مبینہ انتخابی دھاندلی ‘ جوڈیشل کمیشن نے ووٹوں کے تھیلوں میں بند تحریری تفصیلات طلب کر لیں

مبینہ انتخابی دھاندلی ‘ جوڈیشل کمیشن نے ووٹوں کے تھیلوں میں بند تحریری ...

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمشن نے فارم 15 کے حوالے سے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ووٹوں کے تھیلوں سے فارم 15 نکالے جائیں۔ یہ عمل متعلقہ ڈسٹرکٹ ججوں کی نگرانی میں ہوگا۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ فارم 15 حاصل کرنے کے لئے سفید، خاکی اور نیلے رنگ کے تھیلے کھولے جائیں،ڈسٹرکٹ ججز تمام پولنگ سٹیشنز کے فارم 15 کی تصدیق شدہ نقول تیار کریں اور ہر حلقہ کا فارم 15 الگ پیکٹ میں انکوائری کمیشن کو بھجوایا جائے۔ فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے فارم 15 حاصل کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر معاونت کریں گے جبکہ فاٹا میں فارم 15 کا عمل متعلقہ پولیٹیکل ایجنٹ کے سپرد ہوگا۔ کسی پولنگ سٹیشن کا فارم 15 نہ ملے تو اس کی بھی رپورٹ بھجوائی جائے۔ فیصلے میں فارم 15 حاصل کرنے کا عمل 8 جون تک مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ فارم 15 میں بنیادی طور پر انتخابات میں ہر پولنگ سٹیشن بھیجے گئے بیلٹ پیپرز کی سلسلہ وار تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ ہر پولنگ سٹیشن کیلئے فارم 15 کی دو کاپیاں ہوتی ہیں۔ ایک کاپی بیلٹ پیپرز کے تھیلے میں جبکہ دوسری کاپی ریٹرننگ افسر کو دی جاتی ہے۔ پریذائیڈنگ آفیسر ووٹنگ سے قبل سربمہر تھیلا کھولتا ہے اور پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں بیلٹ پیپرز اور دیگر سامان نکالتا ہے۔ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر استعمال شدہ اور بچ جانے والے بیلٹ پیپرز سیریل نمبر کے ساتھ فارم 15 پر اندراج کرتا ہے۔ انتخابی عمل کے دوران پریذائیڈنگ آفیسر چیلنج یا خراب ہونے والے بیلٹ پیپرز کی سیریل نمبر کے ساتھ تفصیل فارم 15 پر درج کرتا ہے جبکہ انتخابی عمل میں غائب ہو جانے والے بیلٹ پیپر کا سیریل نمبر بھی فارم 15 پر درج کیا جاتا ہے۔ فارم 15 پر پریذائیڈنگ آفیسر کی مہر اور دستخط تاریخ کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔ بعد میں فارم 15 پر پولنگ سٹیشن نمبر کے اندراج کے بعد سفید رنگ کے پولنگ بیگ میں سیل کرکے الیکشن کمیشن بھیج دیئے جاتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول