مقبوضہ کشمیرمیں اسلحہ چھیننے کے واقعا ت میں اضافہ

مقبوضہ کشمیرمیں اسلحہ چھیننے کے واقعا ت میں اضافہ

پلوامہ(اے این این)مقبوضہ جموں کشمیر میں قابض فورسز کے اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا ٗضلع پلوامہ کے ہسپتال میں ڈیوٹی پر مامور کٹھ پتلی پولیس اہلکار سے نامعلوم افراد اس کی سروس رائفل چھین کر فرار ہوگئے ، واقعہ سے پورے ہسپتال میں افرا تفری پھیل گئی جس کے بعد قابض فورسز کی کئی ٹیمیں تشکیل دی گئیں پورے ہسپتال کومحاصرے میں لیکر تلاشی کاروائیاں شروع کی گئیں۔ اسکے بعد قصبہ سے باہر جانے والے تمام راستوں پر فورسز تعینات کرکے گاڑیوں کی تلاشیاں شروع کر دی گئی جو آخری اطلاع ملنے تک جاری تھیں۔

واضح رہے کہ ایک ایسے ہی واقعہ میں پیرکی شام ساڑے آٹھ کے قریب پرچھو پلوامہ میں بی جے پی لیڈر گلزار احمد ننگرو کے ڈرائیور شبیر احمد صوفی نے مذکورہ لیڈر کے ذاتی محافظ کی سروس رائفل چھین لی اور بعد میں وہ جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔کیونکہ ان علاقوں میں کوہ پیماؤں کا جانا بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔تاہم بعض آپریٹروں کا خیال ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو اسے دوبارہ شروع کردینا چاہیے کیونکہ زلزلے سے تمام جگہیں متاثر نہیں ہوئی ہیں اور بعض جگہ خطرات کم ہیں۔خیال رہے کہ ہرسال نیپال میں لاکھوں سیاح پہنچتے ہیں۔

سنہ 2013 اور اس سے پہلے سنہ 2012 میں آٹھ لاکھ سیاح وہاں پہنچے تھے جن میں سے تقریبا 13 فی صد سیاح ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے لیے پہنچتے ہیں۔ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے تودے گرنے کے تین ہزار سے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں اور آنے والے مون سون میں حالات مزید خراب ہوں گے۔برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسر ایلکس ڈینسمور کا کہنا ہے کہ ’یہی وجہ ہے کہ پہاڑ غیر مستحکم ہوتے کیونکہ زلزلے سے پوری لینڈسکیپ ہل کر رہ جاتی ہے اور پہاڑوں پر موجو مٹی اور چٹانیں متاثر ہوتی ہیں۔’اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پہاڑیاں زلزلے میں نہیں گرے انھیں بھی نقصان ہوا ہے اور وہ 25 اپریل سے پہلے کے مقابلے اب زیادہ خطرناک ہیں۔ایریزونا یونیورسٹی کے پرفیسر جیفری کارگیل کا، جنھوں نے نیپال کی سرزمین کا مطالعہ کر رکھا ہے، کہنا ہے کہ نیپال کی پہاڑوں کی موجودہ صورت حال پر ایک تجزیہ انتہائی ضروری ہے۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...