جنوبی پنجاب میں بھی آئی پی ایم پروگرام لانے کی تیاریاں 

      جنوبی پنجاب میں بھی آئی پی ایم پروگرام لانے کی تیاریاں 

  

ملتان(سپیشل رپورٹر) سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہاہے کہ کپاس پنجاب کی روائتی نقد ور فصل ہے اور اس خطہ کے لوگوں کا اہم ذریعہ معاش بھی ہے۔پنجاب کی 94 فیصد کپاس کی پیداوار پنجاب کے تین جنوبی ڈویزنز سے حاصل ہوتی ہے جہاں 800سے زائد جننگ فیکٹریاں کام کررہی ہیں جو  اس خطہ کے لوگوں کو روزگار مہیا کرتی ہیں اس کے علاوہ دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے کپاس کی چنائی بھی روزگار مہیا کرتی ہے۔انہوں نے یہ بات(بقیہ نمبر1صفحہ10پر)

 کاٹن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے مزید کہاکہ گزشتہ سال محکمہ زراعت جنوبی پنجاب نے سائنسدانوں اور ماہرین کے ساتھ ملکر کپاس کے کیڑوں کو کنٹرول کرنے کیلئے آئی پی ایم پروگرام متعارف کرایا۔جس کے ذریعے کیڑوں کو نقصان کی معاشی حد سے نیچے رکھنے کیلئے روائتی اور غیر روائتی طریقوں کے ساتھ ساتھ کم سے کم زرعی زہروں کے استعمال کو اپنایا گیا اور یہ پروگرام ملکی زراعت کیلئے سب سے بہترین ماڈل کے طور پر سامنے آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ امسال بھی آئی پی ایم پروگرام کو پورے جنوبی پنجاب میں زبردست طریقے سے نافذ کریں گے اور آئی پی ایم پلاٹس میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ایڈوائزری سروس کو عام کاشتکار تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ فی ایکڑ بہتر پیداوار حاصل کی جاسکے۔سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے زیادہ تر کاشتکارامسال کپاس پر آئی پی ایم کے اصولوں پر عملدرآمد کا اعادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس کے منافع میں اضافہ کی وجہ سے امسال 20 سے 34 فیصد رقبہ پر زیادہ کپاس کاشت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی بحالی میں گزشتہ سال اچھی کا مظاہرہ کرنے والے افسران وزرعی سائنسدانوں کو انعامات سے نوازا جارہا ہے جس کامقصد انکی حوصلہ افزائی اور زیادہ محنت ولگن سے کام کرنا ہے تاکہ امسال بھی کپاس کی بہتر پیداوار حاصل کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی بحالی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز نے ملکر کام کیا جس کی بدولت آج کاشتکاروں کے حوصلے بلند ہیں اور اس سال بھی کاشتکاروں کی رہنمائی کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت مہم چلائی جائے گی۔

ثاقب علی عطیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -