علی زیدی نے لاپتا افراد مسئلے کو سیاسی طنز کیلئے استعمال پر معافی مانگ لی

علی زیدی نے لاپتا افراد مسئلے کو سیاسی طنز کیلئے استعمال پر معافی مانگ لی

  

 ملتان (نیٹ نیوز)وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے لاپتا افراد کے مسئلے کو سیاسی طنز کے لیے استعمال کرنے پر معافی مانگ لی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر نے مریم نواز اور حمزہ شہباز کی ایک تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر۔مذکورہ تصویر مسلم لیگ (ن) کی لاہور سے اسلام آباد کیلئے نکلنے والی ریلی کی تھی  لاپتا افراد جیسے سنجیدہ مسئلے کو بطور طنز استعمال کرنے پر وفاقی وزیر کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ان ہی کی ساتھی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے علی زیدی کو مخاطب کیے بغیر ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ (بقیہ نمبر7صفحہ10پر)

پاکستان میں لاپتا افراد کا مسئلہ سنجیدہ اور دلخراش ہے کوئی مذاق نہیں۔علی زیدی کی ٹوئٹ کو کوٹ کر کے معروف سوشل ایکٹویسٹ جبران ناصر نے کہا کہ حکمران جماعت فطرتاً جگت باز صحیح مگر جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا غم کوئی لطیفہ نہیں معروف وکیل ریما عمر نے علی زیدی کے ریمارکس کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نقل کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی فرد کا لاپتا ہونا انسانیت کے خلاف جرم ہے  یافتہ ملالہ یوسفزئی کے والد نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صرف وہ افراد لاپتا افراد کے خاندانوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جن کے ضمیر لاپتا ہیں۔بعد ازاں علی زیدی نے اپنی ٹوئٹ میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اگر میری پوسٹ سے جبری گمشدگی کے شکار کسی فرد کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں کسی کو غیر قانونی حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ میں نے خود گزشتہ ادوارِ حکومت میں لاپتا ہوجانے 100 سے زائد افراد کو بازیاب کرانے میں مدد دی تھی۔انہوں نے وزارت انسانی حقوق کو ٹیگ کر کے کہا کہ وزارت اس غیر قانونی عمل کے خلاف قانون سازی کررہی ہے۔

علی زیدی 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -