ہندو انتہا پسندوں نے بھوپال کی یونیورسٹی میں طالبہ کی نماز پر ہنگامہ کھڑا کردیا

  ہندو انتہا پسندوں نے بھوپال کی یونیورسٹی میں طالبہ کی نماز پر ہنگامہ کھڑا ...

  

     ملتان(نیٹ نیوز)بھارتی شہر بھوپال کی ایک یونیورسٹی میں باہمت طالبہ نے کلاس روم میں حجاب کیساتھ نماز ادا کی ہے جس کے بعد انتظامیہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیا پردیش کے شہر بھوپال میں ڈاکٹر ہری سنگھ گور ساگر یونیورسٹی میں ایک باہمت خاتون نے کلاس روم میں حجاب کے ساتھ نماز ادا کی۔اس واقع کے بعد بھارت میں ہندوتوا نظریے کی پیروکار اور دائیں بازو کی طلبہ (بقیہ نمبر48صفحہ10پر)

تنظیم ہندو جاگرن منچ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے طالبہ کیخلاف ایکشن کا مطالبہ کیا۔ہندو جاگرن منچ کے چیف امیش سراف سے طلبہ پر الزام عائد کیا کہ وہ کافی عرصے سے حجاب پہن کر کلاسز لے رہی ہیں۔امیش سراف نے کہا کہ اس طرح کی مذہبی سرگرمیوں کی تعلیمی اداروں میں اجازت نہیں ہونی چاہیے جبکہ انہوں نے کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلے کی بھی مثال دی جس میں ہائیکورٹ نے کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی کیخلاف درخواست کو خارج کیا تھا۔دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کیخلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں شکایت کیساتھ ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے جس میں طالبہ کا کلاس روم کے اندر نماز پڑھتے دیکھا گیا ہے۔یونیورسٹی کی وائس چانسلر نیلما گپتا کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنادی ہے۔ پانچ ممبران پر مشتمل کمیٹی تین دن میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی جس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ گھر پر عبادت کریں کیونکہ یونیورسٹی پڑھنے کیلئے ہے۔

ہندوانتہاپسند

مزید :

ملتان صفحہ آخر -