پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد جلسے میں 10 لاکھ لوگ جمع کرنے کا دعویٰ لیکن زیادہ سے زیادہ کتنے لوگ پریڈ گرائونڈ میں اکٹھے ہوسکتے ہیں؟ برطانوی میڈیا نے سب کچھ واضح کردیا

پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد جلسے میں 10 لاکھ لوگ جمع کرنے کا دعویٰ ...
 پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد جلسے میں 10 لاکھ لوگ جمع کرنے کا دعویٰ لیکن زیادہ سے زیادہ کتنے لوگ پریڈ گرائونڈ میں اکٹھے ہوسکتے ہیں؟ برطانوی میڈیا نے سب کچھ واضح کردیا

  

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونیوالے جلسے میں 10 لاکھ لوگ اکٹھے کرنے کا دعویٰ کیا لیکن کیا واقعی پریڈگراؤنڈ میں اتنے لوگ آسکتے ہیں؟ اس بارے وفاقی وزراء کے بیانات میں بھی تضاد پایا گیا جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے  بی بی سی نے بتایا  کہ زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ 13 ہزار لوگ ہی گرائونڈ میں جمع ہوسکتے ہیں۔ 

بی بی سی اردو کے مطابق  پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کے دوران بھی تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت آج 20 لاکھ لوگ جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔یاد رہے کہ  2017 ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی کل آبادی 20 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جلسے سے ایک روز قبل   وزیر اطلاعات فواد چودھری نے نجی چینل اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پریڈ گراؤنڈ میں پانچ لاکھ لوگوں کے آنے کی گنجائش موجود ہے لیکن جس طرح آج ہی لوگوں کی آمد شروع ہو گئی ہے تو امید ہے کہ کل پریڈ گراؤنڈ جلسے سے پہلے ہی بھر چکا ہو گا اور لوگ جلسہ گاہ سے باہر اور پورے شہر میں بھی موجود ہوں گے‘۔

 اسلام آباد میں شکرپڑیاں پریڈ گراؤنڈ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر واقع ہے اس مقام پر ہر سال 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان افواج سالانہ پریڈ کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر گوگل میپ کے ذریعے شکرپڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں اس مقام کی پیمائش کی جائے جہاں پر تحریک انصاف نے جلسے کا انعقاد کیا ہے، تو یہ علاقہ پانچ لاکھ 74 ہزار 531 سکوائر فٹ پر پھیلا ہوا ہے۔تحریک انصاف نے پریڈ گراؤنڈ کے جس حصے میں اپنے جلسے کا اہتمام کیا، ’میپ چیکنگ‘ کے مطابق رش کی صورت میں وہاں تقریباً ایک لاکھ 67 ہزار افراد کے جمع ہونے کی گنجائش موجود ہے۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ تحریک انصاف کے جلسے کے دوران یہ پورا علاقہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور سب لوگ کندھے سے کندھا ملا کر بھی کھڑے تھے تو اس صورت میں بھی ’میپ چیکنگ‘ کے مطابق یہاں زیادہ سے زیادہ دو لاکھ 13 ہزار افراد ہی جمع ہو سکتے ہیں۔

دو لاکھ 13 ہزار افراد جمع ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس قدر ہجوم میں ہنگامی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے اور بھگدڑ مچ سکتی ہے جس کی وجہ سے کوئی حادثہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔ان اعداد و شمار سے ایک بات تو واضح ہے کہ تحریک انصاف جس مقام پر 10 سے 20 لاکھ جمع کرنے کا دعویٰ کر رہی تھی وہاں رقبے کے اعتبار سے اتنا بڑا اجتماع ممکن ہی نہیں۔ایک سرکاری اہلکار نے بھی بی بی سی کو یہ بتایا کہ  تحریک انصاف کے جلسے میں شریک ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ تھی تاہم اگر سڑکوں پر موجود لوگوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -