اڑنے والی مچھلی جس نے سائنسدانوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا

اڑنے والی مچھلی جس نے سائنسدانوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا
اڑنے والی مچھلی جس نے سائنسدانوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جو شخص یہ کہتا ہے کہ مچھلیاں اڑ نہیں سکتیں اس نے شاید ”موبولا ریز“ نہیں دیکھیں۔موبولاریز مچھلی کی ایک قسم ہے جو چند سیکنڈ کے لیے اڑ بھی سکتی ہے۔اس مچھلی کے سر پر دو سینگ نما ابھار ہوتے ہیں جو اسے جھٹکے کے ساتھ پانی سے باہرنکلنے کے بعد چند سیکنڈ تک اڑنے میں مدد دیتے ہیں۔یہ سوال تو ابھی ایک راز ہے کہ یہ مچھلیاں اس طرح کیسے اڑتی ہیں لیکن سائنسدانوں نے کچھ قیاس آرائیاں کی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے نر اور مادہ مچھلیاں آپس میں ملاپ کے وقت اس طرح سمندر سے نکل کر اڑتی ہیں، یا یہ ان کے غذا حاصل کرنے کا طریقہ ہو سکتا ہے یا پھر محض تفریح کے لیے یہ حرکت کرتی ہوں گی۔ اس حوالے سے ابھی کچھ یقینی نہیں ہے۔

سعودی عر ب میں موجود مردوں کو عدالت نے خبردار کردیا، تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

آبی حیات کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر اوکٹاویو ابرٹوکا کہنا ہے کہ 2011میں کیلیفورنیا کے قریب یہ مچھلیاں بہت بڑی تعداد میں دیکھی گئی تھیں۔ یہاں جو تصاویر آپ دیکھ رہے ہیں یہ سبھی اسی دوران پروفیسر اوکٹایو نے ہی بنائی تھیں۔ اوکٹایو کا کہنا ہے کہ یہ مچھلی چھلانگ مار کر سمندرکی سطح سے اوپر اٹھتی ہے اور کچھ سیکنڈ تک ہوا میں رہتی ہے۔ واپس پانی میں جاتے ہوئے دوسری مچھلیوں کے برعکس پیٹ کے بل پانی پر گرتی ہے اور کچھ دور تک پانی کے اوپر ہی رینگتی چلی جاتی ہے، حالانہ دیگر مچھلیاں ہوا میں چھلانگ لگانے کے بعد منہ کے بل پانی میں واپس آتی ہیں اور سیدھا پانی کے اندر چلی جاتی ہیں۔ موبولا مچھلی کی بعض اقسام17فٹ تک لمبی ہوتی ہیں اور ان کا وزن ایک ٹن سے زیادہ ہوتا ہے۔

وہ خواتین جن سے مردوں کو دور رہناچاہیے ، تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

اوکٹایو نے بتایا کہ یہ مچھلیاں اکیلی فضاءمیں چھلانگ نہیں لگاتیں بلکہ ایک جھنڈ کی شکل میں اوپر آتی ہیں، اسی بات سے ان کے چھلانگ لگانے کی وجہ معلوم کی جا سکتی ہے۔ موبولا مچھلیاں چونکہ جھنڈ کی شکل میں سفر کرتی ہیں اس لیے ان کا شکار بہت آسان ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی بعض اقسام روئے ارضی سے ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔فروری2013ءمیں فلسطین کے شہر غزہ کے ماہی گیروں نے صرف 2دن میں 200موبولا مچھلیاں شکار کی تھیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس