لاپتہ افراد میں اضافہ ،میرا معاملہ "اوور"ہوگیا،عمران فیورٹ،توانائی اولین ترجیح ہے:گیلانی

لاپتہ افراد میں اضافہ ،میرا معاملہ "اوور"ہوگیا،عمران فیورٹ،توانائی اولین ...
لاپتہ افراد میں اضافہ ،میرا معاملہ

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے سپیکر کی رولنگ کے بعد معاملہ ’اوور‘ہو چکاہے ۔کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آگیا اور اس پر سپیکر کی رولنگ بھی آگئی ہے جو حتمی ہے ۔ ایک سوال کے جواب ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کے معاملہ پر کابینہ کی کمیٹی بنا دی گئی ہے اوراس ضمن میں سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نو نو سال تک اقتدار میں رہنے والوں نے بجلی پیدانہیں کی جبکہ میرےدورمیں تین ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا ہوئی اورکئی منصوبوں پر کام جاری ہے آئندہ بجٹ مین بھی توانائی سب سے اہم ترجیح ہےاورغیر اعلانیہ لوڈ شیدنگ ختم کرنےکےاقدامات بھی کئےجارہےہیں۔ان کاکہناتھاکہ صوبوں کواپنےطور پربجلی پیداکرنےسےکس نےروکا۔کیا کبھی کسی نے وزیراعلیٰ سےپوچھا کہ کتنی بجلی پیدا کی ؟´ ڈاکتروں کی ہڑتال ہوتی ہے اگر میں کچھ وزراءکو وہاں بھیج دوں تو کیا یہ مناسب ہو گا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان ان کے فیورت ہین لیکن فکر رہتی ہے کہ جس قسم کے لوگ عمران کے ساتھ گئے ہیں ون ان کے ساتھ میاں اظہروالا سلوک نہ کردیں کیونکہان میں سےکوئی وزیرخارجہ نہیں بلکہ وزیراعظم کے بھی بہت سےامیدار ہیں ۔ لاپتہ افراد کے مسئلےپروزیراعظم نےآرمی چیف سمیت سیکیورٹی فورسز اورصوبائی حکومت کے نمائندوں کو طلب کرلیاہے۔انہو ں اعتراف کیاکہ لاپتہ افراد کی تعدادہزاروں سے کم ہوکر48تک آگئی تھی لیکن یہ تعداد دوبارہ بڑھناشروع ہوگئی ہے جس پر انہوں نے آرمی چیف سمیت سیکیورٹی فورسز کے سربراہان کا اجلاس میں طلب کرلیاہے۔جس میں صوبائی حکومت کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر وزیراعلیٰ پنجاب کو احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہاکہ پنجاب میں ڈاکٹر بھی اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں اور اگر وفاقی حکومت کی طر ف سے کچھ وزراءاُن کے ساتھ شامل ہوگئے تو پھر کیاہوگا؟اُنہوں نے کہاکہ صوبے خود بجلی پیداکرنے میں آزاد ہیں لیکن صوبائی حکومت نے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا۔وزیر اعظم یو سف رضا گیلا نی نے کہا ہے کہ سپیکر کے فیصلے کے بعد معا ملہ ختم ہو گیا ہے اسکے بعد لو گ جو بھی با تیں کر رہے ہیں وہ صر ف اپنا وقت ضا ئع کر رہے ہیں۔وہ کا لی بلی کو اندھیرے میں بھگا رہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ میری پا رٹی اور لیگل ٹیم کی جا نب سے مشورہ دیا گیا تھا کہ میں نہ جا ﺅ ں، میں نے آ ئین کے مطا بق کا م کیا ہے میں اس پر معا فی کیو ں ما نگو ۔ مجھے سیا سی شہید بننے کی ضرورت نہیں ہے ،میں نے قا نو ن کی پا سدا ری کی ہے اور آ ئین و قا نو ن کے تحت صدر کو استشنیٰ حاصل ہے ۔اگر انکو امیو نیٹی حا صل نہیں ہے تو ثا بت کیا جا ئے اگر نہیں ہے تو غلطی ہو ئی ہے۔ ایک سوال کے جوا ب میںوزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرا خیا ل تھا کہ مجھے چھ ما ہ کی سزا سنا ئی جا ئے گی اور اُ س حسا ب سے میں سپریم کو رٹ اپنی تیا ری سے گیا تھا۔ان سے سوال کیا گیاکہ اگر صدر کو استشنیٰ حا صل ہے تو اپکے وکلا ءنے آ رٹیکل248کے تحت نہیں کی، تو جوا ب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ کیس میرا لڑ رہے تھے نہ کہ صدر صا حب کاتو اس لیے وہ وزیر اعظم کا د فا ع کر رہے تھے کہ انہوں نے کو ئی تو ہین نہیں کی تو اس لیے کو ئی تعلق نہیں بن رہا تھا کہ صدر صا حب کو ہم بیچ میں لے آ ئیںمگر یہ ہے کہ میں نے مشورہ دیا تھا کہ مجھے خط لکھنا چا ہئے۔جب اُن سے پو چھا گیا کہ ایک سر وے رپو رٹ کے مطا بق حکو مت کے ان چا ر سالو ں میں سا ڑ ھے آ ٹھ ہزا ر ارب رو پے ی کر پشن کی گئی ہے اور چئیر مین نیب کے حوا لے سے رپو رٹ میں کسی کا ہو سکتا ہے کہ کر پشن کی جا رہی ہے مگر ا ن میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی وزیر کو کرپشن کے اپزا م میں نہیں لکا لا ہے ، پرویز رشید کے حوا لے انکا کہنا تھا کہ انکو نکا لا نہیں گیا تھا بلکہ کچھ وقت کیلئے پنجا ب کے منسٹروں سے انکو پا ک کیا گیا تھا، اس وقت ہما ری با ت مسلم لیگ(ق) کے سا تھ چل رہی تھی تو وقت پو را ہو نے پر پرویز رشید کو وا پس لا یا گیا ۔ایک سوا ل کے جوا ب میں وزیر اعظم گیلا نی کا کہنا تھا کہ مخدو م امین فہیم کے خلا ف کا ر وا ئی ہو رہی ہے۔انکا کہنا تھا کہ قا نو ن کے نقطہ نظر کے مطا بق انسا ب مضبو ط نہیں ہو تے بلکہ ادا رے مضبو ط ہو تے ہیں مگر مجھے خو شی ہے کہ میں نے 73کے آ ئین کو اصل صو رت میں بحا ل کیا ہے اور اُ س سے ادا رے مضبو ط ہو ئے ہیں۔ان سے سوا ل کیا گیا کہ مو جو دہ حکو مت کت دو ر میں سب سے سیاسی لو گ اور صحا فیوں کو قتل کیا گیا اور اغوا ءکیا گیا تو جوا ب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے دور میںسیا سی انتقا م نہیں کیا گیا کو ئی سیا سی قیدی نہیں ہے اور جو کالے قا نو ن تھے ہم نے انکو بھی ختم کیا ، مشرف کے دو ر میں مسنگ پر سن ہزا ورں کی تعداد میں تھے ،جو اب کم ہوکرصر ف48 رہ گئے تھے مگر اب انکی تعداد مزید بڑ ھی ہے اُ س کیلئے کو رٹ سے رجو ع کیا ہوا ہے۔انکا کہنا تھا کہ میں نے پرسو ں ایک میٹینگ کا ل کی ہے جس میں قا نو ن نا فذ کر نے وا لے ادا رے، وفا قی حکو مت ،منسٹر ز اور چیف آ ف آ رمی سٹا ف بھی شا مل ہو نگے ۔مظفر بھٹو کے اغوا ءکے بعد قتل اور ثنا ءسنگت بلو چ کے قتل کے حوا لے س انکا کہنا تھا کہ ہم انکی مذمت کر تے ہیں اور ایسے وا قعا ت نہیں ہو نے چا ہئے ایسے وا قعا ت کے خلا ف تما م سیا سی جماعتوں کو کا ر وا ئی کر نی چا ہئے اور میں قا نو ن نا فذ کر نے وا لے ادروں کو بھی کہوں گا کہ ایسے عنا صر کو قا نو کے کٹھر ے میں لا ئیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہر دو ر میں بلو چستا ن کے سا تھ ذ یا دتی کی گئی ہے اور یہ آج کی با ت نہیں ہے ، اس حکو مت نے کو شش ہے کہ انکو انکے را ٹس دیے جا ئیں۔اس سوا ل پر 14سے20گھنٹے لو ڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجا ب بھی اس میں شریک ہو کر آ پکو مکا دکھا کر نعرے لگا تے ہیںتو اس کے جوا ب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ انر جی کا بحرا ن ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بٹن دبا کر یہ بحرا ن حل نہیں کیا جا سکتا اس کیلئے پلا ن در کا ر ہے اور جس پر کا م ہو رہا ہےاور بہت جلد اس پر قا بو پا لیا جا ئے گا ۔