نیتن یاھو یہودی کالونیوں کی حد بندی کے لیے مذاکرات پر تیار

نیتن یاھو یہودی کالونیوں کی حد بندی کے لیے مذاکرات پر تیار

یروشلم ( آن لائن )اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتین یاھو نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسرائیل کی یہودی کالونیوں کی حدود کے تعین کے لیے مذاکرات پر آمادگی ظاہرکر دی ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہودی کالونیوں پر بات چیت کے لیے باضابطہ رضامندی کا یہ پہلا موقع ہے۔عبرانی اخبار "ہارٹز" کے مطابق وزیراعظم نیتن یاھو نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی سے ملاقات کے دوران انہیں یقین دلایا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسرائیل کی یہودی کالونیوں کی حدود کے تعین کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔

خیال رہے کہ یورپی یونین کی جانب سے حال ہی میں یہ اشارہ بھی دیا گیا تھا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے میں اپنی متنازعہ تعمیرات کا سلسلہ بند نہ کیا تو تل ابیب کے خلاف پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔ یونین کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی غیرقانونی تعمیرات کے رد عمل میں مقبوضہ مغربی کنارے اور وادی گولان میں مقیم یہودیوں کی یورپی شہریت منسوخ کردی جائے گی۔تاہم یورپی یونین کی جانب سے کوئی سخت قدم اٹھائے جانے سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے خلاف توقع یہودی کالونیوں کی حدود کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی سے بات چیت بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے نیتن یاھو کی مشروط مذاکرات کی پیش کش مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو پہلے سنہ 1967ء4 کی حدود میں فلسطینی ریاست اور بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہوگا۔سرکاری خبر رساں ایجنسی "وفا" کے مطابق نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے اسرائیل کو فوری طور پر یہودی بسیتوں کی تعمیر روکنا ہوگی اور سنہ 1994ء میں طے پائے اوسلو معاہدے سے قبل کے تمام فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا۔

مزید : عالمی منظر