے باوجود کہ وہ جانتے ہیں ق لیگ کے تعاون کے بغیر وہ مرکز یا پنجاب میں کسی بھی جگہ عدم اعتماد کو کامیاب نہیں کرا سکتے لیکن وہ چودھری پرویز الٰہی کو یہ عہدہ دینے کے لئے اندرونی طور پر تیار نہیں،حالانکہ ان ابتر حالات میں چودھری پرویز الٰہی معاملات کو بہترین انداز سے سلجھا سکتے ہیں،مگر حکومت اور اپوزیشن چودھری پرویز الٰہی کی برد باری،وضع داری اور معاملات کو بگڑنے سے بچانے کے ہنر سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں دکھائی نہیں دیتیں،ایسے میں معاملات کو سلجھانا اور سیاسی ماحول کو پر امن بنانا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ہو گا،خواہ سنگھاسن اقتدار پر کسی کو بھی بٹھا دیا جائے۔

ملکی سیاست میں اس وقت ایک طرف ماضی میں کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں کا شور و غوغا ہے تو دوسری طرف احتساب کرنے والوں کی لعنت ملامت ہے،اس بھاگ دوڑ میں ہر کوئی اپنی کرپشن چھپانے کیلئے کوئی پناہ گاہ تلاش کر رہا ہے اور اس امید پر کہ شائد اس کے گناہوں کی بھی پردہ پوشی ممکن ہو سکے گی،اور پھر اس کی اقتدار میں آنے کی راہ بھی ہموار ہو پائے گی،حکومت میں بھی کچھ چہرے ایسے ہیں جو اس گرد آلود مطلع کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں کچھ کامیاب ہو گئے اور کچھ ناکام ہیں،ایسے میں منحرف ارکان بھی اپنے مطالبات کی فہرست ہاتھ میں لئے سرگرداں ہیں،اتحادی بھی خدشات و تحفظات کیساتھ نالاں ہیں،ایسے وقت میں چودھری پرویز الہیٰ جیسے لوگوں کی سخت ضرورت ہے جو مفاہمت کی سیاست کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ ملک و قوم بھی عزیز ہے۔ مشورہ مفت ہے کوئی مانے نہ مانے اس کی مرضی مگر اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں سے جو بھی چودھریوں سے ہاتھ ملا لے گا فائدے میں رہے گا،ورنہ اور کچھ دن میں ایسی دھما چوکڑی مچے گی کہ کسی کو کچھ سجھائی یا دکھائی دے گانہ کسی کے کچھ ہاتھ آئے گا۔

 مطلع سیاست روز بروز پہلے سے زیادہ گرد آلود ہوتا جا رہا ہے،دلچسپ بات یہ کہ گرد اڑی نہیں اڑائی جا رہی ہے،بلاول بھٹو زرداری عدم اعتماد کی سیاسی اننگز میں برتری کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں پارہ چنار میں عوامی جلسہ کے دوران انہوں نے پی ڈی ایم سے اختلافات کو بھی واضح انداز میں بیان کیا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت مخالف اس تحریک میں نواز شریف، شہباز شریف اور فضل الرحمٰن کی پالیسی غلط اور غیر سیاسی تھی لیکن آج پی ڈی ایم کے سب رہنما میرے موقف کو تسلیم کر رہے ہیں اور ہماری دی گئی لائن پر چل رہے ہیں،پی ڈی ایم ضمنی اور سینٹ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہتی تھی مگر ہم نے ضد کر کے ہر ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اسلام آباد کی سینیٹ نشست پر وفاقی وزیر کا مقابلہ کیا اور حکومت کو شکست فاش دی،لانگ مارچ اور دھرنے کے علاوہ استعفوں اور عدم اعتماد کے حوالے سے بھی میرے موقف کو تسلیم کیا گیا،بلاول کی باتوں میں کسی حد تک سچائی ہے ورنہ پی ڈی ایم ملکی سیاست کو غیر سیاسی بنانے کی پالیسی پر ثابت قدمی سے عمل پیرا تھی،اگر استعفوں کی سیاست کو تقویت دی جاتی تو آج منتخب اداروں میں اپوزیشن کا وجود تک نہ ہوتا،خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن کرا کے حکومت مزید اکثریت حاصل کر سکتی تھی،بلاول کے سیاسی موقف کو پی ڈی ایم کی قیادت نے ایک بچے کی باتیں سمجھ کر نظر انداز کیا مگر ان کی سیاسی حکمت عملی اپوزیشن کو پھر سے متحد کرنے کا سبب بنی،

ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اب کی بار اقتدار کی باری لینے کی سیاست کر رہے ہیں،نواز شریف کی واپسی بارے باتیں بہت ہیں مگر اب تک اس بارے کوئی حتمی تاریخ دی جا سکی نہ یقینی بات سامنے آئی ہے،شہباز شریف آئندہ ملنے والی ممکنہ ڈھیلی ڈھالی حکومت سے مطمعن نہیں اور فوری عام انتخابات کے حامی ہیں،اس اسمبلی کی باقی ماندہ مدت کیلئے وزیر اعظم بننے سے شائد انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

 فضل الر حمٰن نے اس مرتبہ بھی پی ڈی ایم سے الگ سولو فلائٹ کی کوشش کی،اس سے قبل بھی پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ سے لا تعلقی اور ن لیگ کی عدم دلچسپی کے باوجود وہ لانگ مارچ لے کر اسلام آباد آئے اور پھر غیر مرئی طاقتوں کی نشاندہی پر دھرنا ختم کر دیا،تاہم یہ نہیں بتایا کہ مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کس نے کرائی تھی اور ان مطالبات میں سے کتنے مطالبات اور کس حد تک تسلیم کئے گئے،اب پھر انہوں نے اسلام آباد میں ڈیرہ لگا لیا ہے،،حکومت نے ان کو ایف نائن پارک میں جلسہ کی اجازت دیدی مگر دھرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،اتوار کو ہی عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ میں طاقت کا مظاہرہ کیا،اسی روز لاہور سمیت ملک بھر سے ن لیگ کے قافلے اسلام آباد روانہ ہوئے لاہور سے مریم نواز اور حمزہ شہباز کی قیادت میں ریلی شروع ہوئی،اس ساری پریکٹس سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پیپلز پارٹی، جمعیت العلما اسلام اور ن لیگ اپنی الگ الگ طاقت کا مظاہرہ بھی کرنے کے خواہش مند ہیں،اقتدار ملنے سے قبل یکسوئی کا یہ عالم ہے تو اقتدار ملنے کے بعد جوتیوں میں دال بٹنے سے کون روک سکے گا۔؟

مزید :

رائے -کالم -