جوہری معاہدہ‘ آیت اللہ علی خامنہ ای بند گلی میں پھنس گئے

جوہری معاہدہ‘ آیت اللہ علی خامنہ ای بند گلی میں پھنس گئے

تہران ( آن لائن ) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای متنازع جوہری پروگرام پر چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے اپنے اقتدار کے تلخ اور کٹھن ایام کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ بند گلی میں پھنس چکے ہیں جہاں وہ آگے جاسکتے اور نہ ہی پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔جبکہ وہ مغرب کے ساتھ سرد جنگ بھی جاری نہیں رکھنا چاہتے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماضی میں خامنہ ای کے قریب رہنے والے محمد نوری زاد نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "فیس بک" پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں موجودہ ایرانی حکومت کودرپیش مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ "موجودہ حالات ایرانی سپریم لیڈر کے لئے خاص طور پر سنگین مشکلات کا باعث بنے ہیں۔ خامنہ ای حقیقی معنوں میں ایک بند گلی میں جاچکے ہیں جہاں وہ آگے جاسکتے اور نہ ہی پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔"۔خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ایرانی حکومت نے "لوزان" میں ہونے والے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں تہران کو یورینیم افزودگی میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ حساس نوعیت کی جوہری اور فوجی تنصیبات کے معائنے پر بھی قائل کرلیا تھا۔ ایرانی مذاکرات کاروں نے مغرب اورامریکا کی یہ شرائط مان لی تھیں لیکن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کا موقف اس کے برعکس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حساس تنصیبات اور ملٹری تنصیبات کی چھان بین کا کوئی جواز نہیں ہے۔ایرانی تجزیہ نگار کا نوری زاد کا کہنا ہے کہ خامنہ ای مغرب کے ساتھ سرد جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر حال ہی میں ایرانی اور عالمی ذرائع ابلاغ نے ان کی بے پناہ دولت کے پول کھول کر انہیں ایک نئی مشکل سے دوچار کردیا ہے۔

خامنہ ای اپنی دولت کے تہلکہ خیز انکشافات کے بعد برہم ہیں لیکن کسی قسم کا رد عمل ظاہر کرنے سے گریز بھی کررہے ہیں۔نوری زاد کا کہنا ہے کہ خامنہ ای ایک جانب اپنی حکومت کے جوہری پروگرام بارے پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں اور دوسری جانب دولت کے پول کھلنے کے بعد اپنے دفاع کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سپریم لیڈر اور ان کی عسکری قیادت امریکا کی مخالفت کا علم بھی اٹھائے رکھنا چاہتی ہے۔ گومگوں کی شکار ایرانی قیادت ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے کہنہ مشق قائدین کسی بھی جنگ اور حملے کی صورت میں خود کو مفلوج سمجھتے ہیں۔ انہیں پوری طرح یقین ہے کہ وہ جن عرب ملکوں کی اٹھتے بیٹھتے مخالفت کرتے ہیں وہ دفاعی اعتبار سے ایران سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ تہران کے مخالفین کے پاس جدید اسلحہ، ٹینک، توپیں اور جنگ کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی دوسرے ملک میں جاری بغاوت کو ہوا دینے کے سنگین نتائج خود ایران کی تباہی اور بربادی کا موجب بن سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ایرانی عسکری قیادت اور سپریم لیڈر کے دماغ سے جنگی جنون نہیں اترتا۔نوری زاد نے خبردار کیا کہ ایران کی عسکری قیادت اور سپریم لیڈر نے خطے میں کوئی نئی جنگ چھیڑی تو اس کے نتیجہ ایران کی تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ اپوزیشن رہ نما نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشورہ دیا کہ وہ جوہری پروگرام سے دستکش ہوجائیں۔ بشارالاسد،شام، یمن،حزب اللہ ، لبنان اور بحرین کے اہل تشیع کو بغاوت پراکسانے سے باز آئیں اور عرب ممالک میں ایرانی نظام مسلط نہ کریں ورنہ اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ کہ ایرانی حکومت کے ناقد سمجھے جانے والے تجزیہ نگار محمد نوری زاد ایران کے ایک معروف سیاسی کارکن، دانشور اور فلم پروڈیوسر ہیں۔ ۔ سنہ 2009ء4 تک مسٹر نوری زاد بھی سپریم لیڈر کے سخت حامی اور اصلاح پسند تحریک کے مخالف سمجھے جاتے تھے لیکن سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں محمود احمدی نڑاد کی کامیابی کے بعد اپوزیشن رہ نماؤں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی نے نوری زاد کو بھی حکومتی پالیسیوں سے سخت بدظن کیا۔ اس کے بعد وہ اپوزیشن رہ نماؤں بالخصوص اصلاح پسند لیڈروں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی پرتنقید کے بجائے ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے۔

مزید : عالمی منظر