رہائشی سکیموں میں کمرشل تعمیرات کا سلسلہ رک نہ سکا ایل ڈی اے کو کروڑوں کا نقصان

رہائشی سکیموں میں کمرشل تعمیرات کا سلسلہ رک نہ سکا ایل ڈی اے کو کروڑوں کا ...

 لاہور(اقبال بھٹی) رہائشی سکیموں میں کمرشل تعمیرات کی بھرمار ہو گئی جس سے ایل ڈی اے کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے ۔سبزہ زار سکیم اس حوالے سے سر فہرست ہے ۔سبزہ زار کی مین روڈ جو فوارہ چوک سے ڈبن پورہ چوک تک ہے پر دونوں اطراف کمرشل تعمیرات ہو رہی ہیں جبکہ یہ سڑک کمرشل تعمیرات کے لیے منظور شدہ نہیں ہے اس کے علاوہ ڈبن پورہ چوک سے بند روڈ تک گندے نالے کے ساتھ ساتھ تمام پلاٹوں پر بھی کمرشل تعمیرات ہو رہی ہیں سبزہ زار کی ہائی ٹینشن روڈ جو کہ جے بلاک سے پی بلاک تک ہے اس کے دونوں اطراف میں کمرشل پلازے تعمیر ہو رہے ہیں اس کے علاوہ بارہ میٹر روڈ جو کہ پی بلاک اور کیو بلاک کے درمیان سے ہوتی ہوئی گندے نالے تک جاتی ہے پر بھی سڑک کے دونوں اطراف کمرشل تعمیرات دھڑلے سے جاری ہیں اس ہی سڑک پر مکہ چوک واقع ہے جو کہ سبزہ زار سکیم کی مہنگی ترین کمرشل جگہ بن چکی ہے۔اس کے علاوہ ایک سڑک جو کہ لیاقت چوک سے ملتان روڈ تک جاتی ہے اس کے دونوں اطراف پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات ہو چکی ہیں اور اس سڑک پر آٹو ورکشاپس کی دکانیں بنا دی گئی ہیں اور وہ آٹو ورکشاپ کی مارکیٹ بن گئی ہے جبکہ آٹو ورکشاپ والے سڑک پر گاڑیاں کھڑی کر کے کام کرتے ہیں جس سے آنے جانے والوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس سبزہ زار سکیم میں واقع کمرشل ایریا ویرانی کا شکار ہے اس میں اب تک صرف 4سے5 پلازے ہی تعمیر ہو سکے ہیں،ان میں سے دو پلازے جو مین روڈ کے قریب واقع ہیں وہ آباد ہیں جبکہ باقی تمام ویرانی کا شکار ہیں اور کوئی دکاندار ان میں دکان لینے کو تیار نہیں جبکہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے کمرشل پلازوں میں اتنا کاروبار ہو رہا ہے کہ وہاں کوئی دکان خالی نہیں ملتی ۔کمرشل پلازے کمرشل ایریا میں تعمیر نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کمرشل پلازوں کے نقشہ جات بڑی مشکل سے منظور ہوتے ہیں ایک نقشہ کی منظوری کے لیے 6ماہ سے ایک سال تک کا وقت درکارہوتا ہے۔جس کی وجہ سے لوگ بد دل ہو چکے ہیں اور رہائشی نقشہ منظور کروا کر کمرشل پلازے تعمیر کر لیتے ہیں۔جب اس حوالے سے ایل ڈی اے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا جہاں کہیں بھی کمرشل تعمیرات لوگوں نے کر رکھی ہیں ان کو محکمہ سالانہ بنیادوں پر کمرشل کر رہا ہے جو کوئی کمرشل فیس نہیں دیتا اس کی بلڈنگ سیل کر دی جاتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1