سانحہ ڈسکہ ‘ ڈی پی او سیالکوٹ تبدیل ‘ انصاف ہوتا نظر آئیگاا‘ شہباز شریف

سانحہ ڈسکہ ‘ ڈی پی او سیالکوٹ تبدیل ‘ انصاف ہوتا نظر آئیگاا‘ شہباز شریف

 لاہور(پ ر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ ڈسکہ میں2وکلاء کے جاں بحق ہونے کے اندوہناک واقعہ پر دلی افسوس ہواہے۔پنجاب حکومت ا ورصوبے کے عوام وکلاء برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انصاف نہ صرف ہر قیمت پر ہوگا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔ مقدمے کا مکمل چالان 14روز کے اندر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔مقدمے پر پیشرفت کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔کسی کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دی جائے گی۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ڈی پی او سیالکوٹ اورمتعلقہ ڈی ایس پی کو تبدیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔پر امن احتجاج وکلاء برادری کا حق ہے تاہم جن افراد نے عمارتوں اورگاڑیوں کو جلایا ہے انہیں قانون کی گرفت میں لانا ہوگا۔توڑ پھوڑ کرنے والے عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے وکلاء برادری کا تعاون چاہتے ہیں۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار یہاں پنجاب بار کونسل کی وائس چیئر پرسن فرح اعجاز بیگ کی قیادت میں وفدسے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جاں بحق ہونے والے وکلاء کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور واقعہ میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی گئی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے پنجاب بار کونسل کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہڈسکہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔واقعہ میں جاں بحق ہونے والے وکلاء کے لواحقین سے دلی ہمدردی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈی پی او سیالکوٹ اورمتعلقہ ڈی ایس پی کو تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ میرٹ کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ انصاف کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ قانون کی عملداری اور انصاف کی فراہمی یقینی بناکر اس کیس کو مثال بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ 2وکلاء کو نا حق قتل کر کے بربریت کا مظاہرہ کیاگیاہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔میں وکلاء برادری کو یقین دلاتا ہو ں کہ انصاف اور قانون اپنا راستہ لے گا اور14روز کے اندر قانون کے مطابق مقدمے کا مکمل چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ وکلاء برادری عوام کو انصاف کی فراہمی اور معاشرے میں رائے عامہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔وکلاء برادری کا قانون کی عملداری یقینی بنانے میں کلیدی کردار ہے۔پنجاب بار کونسل کی وائس چیئرپرسن فرح اعجاز بیگ اور وفد کے ارکان نے ڈسکہ کے واقعہ میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ کی یقین دہانی کا شکریہ ادا کیا اورکہاکہ ہم انصاف او رقانون کی عملداری میں ان کے ساتھ ہیں۔صوبائی وزراء کرنل(ر) شجاع خانزادہ،میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان ،اراکین اسمبلی رانا ثناء اﷲ ،زعیم حسین قادری،منشاء اللہ بٹ،آصف باجوہ ،رانا محمد افضل ،چیف سیکرٹری ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان نصیر بھٹہ،انسپکٹر جنرل پولیس،سیکرٹری داخلہ اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں ممبرز پنجاب بار کونسل عبدالصمد خاں بسریا، اختر حسین بھٹی، رانا انتظار حسین، میاں فیض علی، رانا محمد سعید اختر، جلیل قیصر ناگرہ،جمیل اصغر بھٹی، محمد سعید بھٹہ، اویس اسلم سندھو، ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر نبی احمد باجوہ ، سیکرٹری ناصر گھمن اور دیگر عہدیداران شامل تھے۔ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں عوام کو صحت عامہ کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کیلئے ایک جامع پروگرام مرتب کیا گیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں پنجاب کے 10 اضلاع میں صحت عامہ کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا اور صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے صوبہ پنجاب میں صحت عامہ کی معیاری سہولتیں یقینی بنانے کیلئے مرحلہ وار جامع پروگرام پر عملدرآمد کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے وضع کردہ پروگرام پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے اور پروگرام پر عملدرآمد کیلئے ایک آزاد اور خود مختار ادارے کے قیام کا بھی جائزہ لیا جائے۔ وہ آج یہاں ویڈیو لنک کے ذریعے سول سیکرٹریٹ میں اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت سے کم نہیں۔ پنجاب حکومت صوبے میں صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے اربوں روپے صرف کر رہی ہے۔صحت عامہ کی معیاری سہولتوں کی بہتری کیلئے وسائل پہلے بھی دیئے، آئندہ بھی دیں گے۔ پنجاب کے 10 اضلاع میں صحت عامہ کی معیاری سہولتوں کی فراہمی میں نجی شعبہ کی شمولیت کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس پروگرام کو صوبے کے تمام اضلاع میں پھیلایا جائے گا۔ اس پروگرام پر عملدرآمد سے نہ صرف دیہی و بنیادی مراکز صحت بلکہ تحصیل و ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور مریضوں کو معیاری علاج معالجہ تک رسائی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس پروگرام پر عملدرآمد کیلئے تیز رفتاری سے کام کیا جائے اور مقرر کردہ مدت کے اندر 10 اضلاع میں صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے وضع کردہ پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی شمولیت کے ساتھ استعدادکار میں اضافے پر خصوصی توجہ دی جائے اورپروگرام کی مکمل مانیٹرنگ کا جامع میکانزم بھی مرتب کیا جائے۔ سیکرٹری صحت نے صوبے میں صحت عامہ کی سہولتوں میں بہتری لانے کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت خواجہ عمران نذیر، اراکین صوبائی اسمبلی رانا ثناء اللہ، عائشہ غوث پاشا، ڈاکٹر نادیہ عزیز،چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے (ڈیفڈ) کے نمائندے، متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت یہاں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2015-16 کیلئے مقرر کئے جانے والے ترقیاتی اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت صوبے کے عوام کی پائیدار ترقی و خوشحالی اور مستحکم معیشت کے اہداف کے حصول پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع کی ترقی اور خوشحالی کیلئے گزشتہ برسوں کی طرح آبادی کے تناسب سے زیادہ وسائل مختص کئے جائیں گے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت متوازن ترقی پر یقین رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ دیہی معیشت کی ترقی و خوشحالی ہماری ترجیحات میں شامل ہیں اورپسماندہ علاقوں میں بسنے والے افراد کی فلاح وبہبود کیلئے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں شروع کیے گئے ہیں اور ان منصوبوں کی تکمیل سے ان علاقوں میں بسنے والے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا اور انہیں جدید سہولتیں میسر آئیں گی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام محکمے اور ادارے ترقیاتی فنڈزکا شفاف انداز میں استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائیں کیونکہ وسائل صوبے کے عوام کی امانت ہیں،اسی لئے فلاح عامہ کے منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل انتہائی ضروری ہے تاکہ ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی سکیموں میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں۔ محکمے مقرر کردہ اہداف کے حصول کیلئے موثر اور فعال طریقے سے کام کریں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے متعلقہ محکموں کو سخت محنت اورپیشہ ورانہ انداز سے کام کرنا ہوگا۔پنجاب حکومت نے ترقیاتی حکمت عملی 2018 کا اعلان کیا ہے جس کے تحت معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔طے کردہ ترقیاتی حکمت عملی پر پوری طرح عملدرآمد کیا جائے گا اور مقررکردہ ترقیاتی اہداف کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈ زکے اجراء اور استعمال کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے نظام وضع کیا گیا ہے ۔ترقیاتی فنڈزکے بروقت اور مقررہ مدت کے اندر استعمال کرنیوالے متعلقہ افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ خراب کارکردگی پر بازپرس ہوگی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کی پالیسی پر سختی سے عملدر آمد یقینی بنایا جائے ۔ چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2015-16 کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

مزید : صفحہ اول