شا رٹ ٹر م ، مڈ ٹر م اور لا نگ ٹر م اس پر کا م کیا جا رہا ہے ۔انکا کہنا تھا کہ سا بقہ ادوار میں جو کمی ہو ئی تھی اسکا خمیا زہ آج قو م بھگت رہی ہے جنکو نو سا ل حکو مت ملی ہو اور اس کے بعد بھی حکو مت ملی ہو انہوں نےکتنے میگا وا ٹ بونیشنل گردمیں ایڈ کیے ایک بھی نہیں بلکہ انکو ذا ئع ہی کیا گیا۔ایک سوا ل کے جوا ب میں انکا کہنا تھا کہ ہم نے نیشن گردمیں 3600میگا وا ٹ یو نٹ ایڈ کیے ہیں مگر اتنی ہی ڈیما نڈ نئے کنکشنز کی ہے جو کہ پو ری نہیں کی جا سکتے ہے ۔اس وقت تھر کو ل پرا جیکٹ ،بھا ت ڈیم،منگلہ اپ رئیزنگ کا سہ 100پر بھی کا م ہو رہا ہے اور جبکہ ایرا ن اور انڈیا کے سا تھ بھی کا م کیا جا رہا ہے اور اپنے پا ئپ لا ئن کے سا تھ بھی کا م جا ری ہے ۔انکا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں انر جی سیکٹر کو ٹو پ پر رکھا جا ئے گا اور کوشش کی جا ئے گی کہ شیڈول لو ڈ شیڈنگ کے علا وہ نہیں ہو نی چا ہئے اس پر کا م ہو رہا ہے ۔انکا کہنا تھا کہ چیف منسٹر کو ایک پیغام دینا چا ہتا ہوں کہ انکو بجلی پیدا کر نے سے کس نے منع کیا ہے ان پر کسی نے کو ئی پا بندی نہیں لگا ئی ، انہوں نے نیشنل گر ڈ میں کتنے یو نٹ ایڈ کیے ،صو بو ں کو اور وفا قی حکو مت کو اجا زت ہے کہ وہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔پنجا ب حکو مت بھی احتجا ج میںشا مل ہو جا ئے ایس پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ڈا کٹرز کی جو ہڑ تا ل ہو رہی ہے میں بھی انکی طر ح اپنی کچھ منسٹر ز کو بھیج دو ں کہ انکے خلا ف نعرے لگا ﺅ تو کیا فر ق رہ جا ئے گا ۔ہم سب کو حقیقت کا سا منا کر نا چا ہئے ۔ ایک سوا ل کے جوا ب میں وزیر اعظم گیلا نی کا کہنا تھا کہ عمرا ن خا ن میرے فیورٹ ہیں اور مجھے فکر ہو تی ہے کہ جس قسم کے لوگ انکے گر د جمع ہو گئے ہیں وہ صرف فو رن منسٹرز بننے کیلئے نہیں گئے اور ان میں اکثر پرائم منسٹر ز کے امیدوار ہیں ۔ مجھے فکر مندی رہتی ہے کہ عمرا ن خا ن کے سا تھ بھی کچھ ایسا نہ ہو جا ئے جو میاں اطہر کے سا تھ ہوا تھا ۔اس سوال پرکہ ایک ریپبلک انسٹی ٹیو شن کے سر وے کے مطا بق پا کستا ن تحریک انصا ف پہلے نمبر ، پاکستان مسلم لیگ(ن) دو سرے اور جبکہ پاکستان پیپلز پا رٹی نمبر تیسرے پر ہے،پاکستان پیپلز پا رٹی کی پا لیسیوںکی وجہ سے گرا ف نیچے آ یا ہے ، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ اچھی با ت ہے کہ ان دو نون کو چا نس مل ر ہاہے ۔ پیپلز پا رٹی کے منشو ر پر 80فیصد عمل درآ مد کر دیا ہے اور لو گ صر ف کہ بجلی بحرا ن کی وجہ سے چیخ رہے ہیں مہنگا ئی کی وجہ سے نہیں مہنگا ئی گلو بل مسئلہ ہے ۔انکا کہنا تھا کہ 58-2bکے اختیارا ت ختم ہو چکے ہیں اس ملک میں ما رشل لا ءکا کوئی چا نس نہیں ہے ،غیر قا نو نی طریقے سے کو ئی طریقہ مو جو د نہیں ہے، قا نو ن مضبو ط ہو چکا ہے پہلے پا رلیما نی فا ر م آ ف گو رنمنٹ اور پریذیڈنشیل فا ر م آ ف گو رنمنٹ تھا ،اگر آ پ مجھے ہٹا نا چا ہتے ہیں تو پبلک نما ئندے ہٹا سکتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجلی بحرا ن پر قا بو پا نے کیلئے وقت درکا رہے ، 1994میں جو پرا جیکٹ محتر مہ نے شروع کیے وہ اگر بند نہ کیے جا تے تو پاکستان کی حا لت بد ل چکی ہو تی مگر نوا ز شریف کی حکو مت آ تے ہی ان منصو بو کو بند کروا دیا گیاجس کی وجہ سے پاکستان تارکیوں میں ڈو ب گیا ہے اگر آپ کی پا لیسیسز میں تسلسل نہیں ہو گا تو اپکی حکو مت کبھی کا میاب نہیں ہو گی ۔ ایک بیٹے کو ایم پی اے اور دو سرے کو ایم این اے نہ بنا تے تو شا ید انکے زیا دہ مسا ئل نہ پیدا ہو وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ سب اپو زیشن کی با تیں ہیں ، اگر یہ نہ کر تے تو یہ ہو جا تا ،انکو شو ق سے نہیں بنا یا بلکہ حا د ثا تی طو ر پر بھی ایسا ہو جا تا ہے ۔ ایک سیٹ رحیم یا ر خا ن میں خا لی ہو ئی تھی اور وہ سیٹ فنگشنل لیگ پیر پگا رو صا حب کی تھی ، اُنہوں نے مجھے خو د کہا کہ اپنے صا حبزا دے کو اُس سیٹ پر الیکشن لڑ واﺅ تو انہوں نے اپنی ٹکٹ پاکستان پیپلز پا رٹی کو دیدی تو اُ س پر میرا بیٹا منتخب ہوا تو آ پکا کیا خیا ل ہے کہ میاں صا حب کو خوشی ہو ئی ہو گی اور جبکہ دو سری سیٹ جلال خا ن پیر وا لا سے جہان سے پاکستان پیپلز پا رٹی نے کبھی نہیں جیتی تھی وہان کی ٹو ٹل لیڈر شپ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور(ق) کے پاس تھی اس کے با و جو د پیپلز پارٹی نے وہ سیٹ حا صل کی میرا بھا ئی خو د وہاں سے ہا را تھا اور کتنے ہنگا مے ہو ئے تھے ۔ شا ہ محمو د قریشی نے با قا عدہ پریس کا نفرنس کر کے لو گوں کو کہا کہ گھروں سے با ہر نہ نکلیں اور ووٹ نہ ڈا لیں اسکے با وجو د جنرل الیکشن سے دس ہزا ر ووٹ زیا دہ ڈلے جو کہ تقریبا 93000تھے،اس کے بعد کہا گیا کہ دھا ندلی کی گئی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجا ب شہبا ز شریف کا فو ن آ یا اور بیٹے کی کا میا بی پر مبا رکبا د دی ، یہ سیٹ مسلم لیگ(ن) کے مقا بلے میں کھڑی کی گئی تھی۔بر طا نیہ کو دیئے گئے انٹر ویو کی تر دید کر تے ہو ئے و زیر اعظم کا کہنا تھا کہ سوا ل یہ تھا کہ گیلپ سروے کے مطا بق پاکستان ایک سٹریٹ سٹیٹ ہے اور فیلئر ملک ہے تو اسکے جوا ب میں نے کہا تھاکہ میں آ پ سے اتفا ق نہیں کر تا ،پاکستان ایک فیل سٹیٹ نہیں ہے ، میں نے ثا بت کیا کہ آ پ کی سو چ غلط ہے ۔انکا کہنا تھا کہ پا کستا نی نژا د کو سلا م پیش کر تا ہو ں جنہوں نے پاکستان کا نا م رو شن کیا ، فو ر ن ریمی ٹنس کو دوگنا کیا ارو اپنا پیسہ پاکستان میں بھیجا ، میرے آ نے پہلے تقریبا 6بلین یو ایس ڈا لر تھے جو اب 12بلین ڈا لر سے زیا دہ ہو گئے ہیں انکو را ئٹ آ ف ووٹ دیا جا نا چا ہئے ۔وزیر اعظم گیلا نی کا کہنا تھا کہ یک طر ف ہم کہتے ہیں کہ ووٹ دیںاور دو سری جا نب انکو دہری شہریت سے روکا جا رہا ہے اس پر ڈیبیٹ ہو نی چا ہئے اور پا رلیمنٹ کو اس پر فیصلہ کر نا چا ہئے۔اگر ہم انکو دو ہری شہریت پر اعترا ض کریں گے تو دوسرے ملک بھی اس پررسوال اُ ٹھا ئیں گے ۔پا کستان کے قا نو ن کے مطا بق کہا ں لکھا ہوا ہے کہ وہ شخص ممبر آ ف پاکستان نہیں ہو سکتا یا بیو رو کریٹ نہیں ہو سکتا ،اسکی آ ئین سا زی ہو نی چا ہئے اور اسکے بعد ڈیبیٹ ہو نی چا ہئے ۔ دو ہری شہریت رکھنے پر کو ئی اعترا ض نہیں ہو نا چا ہئے ، تما م سیا سی جماعتوں اور پارلیمنٹ کو اس پر فیصلہ کر نا ہو گا۔

مزید : سیاست /اہم خبریں