آپ اور آپ کے ملازمین!

  آپ اور آپ کے ملازمین!
  آپ اور آپ کے ملازمین!

  

 ساعاتِ حاضرہ کی دھندلی بلکہ تاریک فضاؤں میں سیاسیاتِ موجودہ پر کالم نگاری میرے اور شاید آپ کے نزدیک بھی وقت کا ضیاع ہو گا۔ لیکن ایک بات جو قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم اہلِ پاکستان ماضی کی سیاسی روشوں سے آگے نکل کر آج کل نئے خیابانوں کا رخ کر رہے ہیں۔ تعلیم و تعلم کی دو پرتیں ہوتی ہیں۔ ایک سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی اور بتائی جاتی ہے جبکہ دوسری کسی تدریسی ادارے کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ اپنے ماحول کی پیدا کردہ ہوتی ہے۔ ایک بڑے لمبے عرصے سے پاکستان کی روائتی شرح خواندگی میں اگرچہ کوئی اتنی بڑی بڑھوتری نہیں ہوئی لیکن میڈیا کے طفیل کتابی خواندگی کی بجائے غیر کتابی اور غیر نصابی شرحِ خواندگی میں حیرت انگیز افزونی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا دوسرے ذرائع ابلاغ کے مقابلے میں زیادہ پیش پیش ہے۔

ہماری ایک ملازمہ ”سفید“ اَن پڑھ ہے۔ 20سے اوپر گنتی بھی نہیں جانتی لیکن یقین کیجئے وہ اپنے موبائل کو اس طرح استعمال کرنا جانتی ہے جس طرح لکھے پڑھے لوگ جانتے ہیں۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے 15،20رشتہ داروں کو جو فون کرتی ہو ان کے نمبروں کی شناخت کا کیا طریقہ استعمال کرتی ہو۔ اس نے میرے سامنے موبائل آن کیا اور سکرین پر جو 15،20فون نمبر روشن ہوئے تھے ان کی تفصیل بتانے لگی کہ یہ نمبر میرے والد کا ہے اور اس کے بعد کے 5نمبر میرے بھائیوں اور اس کے بعد بھاوجوں کے ہیں۔ میں نے ازراہِ امتحان اسے کہا کہ اپنی سب سے چھوٹی بھاوج کا نام بتاؤ۔ اس نے نام بتایا اور ساتھ ہی کہا: ”سر! میں زینب سے آپ کی بات کرواؤں؟“…… میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے جو نمبر ملایا وہ واقعی اس کی چھوٹی بھاوج زینب کا تھا۔ وہ گرلز سکول کی پانچویں جماعت میں سکول سے واپس گھر آ گئی تھی۔ والدین کے پاس کتابوں، کاپیوں اور دوسری سٹیشنری آئٹمز خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔ لیکن جب میں نے اس سے یہ سوال پوچھا:”ذکراں (ہماری ملازمہ کا نام) نے کس جماعت میں سکول چھوڑا تھا“ تو اس کا جواب تھا: ”صاحب جی! وہ تو چِٹّی اَن پڑھ ہے!“…… یہ سن کر مجھے صائب تبریزی کا وہ شعر یاد آیا کہ خدا اگر ایک نعمت سے انسان کو محروم کر دیتا ہے تو اس کے بدلے میں دس دوسری نعمتیں عطا کر دیتا ہے جو اُس ”ایک نعمت“ کا متبادل ہوتی ہیں۔شعر یہ ہے:

دہ دَر شود کُشادہ اگر بستہ شُد دَرے

انگشت ترجمانِ زبان است لال را

(ترجمہ: خدا اگر ایک دَر بند کرتا ہے تو دس دوسرے دروازے کھول دیتا ہے۔ گونگے کو دیکھو۔ اس کی ایک زبان لے کر دس انگلیاں عطا کر دی ہیں جو زبان کی ترجمان بن گئی ہیں!“

