سفر سہل تو نہ تھا... قسط 2

سفر سہل تو نہ تھا... قسط 2
سفر سہل تو نہ تھا... قسط 2

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاریب کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا، ایک کے بعد ایک خیال اس کے ذہن میں آتا اور پھر وہ اسے مسترد کر دیتی ۔۔۔اماں کے ساتھ تھوڑا بہت سلائی کا کام مکمل کر کے کمر سیدھی کرنے کو لیٹی تو ساتھ والی خالہ اپنے کپڑوں کا ناپ لے کر آ گئیں ۔۔۔
خالہ نسیم عرصہ دراز سے اس محلے کی رہائشی تھیں اور ان کی بیٹی شمسہ سے لاریب کی بہت دوستی تھی۔۔سو خالہ کو ٹھنڈا شربت دیتے ہوئے وہ شمسہ کا پوچھنے لگی  ۔
" ’’بیٹا شمسہ تو گھر کے کام کاج میں لگی ہے ہاں تمھارے لئے پیغام دے رہی تھی کہ ریڈیو پر نوکری کے لئے کوئی اشتہار ہے پارٹ ٹائم پیسے تو کم ہی ہوں گے لیکن نوکری ہو گی اصل میں اس نے سکول میں اخبار میں اشتہار دیکھا تھا ۔کل شمسہ کو چھٹی ہے ہفتہ ہے ناں تو میری مانو ، تم اس کے ساتھ جا کر ریڈیو میں انٹرویو دے آئو دیکھو آواز تو تمھاری اچھی ہے بہت اور پھر تمھیں ریڈیو کا شوق بھی ہے سلمی سے میں خود بات کر لوں گی وہ تمھیں اجازت دے دے گی ۔۔‘‘۔
’’خالہ ، واہ یہ تو بہت خوشی کی بات ہے کہ اگر میرا کام ریڈیو پر ہو جائے میری تو سمجھیں دلی مراد پوری ہو جائے گی ۔‘‘ لاریب یہ سن کر بہت خوش ہو رہی تھی 
بس تم اچھا اچھا سوچو اور نفل مان لو انشاءاللہ بہتری ہی ہو گی اگلا دن بہت مصروف گذرا آڈیشن میں تو وہ پاس ہو گئی لیکن مائیک کا خوف بھی بہت تھا وہ پریشانی سے اپنے لب کاٹ رہی تھی ۔۔
پتہ نہیں کیا ہو گا میں پروگرام کیسے کروں گی کہیں مجھ سے کوئی غلطی ہی نہ ہو جائے کہیں لائیو پروگرام میں کچھ ایسا ویسا ہو گیا تو میری بہت سبکی ہو گی ۔
بہت سی سوچوں نے پھر اس کے دماغ کو آ گھیرا تھا وہ بہت سے امکانات پر سوچنے لگی تھی لیکن ابھی تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا پھر وہ کیوں مایوسی اور شکست کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔شاید وہ اپنے منفی خیالات سے چھٹکارا نہیں پا سک رہی تھی
گھر آتے ہی اماں کو خوش خبری سنائی تو ان کی مسرت کی کوئی انتہا نہ تھی لیکن نہ جانے چاہتے ہوئے بھی وہ اپنا خوف ماں سے بھی نہیں کہہ پائی تھی ۔۔۔" کیا ہوا کچھ کہنا چاہتی ہو آپی ؟ " خرم جو اس سے صرف دو برس ہی چھوٹا تھا اس کے بہت قریب تھا ۔۔۔
" ’’پتہ نہیں ہاں شاید مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت ، پتہ نہیں میں یہ نوکری کر پائوں گی یا نہیں ؟ کہیں کوئی غلطی ہوئی کوئی پرابلم بنی تو کیا ہو گا ؟ "
" ’’آپی دیکھو میں نے یہ سنا ہے کہ انسان شکست حالات سے تو بعد میں کھاتا ہے پہلے اس کا ڈر اور ناکامی کا خوف انسان کو شکست خوردہ کر دیتا ہے ۔۔۔تم شکست خوردہ تب ہی ہو گی جب شکست مان لو گی اور شکست مان لینے سے ہی تمھاری ناکامی شروع ہو جائے گی ۔ا۔س لئے میری مانو تو حوصلے سے آگے بڑھو ہمت کرو اپنے کام کو ایک چیلنج سمجھ کر شروع کرو اور فتح حاصل کرو ۔" خرم کتنا بڑا ہو گیا تھا جو اسے ایسی باتیں بتا رہا تھا کبھی کبھی زندگی میں ہمیں یقین دلانے کی ضرورت پیش آتی ہے کوئی ایسا ہو جو ہم پر ہم سے زیادہ بھروسہ رکھتا ہو ہمیں ہم سے زیادہ سمجھتا ہو۔ 
زندگی گزرنے لگی تھی اور ایک اچھے ڈھب کے ساتھ ، پہلے پہل وہ معاون انائونسر کے طور پر کام کرتی رہی اور پھر اسے کمپیئر بنا دیا گیا کبھی کبھی وہ سوچتی تھی کہ اس کے ابا ٹھیک کہا کرتے تھے کہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اور وقت سے پہلے اور نصیب سے زیادہ کسی کو کچھ مل نہیں سکتا تھا
ریڈیو کی نوکری اس کے لئے بہت اچھی ثابت ہوئی اسے لگتا تھا کہ اس کے بولنے کا شوق یہاں کام آ رہا تھا لیکن یہ بھی تھا کہ اس نے یہ بھی سیکھ لیا تھا کہ بروقت اور برمحل بولنا کتنا مشکل تھا ۔۔۔چنیدہ جملوں کا انتخاب کتنا دشوار تھا اسے اب اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔دفتر میں اس کے سبھی کولیگ اگر بہت اچھے نہیں تھے تو بہت برے بھی نہ تھے وہ ویسے بھی خود میں مگن رہنے والی لڑکی تھی چند ایک کے سوا اس کی کسی سے زیادہ نہ بنی ۔۔۔وہ اپنے کام سے کام رکھتی اور ریڈیو سے سیدھا گھر آ جاتی ۔۔۔۔
شازیہ اس کی ایک اچھی کولیگ تھی ، وہ انائونسر تھی ، لاریب کو وہ زیادہ اس لئے بھی اچھی لگتی کہ اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا ۔۔ جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔  ۔ گزشتہ حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔ 

۔

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں او ر اس میں پیش کیے گئے تمام نام فرضی ہیں، کسی سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ 

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -