پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا عطائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا عطائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

یہ کیا بات ہے۔ کہ مجھے یہ ہی نہیں معلوم کہ میں جس کو ڈاکٹر سمجھ کر اپنے علاج کے لئے گیا ہوں وہ ڈاکٹر ہے بھی کہ نہیں۔ پنجاب حکومت نے ہیلتھ کئیر کمیشن کے تحت جعلی ڈاکٹروں یعنی عطائیوں کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ یہ عطائی کیا مسئلہ ہے جاننے کے لئے ہم پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان کے پاس پہنچے۔ مَیں نے پوچھا کہ یہ عطائی کیا مسئلہ ہے۔ کہنے لگے عطائی وہ ہے، جس کے پاس علاج کرنے کے لئے کوئی بھی مستند ڈگری نہیں ہے اور وہ بغیر ڈگری کے خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا ہے۔ ویسے تو ہر شعبہ کی طرح میدان صحت میں بھی صحیح اعداو شمار کا فقدان ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ پی ایم ڈی سی کے پاس بھی یہ اعدادو شمار نہیں ہے کہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں کتنے ڈاکٹر پریکٹس کر رہے ہیں۔ بس سب اندازوں کا معاملہ ہے، لیکن پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اب اس سب کا ڈیٹا تیار کر رہا ہے، جو آئندہ چند ہفتوں میں تیار ہو جائے گا،لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق پنجاب میں 25 سے 30 ہزار ڈاکٹر پرائیوٹ پریکٹس کر رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ زیادہ سنگین معاملہ یہ ہے کہ پنجاب میں اس وقت دو لاکھ ستر ہزار سے زائد عطائی پریکٹس کر کے لوگوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اجمل خان کا کہنا تھا کہ اگر آپ یہ فرض کریں کہ یہ ایک عطائی روزانہ بیس مریض تو دیکھتا ہو گا، جو کم از کم ہے۔ اس طرح پنجاب میں روزانہ اوسطاً (54) لاکھ لوگ اپنے علاج کے لئے عطائیوں کے پاس جاتے ہیں۔ اس طرح یہ تعداد ایک ماہ میں 16 کروڑ 20 لاکھ ہے، جبکہ پنجاب کی مجموعی آبادی دس کروڑ ہے۔

ڈاکٹر محمد اجمل خان کا کہنا تھا کہ عطائیت کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کی تیاری ہے اور ضلعی حکومتوں کی مدد سے ہم پورے پنجاب سے عطائیوں کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ایک مشکل کام ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس کسی بھی عطائی کوپکڑے جانے پر اسے دو لاکھ روپے جرمانے اور اس کا کلینک سیل کرنے کا اختیار ہے۔ مَیں نے کہا بس دو لاکھ دے کر وہ آزاد ہے۔ کافی نرم قانون نہیں۔ وہ خاموش ہوئے اور کہنے لگے نہیں پی ایم ڈی سی آرڈیننس کے تحت دو سال قید بھی ہے۔ مَیں نے کہا بس دو سال۔ وہ کہنے لگے دفعہ 420 بھی لگ جاتی ہے۔مَیں نے کہا وہ تو قابل ضمانت ہے۔ کہنے لگے قانون میں یہی سزا ہے۔مَیں نے کہا کہ عطائی کی سزا سات سال سے کم نہیں ہو نی چاہئے عطائیت تب ہی ختم ہو سکتی ہے۔ جب کسی جرم کی سزا نرم ہو تی ہے تو اس کو کرنے والے شیر ہو جاتے ہیں کہ سزا کم ہے۔ زیادہ سزا جرم کو سرزد ہونے سے روکتی ہے۔ وہ کہنے لگے ابھی تو قانون میں یہی سزا ہے تا ہم اس وقت گزشتہ چند دِنوں میں ہم نے 1500سے زائد عطائیوں کے خلاف چھاپہ مارا ہے اور ان میں سے اکثرئیت اس وقت جیل میں ہے، کیونکہ پی ایم ڈی سی آرڈیننس نا قابل ضمانت ہے۔ مَیں نے کہا کہ جتنی تعداد میں عطائی موجود ہیں ان کے سامنے یہ تعداد نہائت کم ہے۔ وہ کہنے لگے آپ یہ بھی تو مانیں کہ عطائی قیام پاکستان سے موجود ہیں اور آج تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ یہ پہلی بار ہے کہ حکومت پنجاب نے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت عطائیوں کے خلاف اپریشن شروع کیا ہے۔

بات چیت کو آگے بڑھاتے ہوئے مَیں نے ڈاکٹر محمد اجمل خان سے پوچھا کہ اگر پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اپریشن کیا جانا ہے تو اس کے لئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ایک بڑی فورس درکار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سپریم کورٹ کے لئے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ تمام ادارے اس کے ساتھ تعاون اور اس کا حکم ماننے کے پابند ہیں۔ با لکل اِسی طرح پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے قانون میں، جو پنجاب اسمبلی نے پاس کیا ہے صاف لکھا ہے کہ تمام ادارے اس کے ساتھ تعاون کے پابند ہیں۔ اِسی لئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہدائت پر پنجاب کے تمام اضلاع میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جا رہی ہیں جو ان عطائیوں کے خلاف اپریشن کرے گی۔ان تمام ٹاسک فورسز کی کارکردگی کو نہ صرف پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن مانیٹر کرے گا بلکہ ایک مرکزی ٹاسک فورس بھی ہوگی، جس کے سربراہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ہوں گے اور وہ بھی براہ راست عطائیوں کے خلاف اس اپریشن کی نگرانی کریں گے۔

ڈاکٹر محمد اجمل خان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ عطائی زیادہ تر کرائے کی جگہ پر اپنا کاروبار کرتے ہیں اور جب ہم ان کا کلینک یا ہسپتال سیل کرتے ہیں۔ تو مالک مکان کھلوانے آجاتے ہیں، لیکن اب ہم یہ بھی کرنے لگے ہیں کہ اگر کسی کرائے کی جگہ پر کوئی عطائی کاروبار کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس جگہ کے مالک مکان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مالک مکان کو اپنی جگہ کرائے پر دیتے ہوئے اس بات کا خاص دھیان کرنا چاہئے کہ اس کی جگہ کسی غلط کام کے لئے تو استعمال نہیں ہو رہی۔ مَیں نے کہا کہ یہ عطائی زیادہ تر گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں کام کرتے ہیں ، تو انہوں نے کہا کہ آپ کی بات کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق لاہور اور اس کے گرد و نواح میں 20ہزار سے زائد عطائی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک عطائی پر جب چھاپہ مارا گیا تو اس نے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں صوفوں کے درمیان ایک سٹریچر رکھ کر تھیٹر بنا رکھا تھا۔ اسی طرح سڑکوں پر بیٹھے دندان ساز بھی عطائی ہیں۔یہ دانت نکالنے کے ساتھ موت بانٹ رہے ہیں۔ ان کے خلاف بھی اپریشن عطائیوں کے خلاف اپریشن میں شامل ہے۔عطائیوں کے خلاف اپریشن خوش آئند ہے اور اس کی کامیابی کی صرف دُعا ہی کی جاسکتی ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...