میں عرض کر رہا تھا کہ پاکستان میں شرحِ خواندگی میں ہر چند کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا لیکن عصرِ حاضر کی آئی ٹی (انفرمیشن ٹیکنالوجی) نے ہمارے عوام کی غیر نصابی سوجھ بوجھ میں جو اضافہ کر دیا ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ ذکراں کی اس غیر نصابی سوجھ بوجھ کا گراف بھی قابلِ رشک ہے۔ پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں اور بڑے بڑے سیاستدانوں کے نام اور ”کام“ اسے ازبر ہو چکے ہیں۔ میرے ہاں جو نواسے نواسیاں، پوتے پوتیاں اور ان کے والدین آتے ہیں تو ان کا موضوعِ سخن بھی اکثر سیاسیات حاضرہ ہوتی ہے یا ٹی وی کے وہ پروگرام جنہیں ٹاک شوز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ذکراں بی بی اپنا کام کاج بھی نمٹاتی رہتی ہے اور ساتھ ساتھ آتے جاتے راہداریوں میں ہمارا بحث و مباحثہ بھی سنتی رہتی ہے۔ چنانچہ اسے نہ صرف ملک کے اندرونی حالات و واقعات کی چیدہ چیدہ خبروں کا سیاق و سباق معلوم رہتا ہے بلکہ یہ بھی جانتی ہے کہ روس اور امریکہ ایک دوسرے کے دشمن کیوں ہیں اور اسی طرح انڈیا اور پاکستان بھی باہم دگر آگ اور پانی کی مثال کیوں ہیں۔

ذکراں کا تعلق حجرہ شاہ مقیم کے نواح میں ایک گاؤں سے ہے جس کا نام ڈوگرائی ہے۔ شادی کے بعد سات آٹھ سال تک کوئی اولاد نہ ہوئی تو خاوند نے طلاق تو نہ دی کیونکہ اس طرح حق مہر کی ایک معقول رقم دینا پڑتی تھی لیکن اس کے بعد قطع تعلق کر لیا۔ اس حادثے کے بعد اس کی طبیعت میں زود رنجی اور گرمی بڑھ گئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر اپنی ایک خالہ زاد کے ہاں چلی گئی۔یہ 2009ء کی بات ہے۔ وہاں ہمارے  دور پار کے  ایک رشتہ دار بھی مقیم ہیں۔ وہ جب ہمارے ہاں آئے تو اس کی ”ستم رسیدگی“ کا ایسا نقشہ کھینچا کہ میری اہلیہ مرحومہ نے ذکراں کو اپنے ہاں بلوا لیا۔

تب سے وہ ہمارے پاس رہ رہی ہے۔ ہر دو تین ماہ بعد اپنے عزیز و اقارب کو ملنے گاؤں ضرور جاتی ہے لیکن پھر واپس آ جاتی ہے۔ اہلیہ تو 2010ء میں اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں لیکن سفرِ آخرت سے پہلے ہمیں کہہ گئی تھیں کہ اس کا خیال رکھنا، یہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس نہیں رہ سکتی…… تب سے آج تک ہم نے ذکراں بی بی کا ہر طرح کا خیال رکھا ہے اور اسے اپنے گھر کا ایک فرد سمجھا ہے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میرے کئی بیٹ مین دور و نزدیک سے میرے ہاں آتے رہے اور ہم نے بھی آج تک ان کو اردلی یا بیٹ مین نہیں سمجھا بلکہ گھر کا ایک فرد گردانا…… اب تو ایک طویل عرصے سے فوج میں ”بیٹ مین“ کا ادارہ ہی ختم ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ آپ ایک سویلین ملازم رکھ سکتے ہیں۔

میرے گھر میں دوسرا ملازم ایک باورچی (Cook)ہے جو 2005ء سے ہمارے ساتھ ہے۔ اس کانام عارف خان ہے۔ ضلع میانوالی سے آگے کالاباغ کے ایک گاؤں کا رہنے والا ہے۔ وہ میرے داماد کی یونٹ (16ایس پی) کا گنر(Gunner)تھا جو لانس نائیک کے رینک میں ریٹائر ہو گیا۔ مڈل پاس ہے۔ ماشاء اللہ دادا بھی ہے اور نانا بھی۔ یہ 2004ء میں فوج سے ریٹائر ہوا تھا اور میرے داماد خالد کا تقریباً ایک سال تک بیٹ مین بھی رہا تھا۔ خالد اس وقت میجر اور ایک بیٹری کمانڈر تھے (آج کل ماشاء اللہ بریگیڈیئر ہیں) ان ایام میں میری بیٹی نے ایک دن فون کیا اور کہا کہ عارف بہت شریف اور محنتی لڑکا ہے۔ چار بچے ہیں۔ پنشن قلیل ہے۔ ایک دو جگہ گارڈ کی نوکری کی لیکن دل نہیں لگا۔ اس نے فون کیا ہے کہ اپنے والد صاحب کو کہیں کہ مجھے کسی ایسی جگہ لگوا دیں جو میرے لئے موزوں ہو۔ میں نے اسے کہا کہ ”اخباری دنیا“ میں ایسی کوئی اسامی نہیں جو عارف جیسے ریٹائرڈ اور مڈل پاس فوجی کو قاصد یا ڈرائیور کے علاوہ کسی اور جگہ Adjust کر سکے۔ البتہ اگر وہ بہت مجبور ہے تو میرے پاس آ جائے۔ بازار سے سودا سلف لانا اور بیگم صاحبہ کا ہاتھ بٹانا اس کے فرائض میں شامل ہوگا۔

تب سے عارف میرے پاس آ گیا۔ بیگم صاحبہ نے اپنی تربیتی نگرانی میں اسے ایک ماہر باورچی بنا دیا۔ اب وہ واقعی ایک ایسا ہمہ صفت موصوف باورچی ہے کہ میرے سارے بچے (عزیز واقارب اور مہمان بھی) اس کے ہاتھ کا کھانا کھا کر فائیو سٹار ہوٹل کے کھانے بھول جاتے ہیں۔ تین ماہ کے بعد وہ 10دن کی چھٹی جاتا ہے تو میرے بچے اور ان کے بچے بڑی مشکل سے وہ دن گزارتے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ان کو کھانا نہیں ملتا۔ ان کی مائیں  اپنی طرف سے باورچی پن کی تمام موشگافیوں کو بروئے کار لا کر اپنی پوری کوشش کرتی ہیں لیکن پھر بھی عارف کے کھانے کا ذائقہ الگ انداز کا حامل ہے۔

اس کالم کے قارئین کی اکثریت کے ہاں بھی خواتین اور مرد ملازمین ہوں گے۔ میں نے اس موضوع پر اس لئے قلم اٹھایا ہے کہ آپ جب کسی شخص کو ملازم رکھتے ہیں اور اپنے گھر کا ایک پورشن (سرونٹ کوارٹر) اس کے لئے مختص کر دیتے ہیں تو اس ملازم کی وفاداریوں سے کماحقہ مستفید ہونے کے لئے آپ پر کئی قسم کی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔ان ذمہ داریوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ملازموں کو ایک تو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ آپ ان کو اپنے سے کمتر مخلوق سمجھتے ہیں۔ جو کچھ آپ کھائیں ان کو بھی کھلائیں۔ ان کے لباس وغیرہ کا خیال رکھیں۔ ان کی انسانی ضروریات بھی وہی ہیں جو آپ کی ہیں، ان کی حاجت روائی کا از بس خیال رکھیں۔ نہ صرف ان کی غمی اور خوشی میں شریک ہوں بلکہ ان کے بچوں کی غمی اور خوشی میں بھی حتی المقدور شرکت کریں۔

اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو آپ کی زکوٰۃ کے حقدار آپ کے یہ ملازمین بھی ہیں۔ جس طرح آپ کا مزاج نشیب و فراز سے گزرتا ہے، اسی طرح ان کے مزاج بھی اونچ ینچ کا شکار ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان کا احساسِ محرومی ایسی حرکات و افعال کا سبب بنتا ہے کہ بادی النظر میں وہ سخت سزا کے سزاوار ٹھہرتے ہیں، لیکن یہی وہ لمحہ ہے جس میں رک کر آپ کو غور کرنا ہے۔ کسی ملازم یا ملازمہ کو فارغ کرنا بہت آسان ہے لیکن اگر وہ آپ کے ہاں ایک عرصے سے آپ کا / کی خدمت گزار ہے تو آپ کی قوتِ برداشت کا امتحان بڑھ جاتا ہے…… اس کا خیال کیجئے!

مزید :

رائے -کالم -