لندن میں پاکستان کے خلاف سازش 

 لندن میں پاکستان کے خلاف سازش 
 لندن میں پاکستان کے خلاف سازش 

  

 ممبر آف برٹش امپائر لندن اور چیئرمین فورم فار انٹرنیشنل ریلیشن ڈویلپمنٹ یو کے طہٰ قریشی جب بھی ملتان آتے ہیں، ان کے پاس کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جو اہل دانش کو چونکا دینے کے لئے کافی اسباب فراہم کرتا ہے۔ ایک دن پہلے روزنامہ پاکستان کے گروپ جوائنٹ ایڈیٹر شوکت اشفاق کا فون آیا کہ طہٰ قریشی کی آمد پر ایک ظہرانے کا اہتمام کیا ہے جس میں شہر کے چنیدہ دانشور اور صاحب الرائے دوست شامل ہوں گے اس لئے بنفسِ نفیس پہنچ جائیں۔ ایسی پیشکش ایک لکھنے والے کے لئے بڑی کشش رکھتی ہے کیونکہ ہر روز پاکستانی سیاست کا تذکرہ تو ہوتا ہی رہتا ہے کچھ نیا سننے کو مل جائے تو معلومات بڑھ جاتی ہیں، سو میں مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچ گیا، جہاں شخصیات کی ایک کہکشاں موجود تھی جن میں سابق گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منٹور کنڈی، ایمرسن یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر نوید چودھری، مولانا حنیف جالندھری، رانا محبوب اختر، ایوب قریشی، محمد اعظم جوئیہ، انجینئر ممتاز احمد خان، عبداللہ جلیبانی، عامر شہزاد صدیقی، ثاقب عدیل، عابد رضا بودلہ، محمد افضل شیخ، خالد مسعود خان، اسرار چودھری، رانا محمد اکرم، سلیم رضا آصف، جہاں زیب وارن، ہارون جمالی، زاہد گردیزی، خواجہ محمد فاروق اور شیخ وسیم احمد شامل تھے۔

محفل میں پہلے تو ملکی سیاست کا معاملہ زیر بحث رہا۔ سامنے ٹی وی سکرین پر اس وقت بلاول بھٹو زرداری کا پارا چنار میں جلسہ چل رہا تھا جبکہ درمیان بریکنگ نیوز کے طور پر حکومتی وزراء کی چودھری برادران کے ساتھ ملاقات کی تفصیل دی جا رہی تھی۔ سب شرکاء کا خیال تھا اس وقت سیاست اپنے عروج پر ہے اور آنے والے ایک ہفتے میں ملک کے اندر کچھ بھی رونما ہو سکتا ہے۔ رانا محموب اختر جو ایک کالم نگار بھی ہیں اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی پر امید تھے کہ جو بھی ہوگا اچھا ہی ہوگا۔ البتہ محمد ایوب قریشی جواب سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اس خیال کے حامی تھے کہ معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف نہیں لے جانا چاہئے۔ جہاں زیب دارن جو ایک قافلے کے ساتھ اسلام آباد جانے کے لےء پرتول رہے تھے نے اس بات کو رد کیا کہ اسلام آباد میں دونوں بلکہ تینوں پارٹیوں کے قافلے پہنچنے سے کوئی تصادم ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا سب اپنے اپنے راستے اور ایجنڈے پر گامزن رہیں گے اور یہ دن گزر جائے گا۔

اسی دوران طہٰ قریشی اٹھے اور انہوں نے کہا میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس وقت پاکستان میں سیاست کی گرم بازاری ہے اور بیرون ملک کیا ہو رہا ہے اس کی کسی کو خبر نہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں ان کی کوششوں سے اقوامِ متحدہ نے اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے اور پندرہ مارچ کو ہر سال اس کا دن منایا جائے گا۔ اچھی بات ہے کہ یہ کام ہو گیا ہے۔ مگر جو سازشیں پاکستان کے خلاف لندن میں ہو رہی ہیں ان کا تدارک کون کرے گا۔؟ پھر انہوں نے 30 برطانوی ارکانِ پارلیمینٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کی کاپی شرکاء کو دکھائی۔ جس کا عنوان ہے کہ پاکستانی ریاست انتہا پسندی میں اضافے کو سپانسر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کو ارکان پارلیمینٹ نے پوری پارلیمینٹ کو بھیج دیا ہے۔ جبکہ برطانوی حکومت نے اس رپورٹ کی بنیاد پر پاکستان کو ہائی رسک والے ممالک کی لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ یہ رپورٹ 20 جولائی 2020ء کو مرتب کی گئی تھی، طہٰ قریشی نے بتایا کہ اس وقت سے لے کر آج تک وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، برطانیہ میں پاکستانی سفیر اور دیگر فارن آفس کے عہدیداروں سے مل کر یہ درخواست کر چکے ہیں کہ اس رپورٹ کا نوٹس لیا جائے اور اس کے جواب میں سرکاری سطح پر ایک جواب دیا جائے تاکہ اس کے منفی اثرات سے بچا جا سکے، مگر ان کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں انڈین لابی کا ہاتھ ہے، جنہوں نے قادیانیوں کو آگے رکھا ہوا ہے۔ لندن میں ایک اینٹی پاکستان لابی کام کر رہی ہے، جس کے خلاف پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ 30 برطانوی پارلیمنٹرین کی یہ رپورٹ جھوٹ کا پلندہ ہے کیونکہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف ایسے حالات نہیں جن کا ذکر اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ سنگین الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ میں ملوث ہے اور یہ پیسہ قادیانیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ طہٰ قریشی نے بتایا وہ اپنی تنظیم کے ذریعے اس حوالے سے لندن میں ہمیشہ آواز اٹھاتے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور سفارت خانہ اس رپورٹ کا مدلل جواب دے وگرنہ یکطرفہ فلور پر اس رپورٹ کی وجہ سے پاکستان کا تشخص خراب ہوتا رہے گا۔ محفل کے شرکاء نے اس کی تائید کی اور طہٰ قریشی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزارت خارجہ سے اس کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

مزید :

رائے -کالم -